Terrifying Nepal and Tibet floods caused by glacier eruptions: Destruction, scientific causes and latest updates

Terrifying Nepal and Tibet floods caused by glacier eruptions: Destruction, scientific causes and latest updates

نیپال اور تبت میں گلیشیئر پھٹنے سے ہولناک سیلاب: تباہی، سائنسی وجوہات اور تازہ ترین اپڈیٹس

نیپال سیلاب, Nepal flood science, Cascading hazard Nepal, Rock Ice Avalanche Nepal, Global warming Himalaya, Liquid Concrete Flow, GLOF Nepal, Nepal Hydropower damage, Glacial Lake Outburst Flood, Imja Tsho lake lowering, Early Warning System Nepal, Save the Himalayas, Loss and Damage Fund Nepal, Sherpa climate role, ICIMOD glacier monitoring, Black Carbon Himalayas

نیپال سیلاب کی سائنسی وجوہات، کیسکیڈنگ ہیزرڈ، GLOF کے خطرات، ہائیڈرو پاور پر اثرات اور ہمالیہ کو بچانے کی عالمی پالیسیوں کا تفصیلی جائزہ۔



نیپال کے پہاڑی سلسلے اور چینی خودمختار علاقے تبت میں ایک گلیشیئر کے پھٹنے (Glacier Collapse) سے آنے والے اچانک سیلاب (Flash Floods) نے وسیع پیمانے پر تباہی مچا دی ہے۔ سیٹلائٹ کی تصاویر اور تازہ ترین میڈیا رپورٹس کے مطابق، اس قدرتی آفت نے پلک جھپکتے ہی پورے کے پورے دیہات، سڑکیں اور اہم رابطہ پلوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا ہے۔
جانی و مالی نقصان کی تازہ ترین صورتحال
نیپال کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی رپورٹ کے مطابق، سیلاب کے نتیجے میں نیپال میں اب تک 579 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ 977 سے زائد افراد لاپتہ ہیں۔
دوسری جانب، چینی سرکاری میڈیا (Chinese State Media) کے مطابق، تبت کے علاقے میں بھی اس آفت نے کم از کم 5 افراد کی جان لی ہے، جس کے بعد دونوں ممالک میں مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 584 تک پہنچ گئی ہے۔ دونوں حکومتوں کے ڈیٹا کو یکجا کیا جائے تو اس وقت تقریباً 2,500 افراد لاپتہ ہیں۔
اس تباہی کی تصویری جھلکیاں اور بی بی سی کی لائیو رپورٹنگ دیکھنے کے لیے درج ذیل لنک پر کلک کریں:
بی بی سی لائیو ویڈیو رپورٹ دیکھیں
بڑے پیمانے پر ریسکیو آپریشن اور بین الاقوامی زائرین کی صورتحال



تباہی کے فوری بعد دونوں ممالک کی جانب سے ہنگامی بنیادوں پر امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئی ہیں:
فوج اور سکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی: تلاشی اور ریسکیو آپریشن کے لیے 14,000 سے زائد سکیورٹی اہلکار متحرک کیے جا چکے ہیں۔
کامیاب ریسکیو: مشکل ترین پہاڑی راستوں اور مواصلاتی نظام کی معطلی کے باوجود اب تک تقریباً 3,742 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔
بھارتی شہریوں اور زائرین کا ریسکیو: یہ حادثہ بدھ مت اور ہندو زائرین کے مقدس راستوں کے قریب پیش آیا۔ بھارتی وزارتِ خارجہ کے مطابق اب تک 84 بھارتی شہریوں کو بحفاظت نکال لیا گیا ہے، تاہم اب بھی کئی افراد لاپتہ ہیں۔ اس کے علاوہ کائلش مانسروور یاترا (Kailash Mansarovar Yatra) پر جانے والے تقریباً 100 بھارتی نژاد افراد ایسے ہیں جن سے تاحال رابطہ قائم نہیں ہو سکا ہے، کیونکہ ان کے پاس دیگر ممالک کی شہریت ہے۔
این ڈی ٹی وی (NDTV) کی اس ویڈیو رپورٹ میں ریسکیو کی تفصیلات دیکھی جا سکتی ہیں:



نیپال سیلاب کی سائنسی وجوہات (Cascading Hazard)

نیپال اور تبت کے سرحدی علاقے میں آنے والے اس حالیہ تباہ کن نیپال سیلاب کی سائنسی وجوہات روایتی سیلابوں (جیسے بادل پھٹنے یا شدید برسات) سے بالکل مختلف ہیں۔ سائنسی ماہرین اور بین الاقوامی اداروں (جیسے ICIMOD اور USGS) کی سیٹلائٹ رپورٹس کے مطابق، یہ ایک "کیسکیڈنگ ہیزرڈ" (Cascading Hazard یعنی ایک کے بعد ایک جڑے واقعات کا سلسلہ) تھا۔

