ہمالیہ کو بچانے کے عالمی اقدامات، لاس اینڈ ڈیمیج فنڈ اور شیرپا (Sherpa)برادری کا ماحولیاتی کردار
ہمالیہ کو گلوبل وارمنگ سے بچانے کی بین الاقوامی پالیسیاں، نیپال (Nepal)کو لاس اینڈ ڈیمیج فنڈ کی اہمیت اور شیرپا برادری کے فرنٹ لائن ماحولیاتی کردار کا تفصیلی جائزہ۔گلوبل وارمنگ اور موسمیاتی تبدیلی (Climate Change) کے ہمالیہ پر اثرات کو روکنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر اب "Save the Himalayas" کو ایک عالمی ترجیح مانا جا رہا ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اگر عالمی درجہ حرارت کو صنعتی دور سے پہلے کے مقابلے میں 1.5 ڈگری سیلسیس تک محدود نہ رکھا گیا، تو ہمالیہ کے ایک تہائی (33%) گلیشیئرز اس صدی کے آخر تک ختم ہو جائیں گے۔
اس بڑے خطرے سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی اور علاقائی سطح پر درج ذیل اہم ترین پالیسیاں اور اقدامات اپنائے جا رہے ہیں:
1. "ہمالیائی گرین فنڈ" اور بین الاقوامی مالی امداد (Climate Finance)
پیرس ماحولیاتی معاہدے (Paris Agreement) اور اقوام متحدہ کی موسمیاتی کانفرنسوں (COP) کے تحت نیپال، پاکستان اور بھوٹان جیسے پہاڑی ممالک کو عالمی ماحولیاتی فنڈز سے امداد دی جا رہی ہے:
• لاس اینڈ ڈیمیج فنڈ (Loss and Damage Fund): اس فنڈ کا مقصد ان غریب ممالک کی مالی مدد کرنا ہے جو خود گرین ہاؤس گیسیں پیدا نہیں کرتے لیکن عالمی درجہ حرارت بڑھنے کی وجہ سے گلیشیئر پگھلنے اور سیلاب جیسے بدترین نقصانات کا سامنا کر رہے ہیں۔
• کاربن کریڈٹس (Carbon Credits): نیپال اور بھوٹان کو اپنے جنگلات کو برقرار رکھنے اور کاربن جذب کرنے کے عوض عالمی سطح پر مالی معاوضہ دیا جا رہا ہے تاکہ وہ اس رقم کو گلیشیئرز کی حفاظت پر خرچ کر سکیں۔
2. ہمالیائی ملکوں کا سائنسی اتحاد (ICIMOD کا کردار)
کاٹھمنڈو میں قائم بین الاقوامی ادارہ ICIMOD (انٹرنیشنل سینٹر فار انٹیگریٹڈ ماؤنٹین ڈیولپمنٹ) آٹھ ہمالیائی ممالک (بشمول نیپال، چین، بھارت، پاکستان اور افغانستان) کے درمیان ایک سائنسی پُل کا کام کر رہا ہے:
• ہمالین گلیشیئر مانیٹرنگ نیٹ ورک: اس نیٹ ورک کے تحت سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کے ذریعے ہمالیہ کے ہندو کش سلسلے کے تمام بڑے گلیشیئرز کی صحت اور ان کے پگھلنے کی رفتار کا روزانہ کی بنیاد پر مشترکہ جائزہ لیا جاتا ہے۔
• بلیک کاربن (Black Carbon) پر پابندی: گاڑیوں کے دھوئیں اور فیکٹریوں سے نکلنے والی کالی راکھ (Black Carbon) جب اڑ کر گلیشیئرز کی سفید برف پر جمتی ہے، تو وہ سورج کی گرمی کو زیادہ جذب کرتی ہے جس سے برف تیزی سے پگھلتی ہے۔ بین الاقوامی پالیسی کے تحت ہمالیہ کے قریبی علاقوں میں کوئلے کے استعمال اور اینٹوں کے بھٹوں پر سخت پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں۔
3. ماؤنٹین ایکو ٹورازم اور پلاسٹک پر پابندی (Eco-Tourism Policies)
دنیا بھر سے آنے والے کوہ پیما اور سیاح ہمالیہ کے ماحول کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں، جس کے لیے اب سخت بین الاقوامی قوانین لاگو کیے جا رہے ہیں:
• زیرو ویسٹ زونز (Zero-Waste Zones): ماؤنٹ ایوریسٹ اور لانگ ٹانگ جیسے حساس گلیشیائی علاقوں میں سنگل یوز پلاسٹک (Single-use plastic) لے جانے پر مکمل پابندی لگائی جا رہی ہے۔
• سیاحوں پر ماحولیاتی ٹیکس: نیپال آنے والے غیر ملکی کوہ پیماؤں سے ایک خاص "ماحولیاتی فیس" لی جاتی ہے جو خصوصی طور پر ان پہاڑی علاقوں کی صفائی اور گلیشیئرز کے تحفظ پر مامور مقامی "شیرپا" برادری پر خرچ ہوتی ہے۔
4. ہائی الٹیٹیوڈ شجرکاری (High-Altitude Afforestation)
پہاڑوں کی ڈھلوانوں کو مضبوط بنانے اور درجہ حرارت کو مقامی سطح پر کم رکھنے کے لیے بڑے پیمانے پر درخت لگانے کی پالیسی اپنائی گئی ہے:
