Turkiye Foreign Minister Hakan Fidan Clarifies Stance on India-Pakistan Ties

Turkiye Foreign Minister Hakan Fidan Clarifies Stance on India-Pakistan Ties

دنیا کے بہت سے ممالک  جو پاکستان کے ساتھ بہترین اور گہرے تعلقات قائم رکھے ہوئے ہیں

بین الاقوامی سیاست اور مشرقِ وسطیٰ و جنوبی ایشیا کے سفارتی حلقوں سے جون 2026 کے آغاز میں ایک انتہائی اہم اور تزویراتی (Strategic) تبدیلی کی خبر سامنے آئی ہے۔ تازہ ترین کوریج کے مطابق، ترکیہ کے وزیرِ خارجہ ہاکان فیدان (Hakan Fidan) نے بھارت اور پاکستان کے ساتھ انقرہ کے دوطرفہ تعلقات پر ایک تفصیلی اور متوازن سفارتی بیان جاری کیا ہے، جس نے عالمی پریس اور دفاعی تجزیہ کاروں کی توجہ حاصل کر لی ہے۔

Turkiye Foreign Minister Hakan Fidan Clarifies Stance on India-Pakistan Ties

بھارتی میڈیا ہاؤس نو بھارت ٹائمز (Navbharat Times) کی خصوصی رپورٹ کے مطابق، ترکیہ اب روایتی خارجہ پالیسی سے ہٹ کر بھارت کے ساتھ اپنے تعلقات کو معمول پر لانے اور معاشی روابط کو تیز کرنے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ ترکیہ پہلی بار 'آپریشن سندور' (Operation Sindoor) کے بعد سے نئی دہلی کے ساتھ اپنے تعلقات کو مستحکم کرنے اور اسے پاکستان کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات سے الگ (Decouple) رکھ کر دیکھنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔ اس کا بنیادی مقصد ہندوستان کی بڑی معاشی مارکیٹ تک رسائی حاصل کرنا اور دفاعی و تجارتی شعبوں میں نئے معاہدوں کو فروغ دینا ہے۔


دوسری طرف، اے بی پی لائیو اور لائیو ہندوستان (Live Hindustan) کی رپورٹس کے مطابق، ترک وزیرِ خارجہ ہاکان فیدان نے ان قیاس آرائیوں پر انقرہ کا واضح اور دوٹوک مؤقف پیش کیا ہے۔ انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ دنیا کے بہت سے ممالک ایسے ہیں جو پاکستان کے ساتھ بہترین اور گہرے تعلقات قائم رکھے ہوئے ہیں اور اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ وہ بھارت کے ساتھ تعلقات قائم نہیں رکھ سکتے۔ ترک وزیرِ خارجہ نے واضح کیا کہ پاکستان کے ساتھ ترکیہ کے تاریخی، برادرانہ اور تزویراتی تعلقات اپنی جگہ چٹان کی طرح مضبوط ہیں، لیکن ترکیہ ایک آزاد خارجہ پالیسی کے تحت خطے میں توازن برقرار رکھنے کے لیے بھارت کے ساتھ بھی اپنے معاشی اور سفارتی دائرہ کار کو وسعت دینا چاہتا ہے۔


 ترکیہ کی یہ نئی خارجہ پالیسی جنوبی ایشیا کے جیو پولیٹیکل منظر نامے میں ایک بڑا ٹرینگ پوائنٹ ثابت ہو رہی ہے۔ ہاکان فیدان کا یہ بیان یہ واضح کرتا ہے کہ انقرہ اب بلاک پولیٹکس کے بجائے کثیر جہتی سفارت کاری (Multilateral Diplomacy) پر یقین رکھتا ہے۔ جہاں ایک طرف پاکستان کے ساتھ ترکیہ کی فوجی اور اسٹریٹجک شراکت داری قائم رہے گی، وہیں بھارت کے ساتھ بڑھتے ہوئے تجارتی روابط خطے میں طاقت کے توازن اور معاشی تعاون کے ایک نئے دور کا آغاز کر سکتے ہیں۔ عالمی مبصرین اس وقت انقرہ اور نئی دہلی کے مابین ہونے والی اگلی اعلیٰ سطحی ملاقاتوں پر نظریں جمائے بیٹھے ہیں۔