پاکستان کے کلیدی اور تعمیری سفارتی کردار کی کھل کر تعریف (Lauds Pakistan)
عالمی سفارت کاری اور بین الاقوامی تعلقات کے میدان سے جون 2026 کے آغاز میں پاکستان کے لیے ایک انتہائی اہم اور بڑے اعزاز کی خبر سامنے آئی ہے۔تازہ ترین رپورٹس کے مطابق، یورپی یونین (EU) نے مشرقِ وسطیٰ کے حالیہ انتہائی سنگین بحران کے دوران ایک بڑے پیمانے پر پھوٹنے والی جنگ کو روکنے (Heading Off Full-Blown War) اور کشیدگی کو کم کرنے کے لیے پاکستان کے کلیدی اور تعمیری سفارتی کردار کی کھل کر تعریف (Lauds Pakistan) کی ہے۔
دی ایکسپریس ٹریبیون (The Express Tribune) کی خصوصی سفارتی کوریج کے مطابق، یورپی یونین کے اعلیٰ حکام اور سفارت کاروں نے برسلز میں منعقدہ ایک اہم اجلاس کے دوران اعتراف کیا ہے کہ جب مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل، لبنان اور ایران کے مابین تنازعہ تیسری جنگِ عظیم کی شکل اختیار کرنے کے قریب پہنچ چکا تھا، تو اسلام آباد نے اپنے اثر و رسوخ اور متوازن خارجہ پالیسی کا استعمال کرتے ہوئے فریقین کو پیچھے ہٹنے پر آمادہ کیا۔ یورپی یونین کا کہنا ہے کہ پاکستان نے مسلم ممالک اور مغربی طاقتوں کے درمیان ایک بہترین پل کا کردار ادا کیا، جس کی بدولت ایک ہولناک فوجی تصادم ٹل گیا۔
بین الاقوامی میڈیا نیٹ ورک ٹی آر ٹی ورلڈ (TRT World) اور ڈان نیوز کی رپورٹس کے مطابق، پاکستان کی اس فعال سفارت کاری کو عالمی سطح پر مقتدر حلقوں نے سراہا ہے۔ ترکیہ کے معروف جریدے نے اپنی تجارتی و سیاسی رپورٹ میں لکھا ہے کہ پاکستان نے نہ صرف خطے میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے بیانات جاری کیے بلکہ بیک چینل ڈپلومیسی (Back-channel Diplomacy) کے ذریعے تہران، ریاض اور واشنگٹن کے مابین پیغامات پہنچائے۔ یورپی یونین کے نمائندوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ پاکستان کا یہ اقدام یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ عالمی امن اور سلامتی کے فروغ کے لیے ایک ذمہ دار اور انتہائی بااعتماد ایٹمی طاقت ہے۔
یورپی یونین کی جانب سے پاکستان کے اس سفارتی ماسٹر اسٹروک کا اعتراف ملکی خارجہ پالیسی کی ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔ ایسے وقت میں جب پاکستان معاشی چیلنجز سے نبرد آزما ہے، عالمی افق پر اس قسم کی شاندار پزیرائی ملکی وقار کو بلندیوں پر لے جاتی ہے۔ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ اس کامیاب ثالثی کے بعد یورپی ممالک کے ساتھ پاکستان کے تجارتی، سیکیورٹی اور سفارتی تعلقات میں مزید گہرائی اور مضبوطی آئے گی، جس کے مثبت اثرات سی پیک اور دیگر علاقائی منصوبوں پر بھی مرتب ہوں گے۔