1. گلیشیئر اور چٹان کا مشترکہ گرنا (Rock-Ice Avalanche)

سائنسی تجزیے کے مطابق ماؤنٹ لانگ ٹانگ لیرونگ پر 5,200 میٹر کی بلندی سے ایک بہت بڑا گلیشیئر (جس کی چوڑائی تقریباً 2,000 فٹ تھی) چٹان کے ایک بڑے حصے (Bedrock) کے ساتھ ٹوٹ کر نیچے گرا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صرف برف نہیں تھی، بلکہ یہ چٹان اور گلیشیئر کا ایک مشترکہ لینڈ سلائیڈ تھا جس نے اپنے ساتھ لاکھوں کیوبک میٹر برف، ملبہ اور وزنی پتھر سمیٹ لیے۔

2. زلزلے جیسے جھٹکے (Seismic Signal)

جب یہ لاکھوں ٹن وزنی ملبہ اور برف 7,000 فٹ کی بلندی سے انتہائی تیز رفتاری سے نیچے وادی کی تہہ سے ٹکرایا، تو زمین میں 5.2 شدت کے زلزلے جیسے جھٹکے ریکارڈ کیے گئے۔ نیپالی حکام نے ابتدائی طور پر اسے زلزلہ سمجھا تھا، لیکن امریکی جیولوجیکل سروے (USGS) نے تصدیق کی کہ یہ جھٹکے کسی قدرتی زلزلے کے نہیں بلکہ گلیشیئر کے اتنی بلندی سے گرنے کے شدید اثر (Impact) کی وجہ سے پیدا ہوئے تھے۔

سائنسی وجوہات کو سمجھنے کے لیے بی بی سی (BBC) کی تیار کردہ یہ اینیمیشن ویڈیو دیکھیں:



3. حرارتی توانائی اور پگھلاؤ (Kinetic to Thermal Energy)

سائنسدانوں کے مطابق اتنی بلندی سے گرنے والے ملبے میں زبردست حرکتی توانائی (Kinetic Energy) پیدا ہوئی۔ جب یہ مواد نیچے گرا تو رگڑ اور دباؤ کی وجہ سے پیدا ہونے والی حرارت (Heat) نے گلیشیئر کی برف کو سیکنڈوں میں پگھلا کر پانی میں تبدیل کر دیا۔ اس پانی نے پہاڑی ندیوں (Lhende Khola اور Bhote Koshi) کے راستوں کو عارضی طور پر بلاک کیا اور پھر ایک دم دباؤ ٹوٹنے پر 8 سے 10 میٹر (تقریباً 30 فٹ) اونچی خوفناک سیلابی لہر کی شکل اختیار کر لی۔

4. مائع کنکریٹ جیسا بہاؤ (Liquid Concrete Flow)

چینی ماہرِ ارضیات کے مطابق، یہ نیپال سیلاب عام پانی نہیں تھا بلکہ یہ 50 میٹر فی سیکنڈ (تقریباً 180 کلومیٹر فی گھنٹہ) کی رفتار سے بہنے والا مٹی، باریک ریت، لکڑی اور پتھروں کا ایک ایسا گاڑھا مکسچر تھا جسے سائنسدان "مائع کنکریٹ" (Liquid Concrete) سے تشبیہ دے رہے ہیں۔ اس کی کثافت اور رفتار اتنی زیادہ تھی کہ راستے میں آنے والے ہائیڈرو الیکٹرک ڈیم اور کنکریٹ کے مکانات اس کا دباؤ برداشت نہ کر سکے۔

5. ماحولیاتی تبدیلی اور جغرافیائی ساخت (Tectonics & Climate Change)

جغرافیائی ساخت (Tectonic Movement): ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے زمین کی اندرونی پلیٹوں کے ٹکرانے کی وجہ سے مسلسل اوپر کی طرف اٹھ رہے ہیں، جس سے پہاڑوں کی ڈھلوانیں وقت کے ساتھ ساتھ مزید عمودی اور خطرناک (Steep) ہوتی جا رہی ہیں اور ان پر موجود گلیشیئرز کا توازن بگڑ رہا ہے۔
گلوبل وارمنگ (درجہ حرارت میں اضافہ): ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے ہمالیہ کے گلیشیئرز گزشتہ دہائیوں کے مقابلے میں 65 فیصد زیادہ تیزی سے پگھل رہے ہیں۔ درجہ حرارت بڑھنے سے گلیشیئرز کے نچلے حصے کمزور ہو جاتے ہیں اور وہ پہاڑ کی گرفت چھوڑ کر اچانک پورے کے پورے گر جاتے ہیں۔


