SEBI Bars Rajesh Exports Over 15.5 Lakh Crore Scam; LIC & FIIs Hit Hard

SEBI Bars Rajesh Exports Over 15.5 Lakh Crore Scam; LIC & FIIs Hit Hard

بھارتی کارپوریٹ تاریخ کا اب تک کا سب سے بڑا مالیاتی اسکینڈل 

بھارتی اسٹاک مارکیٹ اور کارپوریٹ سیکٹر سے جون 2026 کے آغاز میں ایک انتہائی سنسنی خیز اور چونکا دینے والی مالیاتی اسکینڈل کی خبر سامنے آئی ہے۔ تازہ ترین رپورٹس کے مطابق، مارکیٹ ریگولیٹر سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا (SEBI) نے ملک کی بڑی سونا برآمد کرنے والی کمپنی راجیش ایکسپورٹس کے خلاف ایک تاریخی اور سخت ترین کارروائی کرتے ہوئے اس کی ٹریڈنگ پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ ریگولیٹرز نے یہ قدم کمپنی کے پروموٹر اور چیئرمین راجیش مہتا (Rajesh Mehta) کے خلاف سامنے آنے والے ریکارڈ توڑ 15.5 لاکھ کروڑ روپے کے مبینہ گھپلے (15.5 Lakh Crore Scam) کے بعد اٹھایا ہے۔

SEBI Bars Rajesh Exports Over 15.5 Lakh Crore Scam; LIC & FIIs Hit Hard

این ڈی ٹی وی بزنس (NDTV Business) کی خصوصی بریکنگ کوریج کے مطابق، سیبی کی ابتدائی تفتیش میں راجیش ایکسپورٹس کی مالیاتی دستاویزات اور کھاتوں میں بڑے پیمانے پر ہیرا پھیری اور بوگس ٹرانزیکشنز کا انکشاف ہوا ہے۔ چیئرمین راجیش مہتا پر الزام ہے کہ انہوں نے کمپنی کے منافع اور برآمدات کے حجم کو کئی گنا بڑھا چڑھا کر پیش کیا تاکہ شیئر بازار میں کمپنی کی قیمتوں کو مصنوعی طور پر برقرار رکھا جا سکے۔ سیبی نے راجیش مہتا اور کمپنی کے دیگر ڈائریکٹرز کے بینک اکاؤنٹس اور تجارتی سرگرمیوں کو منجمد کرتے ہوئے ایک اعلیٰ سطحی فرانزک آڈٹ کا حکم دے دیا ہے، جس نے دلال اسٹریٹ پر زلزلہ برپا کر دیا ہے۔


معروف فنانشل پورٹل منی کنٹرول (Moneycontrol) کی شیئر ہولڈنگ اور ڈیٹا تجزیاتی رپورٹ کے مطابق، راجیش ایکسپورٹس پر لگنے والی اس پابندی نے بھارت کے بڑے سرکاری مالیاتی اداروں اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو شدید بحران میں مبتلا کر دیا ہے۔ مارکیٹ ڈیٹا سے پتہ چلتا ہے کہ بھارت کی سب سے بڑی سرکاری انشورنس کمپنی، لائف انشورنس کارپوریشن آف انڈیا (LIC)، اس کمپنی میں 10 فیصد سے زائد (Over 10% Stake) کا بھاری حصہ رکھتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی، غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کاروں (FIIs) کے پاس بھی کمپنی کے تقریباً 14 فیصد حصص موجود ہیں۔ ٹریڈنگ پر اچانک پابندی لگنے اور اسکینڈل سامنے آنے کے بعد ایل آئی سی اور ان غیر ملکی اداروں کے کھربوں روپے مالیت کے حصص خطرے میں پڑ گئے ہیں، جس سے عام پالیسی ہولڈرز اور سرمایہ کاروں میں گہری تشویش پھیل گئی ہے۔


 راجیش ایکسپورٹس کا یہ کیس بھارتی کارپوریٹ تاریخ کا اب تک کا سب سے بڑا مالیاتی اسکینڈل بن کر ابھرا ہے، جس کی گونج پارلیمنٹ اور ریگولیٹری ایوانوں میں سنی جا رہی ہے۔ سیبی کی یہ سخت کارروائی شیئر بازار میں شفافیت قائم رکھنے کے لیے انتہائی ناگزیر تھی، لیکن ایل آئی سی اور ایف آئی آئی جیسی بڑی مچھلیوں کے پھنسنے نے مارکیٹ کے گورننس ماڈل پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ اب سب کی نظریں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ED) اور سیبی کی حتمی تفتیشی رپورٹ پر لگی ہیں کہ آیا راجیش مہتا کے اس 15.5 لاکھ کروڑ کے مبینہ گھپلے کے پیچھے کون کون سے بیرونی عوامل اور نیٹ ورکس شامل ہیں۔