• مٹی کی پکڑ مضبوط کرنا: ہمالیہ کے نچلے حصوں میں ایسے مقامی درخت اور جھاڑیاں اگائی جا رہی ہیں جن کی جڑیں گہری ہوتی ہیں۔ یہ جڑیں پہاڑی مٹی کو جکڑ کر رکھتی ہیں، جس سے گلیشیئر گرنے کی صورت میں مٹی کے بڑے تودے (Landslides) نیچے نہیں آتے اور نیپال سیلاب کی شدت کم ہو جاتی ہے۔
نیپال میں لاس اینڈ ڈیمیج فنڈ اور شیرپا برادری کا ماحولیاتی کردار
ہمالیہ کے گلیشیئرز کو گلوبل وارمنگ سے بچانے اور حالیہ سیلاب جیسے نقصانات سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی فنڈنگ اور مقامی آبادی کی مشترکہ کوششیں سب سے اہم ہتھیار بن چکی ہیں۔
الف) لاس اینڈ ڈیمیج فنڈ (Loss and Damage Fund) اور نیپال کو امداد
اقوام متحدہ کی ماحولیاتی کانفرنسوں (COP) کے تحت قائم ہونے والا Loss and Damage Fund بین الاقوامی ماحولیاتی سیاست میں ایک تاریخی پیش رفت ہے۔
• فنڈ کا بنیادی مقصد: یہ فنڈ دنیا کے ان غریب اور ترقی پذیر ممالک کے لیے بنایا گیا ہے جو عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں نہ ہونے کے برابر (نیپال کا حصہ 0.1 فیصد سے بھی کم ہے) حصہ ڈالتے ہیں، لیکن گلوبل وارمنگ کی وجہ سے سب سے زیادہ قدرتی آفتوں کا شکار ہو رہے ہیں۔
• نیپال کے لیے اس کی اہمیت: نیپال جیسے پہاڑی ملک کے پاس اتنے مالی وسائل نہیں ہیں کہ وہ گلیشیئر پھٹنے سے تباہ ہونے والے اربوں ڈالر کے ہائیڈرو پاور ڈیمز، سڑکیں اور پورے کے پورے دیہات دوبارہ آباد کر سکے۔ یہ فنڈ نیپال کو سیلاب کے بعد فوری بحالی، ہسپتالوں کی تعمیر نو اور متاثرہ خاندانوں کی مالی امداد کے لیے بلا سود گرانٹس (Grants) فراہم کرتا ہے۔
• مستقبل کا لائحہ عمل: نیپال بین الاقوامی فورمز پر مسلسل یہ مطالبہ کر رہا ہے کہ اس فنڈ سے رقم کے حصول کے طریقہ کار کو آسان بنایا جائے تاکہ حالیہ سیلاب جیسی ہنگامی صورتحال میں امداد مہینوں کے بجائے دنوں میں متاثرہ علاقوں تک پہنچ سکے۔
ب) نیپال میں شیرپا (Sherpa) برادری کا ماحولیاتی کردار
"شیرپا" نیپال کے ہمالیائی خطے میں رہنے والی ایک مقامی بدھ مت برادری ہے، جو اپنی ناقابل یقین جسمانی طاقت اور کوہ پیمائی کی مہارت کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ آج کے دور میں یہ برادری ہمالیہ کے تحفظ کے لیے فرنٹ لائن فورس کا کردار ادا کر رہی ہے:
• گلیشیئرز کے نگہبان (Guardians of Glaciers): شیرپا لوگ نسل در نسل ان پہاڑوں میں رہ رہے ہیں، اس لیے وہ سائنسی آلات کے بغیر بھی گلیشیئرز میں آنے والی معمولی تبدیلیوں یا برف کی کمزور ہوتی ہوئی تہوں کو بھانپ لیتے ہیں۔ وہ غیر ملکی سائنسدانوں کے لیے گائیڈ کا کام کرتے ہیں اور خطرناک ترین بلندیوں پر جا کر سائنسی سینسرز نصب کرنے میں مدد کرتے ہیں۔
• ایوریسٹ اور گلیشیئرز کی صفائی مہم: ہر سال کوہ پیمائی کے سیزن کے بعد شیرپا برادری کی قیادت میں
ایکو ایوریسٹ ایکسپڈیشن جیسی مہمات چلائی جاتی ہیں۔ یہ لوگ مائنس ڈگری درجہ حرارت میں بلندیوں سے ٹنوں کے حساب سے پلاسٹک، خالی آکسیجن سلنڈر اور کچرا نیچے لاتے ہیں، جو گلیشیئرز کو پگھلنے سے روکنے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔• مقامی موافقت (Local Adaptation): شیرپا لوگ اب اپنے دیہاتوں کو سیلاب کے خطرات سے بچانے کے لیے روایتی طریقوں کے بجائے جدید انجینئرنگ سیکھ رہے ہیں۔ وہ حکومت کے ساتھ مل کر برفانی جھیلوں کا پانی کم کرنے (Lake Lowering) اور ندیوں کے کنارے حفاظتی بند باندھنے میں سب سے آگے ہوتے ہیں۔
سرچ کئے جانے والے موضوعات: Save the Himalayas, Loss and Damage Fund Nepal, Sherpa climate role, ICIMOD glacier monitoring, Black Carbon Himalayas, نیپال سیلاب