الجزیرہ (Al Jazeera) کی جاری کردہ قبل اور بعد (Before and After) کی سیٹلائٹ رپورٹ دیکھنے کے لیے نیچے لنک پر کلک کریں:
الجزیرہ سیٹلائٹ ویڈیو دیکھیں

برفانی جھیلوں کے پھٹنے کے نئے خطرات (GLOF)

نیپال کے پاس 2,000 سے زائد برفانی جھیلیں موجود ہیں جن میں سے 21 کو پہلے ہی انتہائی خطرناک قرار دیا جا چکا ہے۔ حالیہ واقعے نے ان جھیلوں کے پھٹنے (Glacial Lake Outburst Flood - GLOF) کے خطرات کو کئی گنا بڑھا دیا ہے:

عارضی بیریئر جھیلوں (Barrier Lakes) کا بننا: گلیشیئر کے گرنے سے وادی میں بہنے والی ندیوں کے راستے بند ہو گئے ہیں اور بڑے پیمانے پر ملبے نے ندی کا راستہ روک کر ایک نئی عارضی جھیل بنا دی ہے۔ یہ عارضی جھیلیں کسی بھی وقت ٹوٹ کر دوبارہ اچانک اور شدید سیلاب (Tsunami from the sky) کا باعث بن سکتی ہیں۔
مورین ڈیموں (Moraine Dams) کا کمزور ہونا: ہمالیہ کی زیادہ تر برفانی جھیلیں مٹی، پتھروں اور ڈھیلی برف کے قدرتی ڈیموں کے پیچھے بنتی ہیں۔ گلیشیئر کے گرنے کے شدید جھٹکوں نے پرانی جھیلوں کے قدرتی ڈیموں میں دراڑیں ڈال دی ہیں۔
سپرگلیشیئل جھیلوں (Supraglacial Lakes) کا دھماکہ خیز بہاؤ: گلوبل وارمنگ کی وجہ سے گلیشیئرز کے اوپر جمع پانی کی چھوٹی جھیلیں ("ہائی ایلٹیٹیوڈ واٹر بمبز") گلیشیئر کے گرنے سے ایک زنجیر کی طرح ایک کے بعد ایک پھٹتی چلی جاتی ہیں۔

ہائیڈرو پاور (پن بجلی) پر طویل مدتی ماحولیاتی اور معاشی اثرات

نیپال اپنی بجلی کی پیداوار کے لیے مکمل طور پر ہمالیہ سے نکلنے والے دریاؤں پر بننے والے پن بجلی منصوبوں (Hydropower Corridor) پر انحصار کرتا ہے۔ اس نیپال سیلاب نے اس پورے شعبے کو شدید متاثر کیا ہے:

بنیادی ڈھانچے کی تباہی: اس سیلاب نے صرف ایک صبح میں 405 میگاواٹ کی پیداواری صلاحیت سے جڑے 6 بڑے ہائیڈرو پاور اور ٹرانسمیشن پلانٹس کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
سلٹیشن اور گاد (Siltation & Sedimentation): سیلاب کا پانی اپنے ساتھ لاکھوں ٹن باریک مٹی، ریت اور پتھر بہا کر لایا ہے جو آنے والے کئی سالوں تک ڈیموں کے ذخائر میں جمع رہے گا اور پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش کم کر دے گا۔
سرمایہ کاری کا ڈوبنا اور توانائی کا بحران: اربوں ڈالر کے ان منصوبوں کی تباہی سے نیپال طویل مدتی توانائی کے بحران کا شکار ہو سکتا ہے۔
مستقبل کے منصوبوں پر پالیسی کی تبدیلی: ماہرینِ ماحولیات اب حکومت پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ نازک ہمالیائی ماحولیاتی نظام میں بڑے ڈیم بنانے کی پالیسی پر نظرثانی کرے۔

مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کے لیے تدارکی اقدامات

1. برفانی جھیلوں کو خالی کرنا (Glacial Lake Lowering)
جھیل کے قدرتی ڈیم میں انجینئرڈ چینلز یا پائپ لائنز بنا کر پانی کو محفوظ طریقے سے بہایا جاتا ہے۔ نیپال نے ماضی میں اپنی خطرناک جھیل امجا چیو (Imja Tsho) کے پانی کی سطح کو اسی طریقے سے کم کیا تھا۔ علاوہ ازیں، سائپھن ٹیکنالوجی (Siphoning) کا بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔

