گلگت بلتستان ( Gilgit-Baltistan Elections) انتخابات اس وقت وائرل
گلگت بلتستان (Gilgit-Baltistan) کی قانون ساز اسمبلی کی 24 عام نشستوں کے لیے ہونے والے عام انتخابات اتوار، 7 جون 2026 کو کامیابی کے ساتھ مکمل ہو گئے ہیں۔ پولنگ کا عمل صبح 8:00 بجے شروع ہوا اور شام 5:00 بجے تک بغیر کسی تعطل کے پرامن ماحول میں جاری رہا۔ پاکستان بھر کے سوشل میڈیا اور نیوز پلیٹ فارمز پر یہ انتخابات اس وقت وائرل ہو گئے جب پولنگ ختم ہوتے ہی غیر سرکاری نتائج کے ساتھ ہی اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے دھاندلی کے سنگین الزامات کا طوفان کھڑا ہو گیا۔ شدید سردی اور برفباری کے باعث چار ماہ کی تاخیر سے ہونے والے ان انتخابات میں ووٹرز کا جوش و خروش دیدنی تھا۔
الیکشن کمیشن کے آفیشل ریکارڈ کے مطابق، گلگت بلتستان انتخابات 2026 (GB Elections 2026) میں کل 963,034 رجسٹرڈ ووٹرز تھے، جن میں 566,097 مرد اور 396,937 خواتین ووٹرز شامل ہیں۔ اس جمہوری عمل میں مجموعی طور پر 403 امیدواروں نے حصہ لیا، جن میں 396 مرد اور 8 خواتین شامل تھیں۔ پہاڑی اور دشوار گزار راستوں پر ووٹرز کی سہولت کے لیے 1,391 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے تھے، جن میں سے سیکیورٹی صورتحال کے پیشِ نظر 488 کو نارمل، 349 کو حساس اور 551 کو انتہائی حساس قرار دیا گیا تھا۔ گلگت بلتستان کے انسپکٹر جنرل آف پولیس (IGP) ناصر اکبر خان کے مطابق، امن و امان برقرار رکھنے کے لیے 17,500 سے زائد سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے تھے، جن میں مقامی پولیس، جی بی اسکاؤٹس، اور پنجاب و اسلام آباد پولیس کے دستے شامل تھے۔
ابتدائی اور غیر سرکاری نتائج (Unofficial Results) کے مطابق، پاکستان پیپلز پارٹی (PPP) نے ابتدائی طور پر چار اہم حلقوں میں کامیابی حاصل کر کے برتری قائم کی ہے۔ کامیاب ہونے والے نمایاں امیدواروں میں محمد علی اختر نے حلقہ GBA-4 نگر-I سے 7,670 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی، سید تقیر مہدی نے GBA-7 اسکردو-I سے 4,500 ووٹ، فدا محمد نے GBA-9 اسکردو-III سے 6,314 ووٹ اور عمران ندیم نے GBA-12 شگر سے 11,663 ریکارڈ ووٹ لے کر میدان مار لیا۔ دوسری جانب، پاکستان مسلم لیگ ن (PML-N) کے محمد ابراہیم ثنائی نے حلقہ GBA-22 گانچھے-I سے 9,308 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی، جبکہ GBA-3 گلگت-III اور GBA-24 گانچھے-III میں آزاد امیدواروں نے کامیابی کے جھنڈے گاڑے۔
کامیابیوں کے باوجود اپوزیشن جماعتوں نے انتخابی شفافیت پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل نیر حسین بخاری اور قمر زمان کائرہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے الزام لگایا کہ ان کے پولنگ ایجنٹوں کو فارم-45 (Form-45) فراہم نہیں کیا جا رہا اور انہیں گنتی کے عمل سے باہر رکھا گیا۔ پی پی پی کے ندیم افضل چن نے وفاقی حکومت پر "ایلوکیشن اور الیکشن انجینئرنگ" کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ دو وفاقی وزراء پریزائیڈنگ افسران پر نتیجہ تبدیل کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔ اسی طرح، پاکستان تحریک انصاف (PTI)، جو انتخابی نشان نہ ہونے کی وجہ سے مجلس وحدت مسلمین (MWM) کے ساتھ مل کر آزاد حیثیت میں الیکشن لڑ رہی ہے، نے بھی الزام لگایا کہ بعض اسٹیشنز پر راتوں رات ووٹر لسٹوں میں تبدیلی کی گئی اور ٹرن آؤٹ کو یکدم 80 فیصد سے اوپر دکھایا گیا۔ استور میں بالاچی پولنگ اسٹیشن کی مبینہ منتقلی پر مقامی لوگوں نے گلگت اسکردو روڈ بلاک کر کے احتجاج بھی کیا۔
مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق وزیر اعلیٰ حافظ حفیظ الرحمان نے ان الزامات کو اپوزیشن کی سیاسی مایوسی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا اور کہا کہ ان کی پارٹی نے ترقیاتی کاموں کی بنیاد پر الیکشن لڑا ہے۔ سیاسی تناؤ بڑھنے پر گلگت بلتستان کے چیف الیکشن کمشنر راجہ شہباز خان (Raja Shahbaz Khan) نے فوری ایکشن لیتے ہوئے تمام ریٹرننگ افسران (ROs) کو سخت احکامات جاری کیے ہیں کہ وہ الیکشن ایکٹ 2017 کے تحت تمام اسٹیشنز پر گنتی مکمل ہوتے ہی تصدیق شدہ فارم-45 فوری جاری کریں۔ انہوں نے عوام، بالخصوص خواتین اور نوجوانوں کے بڑے ٹرن آؤٹ کو سراہا اور اسے خطے میں جمہوری شعور کی علامت قرار دیا۔ جی بی میں نئی حکومت کی تشکیل کا حتمی فیصلہ اب ان متنازع نتائج کی سرکاری تصدیق کے بعد ہی ممکن ہو سکے گا۔

