ڈرائیوروں اور عام صارفین کے لیے پٹرول کی قیمتوں کو ایک نئے تاریخی ریکارڈ
عالمی توانائی مارکیٹ، بین الاقوامی تجارتی راہداریوں اور پٹرولیم سیکٹر سے جون 2026 کے آغاز میں پٹرول کی قیمتوں میں ایک نئے اور ہولناک اضافے کی تشویشناک خبریں سامنے آئی ہیں۔ تازہ ترین معاشی رپورٹس کے مطابق، امریکی ریفائنریز میں ہونے والی چند تزویراتی تبدیلیاں اور مشرقِ وسطیٰ کے جیو پولیٹیکل حالات اس موسمِ گرما میں ڈرائیوروں اور عام صارفین کے لیے پٹرول کی قیمتوں کو ایک نئے تاریخی ریکارڈ پر لے جا سکتے ہیں، جس سے عالمی سطح پر مہنگائی کا ایک نیا طوفان آنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔
معروف فنانشل جریدے مارکیٹ واچ (MarketWatch) کی خصوصی رپورٹ کے مطابق، اگرچہ اس وقت بھی پٹرول کی قیمتیں کافی زیادہ ہیں، لیکن امریکی ریفائنریز میں ہونے والی ایک خاموش تبدیلی (Quiet Shift at U.S. Refineries) آنے والے دنوں میں صورتحال کو مزید سنگین بنا دے گی۔ ریفائنریز نے منافع کے مارجن کو برقرار رکھنے کے لیے پٹرولیم مصنوعات کے مکس میں تبدیلیاں کی ہیں اور پیداواری صلاحیت کو دیگر فیولز کی طرف منتقل کیا ہے، جس کی وجہ سے پٹرول کی سپلائی لائن متاثر ہو رہی ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ اندرونی تبدیلی امریکہ اور عالمی مارکیٹ میں "ایک انتہائی تکلیف دہ سمر" (Painful Summer) کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے، جہاں سپلائی ڈیمانڈ کا توازن بری طرح بگڑ جائے گا۔
اس بحران کی سنگینی پر مہر لگاتے ہوئے بلومبرگ (Bloomberg) نے دنیا کے سب سے بڑے آزاد تیل تاجر 'وائٹل گروپ' (Vitol) کی ایک بڑی وارننگ جاری کی ہے۔ وائٹل کے مطابق، پٹرول اگلا وہ ایندھن ہو سکتا ہے جسے عالمی سطح پر شدید سپلائی کرینچ (Gasoline Could Be Next Fuel to Face Supply Crunch) کا سامنا کرنا پڑے۔ اسی وقت، ڈبلیو ایف ایس بی (WFSB News) کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے ساتھ بین الاقوامی جوہری اور اقتصادی مذاکرات میں اچانک آنے والے تعطل (Iran Negotiations Stall) نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے، جس کے بعد توانائی کے ماہرین نے ڈرائیوروں اور کمپنیوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ قیمتیں مزید بڑھنے سے پہلے اپنے فیول ٹینک فوری طور پر بھر لیں، کیونکہ سپلائی میں کمی کا یہ خطرہ اب حقیقت بنتا جا رہا ہے۔
petrol price change forecast
جون 2026 میں عالمی توانائی کے افق پر بننے والے یہ بادل اس بات کی واضح عکاسی کرتے ہیں کہ پٹرولیم مارکیٹ اس وقت انتہائی نازک موڑ پر کھڑی ہے۔ ریفائنریز کی اندرونی پالیسیوں اور سفارتی تعطل کے اس گٹھ جوڑ نے پٹرول کی سپلائی کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔ اگر اوپیک (OPEC) پلس ممالک یا عالمی طاقتوں نے سپلائی کو متوازن کرنے کے لیے فوری اقدامات نہ کیے، تو اس موسمِ گرما میں پٹرول کی قیمتوں میں ہونے والا یہ اضافہ نہ صرف مغربی ممالک بلکہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کی معیشتوں اور پٹرول کی قیمتوں پر بھی انتہائی منفی اور بوجھل اثرات مرتب کرے گا۔