2. سیٹلائٹ اور اے آئی پر مبنی ارلی وارننگ سسٹمز
خطرناک برفانی جھیلوں پر خودکار سینسرز (Automated Water Level Sensors) اور دیہاتوں میں خودکار کمیونٹی سائرنز (Siren Towers) لگائے گئے ہیں تاکہ مقامی آبادی کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کا وقت مل سکے۔

3. ماحولیاتی استحکام پر مبنی ڈیم ماڈل
اب ڈیم ڈیزائن کرتے وقت GLOF Modelling کے ذریعے بدترین منظرنامے کو پرکھا جاتا ہے اور حساس پاور ہاؤسز کو کھلی وادی کے بجائے پہاڑوں کے اندر سرنگوں (Underground Caverns) میں نصب کیا جا رہا ہے۔

4. ہمالیائی خطے کا مشترکہ ڈیٹا نیٹ ورک
تبت کی سرحد پر موجود گلیشیئرز کی ڈرون تصاویر اور سیٹلائٹ ڈیٹا چین اب نیپال کے ساتھ فوری شیئر کر رہا ہے تاکہ وقت سے پہلے الرٹ جاری کیا جا سکے۔

ہمالیہ کو بچانے کے عالمی اقدامات اور پالیسیاں

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اگر عالمی درجہ حرارت کو 1.5 ڈگری سیلسیس تک محدود نہ رکھا گیا، تو ہمالیہ کے 33% گلیشیئرز اس صدی کے آخر تک ختم ہو جائیں گے۔ اس کے تحفظ کے لیے درج ذیل اقدامات جاری ہیں:

ہمالیائی گرین فنڈ اور بین الاقوامی مالی امداد: پیرس معاہدے اور اقوام متحدہ کے COP کے تحت Loss and Damage Fund اور Carbon Credits کا نظام قائم کیا گیا ہے۔
سائنسی اتحاد (ICIMOD کا کردار): ہمالیائی گلیشیئر مانیٹرنگ نیٹ ورک اور گلیشیئرز پر جمنے والے کالی راکھ (Black Carbon) کو روکنے کے لیے پالیسیاں۔
ماؤنٹین ایکو ٹورازم: ماؤنٹ ایوریسٹ اور حساس علاقوں میں Single-use plastic پر پابندی اور سیاحوں پر ماحولیاتی ٹیکس۔
ہائی الٹیٹیوڈ شجرکاری: پہاڑوں کی ڈھلوانوں پر گہری جڑ والے درخت لگا کر مٹی کی پکڑ مضبوط بنانا۔

نیپال میں لاس اینڈ ڈیمیج فنڈ اور شیرپا برادری کا کردار

الف) لاس اینڈ ڈیمیج فنڈ (Loss and Damage Fund)
نیپال عالمی گرین ہاؤس گیسوں میں 0.1 فیصد سے بھی کم حصہ ڈالتا ہے، مگر شدید ترین اثرات کا شکار ہے۔ یہ فنڈ نیپال جیسے ملک کو سیلاب کے بعد ہسپتالوں کی تعمیر نو، ڈیموں اور متاثرین کی فوری مالی امداد کے لیے بلا سود گرانٹس (Grants) فراہم کرتا ہے۔


ب) نیپال میں شیرپا (Sherpa) برادری کا ماحولیاتی کردار
گلیشیئرز کے نگہبان: شیرپا لوگ سائنسی سینسرز کی تنصیب اور برف میں آنے والی تبدیلیوں کی فوری شناخت میں ماہرین کی مدد کرتے ہیں۔
ایوریسٹ صفائی مہم: ایکو ایوریسٹ ایکسپڈیشن جیسے پروگراموں کے تحت بلندیوں سے ٹنوں کچرا اور آکسیجن سلنڈر نیچے لائے جاتے ہیں۔
مقامی موافقت (Local Adaptation): شیرپا برادری حکومت کے ساتھ مل کر برفانی جھیلوں کو خالی کرنے اور حفاظتی بند تعمیر کرنے میں فرنٹ لائن کا کردار ادا کر رہی ہے۔

سرچ کئے جانے والے موضوعات: نیپال سیلاب, Nepal flood science, Cascading hazard Nepal, Rock Ice Avalanche Nepal, Global warming Himalaya, Liquid Concrete Flow, GLOF Nepal, Nepal Hydropower damage, Glacial Lake Outburst Flood, Imja Tsho lake lowering, Early Warning System Nepal, Save the Himalayas, Loss and Damage Fund Nepal, Sherpa climate role, ICIMOD glacier monitoring, Black Carbon Himalayas