تعلیمی اداروں پر غیر ملکی طلبہ کو داخلہ دینے پر مکمل پابندی (Ban on International Students) عائد
برطانیہ کے تعلیمی نظام، ہائر ایجوکیشن سیکٹر اور بین الاقوامی طلبہ کے لیے جون 2026 کے آغاز میں ہوم آفس (Home Office) کی جانب سے ایک انتہائی سخت اور دور رس نتائج کی حامل پالیسی سامنے آئی ہے۔ تازہ ترین رپورٹس کے مطابق، برطانوی حکومت نے ویزا قوانین کے غلط استعمال اور پناہ گزینی کے بڑھتے ہوئے کیسز کو روکنے کے لیے برطانوی یونیورسٹیوں کے خلاف ایک تاریخی کریک ڈاؤن کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے تعلیمی اداروں پر غیر ملکی طلبہ کو داخلہ دینے پر مکمل پابندی (Ban on International Students) عائد کی جا سکتی ہے۔
برطانوی حکومت کی آفیشل پریس ریلیز (GOV.UK News) کے مطابق، ہوم آفس نے واضح کیا ہے کہ کئی جامعات طلبہ کے اسٹڈی ویزا کو برطانیہ میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے اور بعد میں اسائلم یا پناہ گزینی (Asylum) کے حصول کے لیے ایک آسان راستے کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت دے رہی ہیں۔ نئی دستاویزات کے مطابق، اب ان یونیورسٹیوں کو سخت مانیٹرنگ کا سامنا کرنا پڑے گا جن کے بین الاقوامی طلبہ اپنی تعلیم ادھوری چھوڑ کر پناہ کی درخواستیں دائر کر دیتے ہیں یا ویزا کی مدت ختم ہونے کے بعد روپوش ہو جاتے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ویزا کے اس منظم استحصال اور غلط استعمال (Visa Abuse) کو کسی بھی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔
معروف اخبار دی انڈیپینڈنٹ (The Independent) اور افریقی میڈیا نیٹ ورک دی کیبل کی خصوصی رپورٹس کے مطابق، ان نئے امیگریشن رولز کے نفاذ سے برطانیہ کی صفِ اول کی کئی یونیورسٹیاں شدید دباؤ اور خطرے کی زد میں آ گئی ہیں (UK Universities Risk Ban). نائیجیریا، پاکستان اور بھارت جیسے ممالک سے ہر سال لاکھوں طلبہ اعلیٰ تعلیم کے لیے یوکے کا رخ کرتے ہیں، جو ان برطانوی جامعات کے لیے ریونیو اور فنڈز کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں۔ برطانوی تعلیمی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومت نے یونیورسٹیوں پر بین الاقوامی طلبہ کی بھرتی کرنے پر پابندی لگائی، تو برطانوی ہائر ایجوکیشن کا پورا معاشی ڈھانچہ بیٹھ جائے گا اور کئی یونیورسٹیاں دیوالیہ ہونے کے دہانے پر پہنچ جائیں گی۔
جون 2026 میں برطانوی حکومت کا یہ نیا امیگریشن آرڈر یوکے میں مقیم اور وہاں آنے کے خواہش مند غیر ملکی طلبہ کے لیے ایک بڑا دھچکا بن کر ابھرا ہے۔ یہ سخت پالیسی یہ ظاہر کرتی ہے کہ برطانوی حکومت نیٹ مائیگریشن (Net Migration) کو کم کرنے کے لیے اپنے سب سے بڑے تعلیمی شعبے پر بھی سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ برطانوی یونیورسٹیاں ہوم آفس کی ان سخت شرائط کو پورا کرنے کے لیے اپنے داخلے کے طریقہ کار میں کیا تبدیلیاں لاتی ہیں اور اس فیصلے کا ایشیائی طلبہ کے ویزا کی شرح پر آنے والے مہینوں میں کیا گہرا اثر مرتب ہوتا ہے۔

