ایبولا وائرس (Ebola) کی وباء کے خلاف جنگ کے لیے 518 ملین ڈالر
عالمی ادارہ صحت (WHO) کے سربراہ نے جمعہ کے روز ایبولا وائرس (Ebola) کی وباء کے خلاف جنگ کے لیے 518 ملین ڈالر کے چھ ماہی مشترکہ منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے فنڈز کی فراہمی اور سیاسی عزم پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ تاریخ کی اس چوتھی بڑی ایبولا وباء کے پھیلاؤ کو فوری طور پر روکنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ ڈبلیو ایچ او اور افریقہ سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (Africa CDC) کے مطابق، اس نئی حکمت عملی کا مقصد جمہوریہ کانگو (DR Congo) اور پڑوسی ملک یوگنڈا (Uganda) کو وباء پر قابو پانے میں مدد فراہم کرنا ہے، جبکہ دیگر ممالک کو سرحدی اسکریننگ سمیت مختلف حفاظتی اقدامات کے ذریعے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے تیار کرنا ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ادھانوم گیبریسس (Tedros Adhanom Ghebreyesus) نے پریس بریفنگ کے دوران تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "وباء بہت تیزی سے پھیل رہی ہے اور ہم اب بھی اس پر قابو پانے کی بھرپور کوششوں میں مصروف ہیں۔ ایبولا کو روکنے کے لیے مضبوط سیاسی عزم، مسلسل مالیاتی تعاون اور مقامی برادریوں کے اعتماد کی ضرورت ہے۔" افریقہ سی ڈی سی کے مطابق، یہ وباء کئی ہفتوں تک لاپتہ رہی جس کی وجہ سے صحت کے حکام صورتحال کو کنٹرول کرنے میں مشکلات کا شکار ہیں۔ اب تک کانگو میں ایبولا کے 381 تصدیق شدہ کیسز اور 62 اموات رپورٹ ہو چکی ہیں، جبکہ یوگنڈا میں 19 کیسز اور 2 اموات سامنے آئی ہیں۔
حکام کے مطابق، موجودہ وباء ایبولا کی انتہائی نایاب اور خطرناک قسم 'بنڈی بوگیو سٹرین' (Bundibugyo strain) پر مشتمل ہے، جس کا اب تک کوئی منظور شدہ علاج یا ویکسین دستیاب نہیں ہے۔ افریقہ سی ڈی سی کے ڈائریکٹر جنرل جین کاسیا (Jean Kaseya) کا کہنا ہے کہ ماضی کی لہروں کے مقابلے میں یہ اب تک کا سب سے شدید ترین بنڈی بوگیو آؤٹ بریک ہے۔ انہوں نے بتایا کہ عالمی عطیہ دہندگان کی جانب سے اب تک 315.8 ملین ڈالر کے فنڈز کا وعدہ کیا گیا ہے، جو ابتدائی طور پر اعلان کردہ 498 ملین ڈالر سے کم ہے کیونکہ بعض اداروں نے اپنے اعداد و شمار میں تصحیح کی ہے۔ افریقہ سی ڈی سی نے 15 مئی کو کانگو میں ایبولا کی 17ویں وباء کا اعلان کیا تھا، جس کے فوراً بعد ڈبلیو ایچ او نے اسے بین الاقوامی سطح پر صحت کی ہنگامی صورتحال قرار دے دیا تھا۔
اس وباء کے خلاف آپریشنز میں لیبارٹری ٹیسٹنگ ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے کیونکہ عام طور پر استعمال ہونے والے ایبولا ٹیسٹ شروع میں اس نایاب سٹرین کا پتا لگانے میں ناکام رہے، اور ٹیسٹ کے نتائج کے حصول میں کئی دنوں سے لے کر ایک ہفتے تک کی تاخیر ہو رہی ہے۔ کانگو کے صوبے اتوری (Ituri) میں امدادی سرگرمیوں میں مصروف عیسائی امدادی گروپ 'سامریٹنز پرس' (Samaritan's Purse) کے صدر فرینکلن گراہم (Franklin Graham) نے اس تاخیر کو مایوس کن قرار دیا ہے۔ اس کے علاوہ، مقامی آبادی میں پھیلی بدگمانی اور مزاحمت کے باعث طبی ٹیموں اور تدفین کے عملے پر حملوں کی اطلاعات بھی ملی ہیں۔ سیکیورٹی کے ان سنگین خطرات کے پیشِ نظر، عالمی ادارہ صحت نے تصدیق کی ہے کہ انہیں کانگو میں اقوامِ متحدہ کے امن مشن (U.N. peacekeeping mission) کی جانب سے تین بکتر بند گاڑیاں فراہم کی گئی ہیں تاکہ طبی عملے کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔
ایک نیوز ذرائع کے مطابق عالمی صحت، ہیلتھ سیکٹر (Health Sector) اور افریقی ممالک کے طبی بحران کے حوالے سے جون 2026 کے آغاز میں انتہائی اہم اور تشویشناک پیش رفت سامنے آئی ہے۔ تازہ ترین طبی رپورٹس کے مطابق، جمہوریہ کانگو (Congo) میں خطرناک ایبولا وائرس (Ebola) کی ایک نئی لہر کے بعد جہاں ایک طرف بین الاقوامی ادارے ہائی الرٹ ہو چکے ہیں، وہیں دوسری طرف مقامی سطح پر پھیلنے والی افواہوں اور غلط معلومات نے اس وبائی بحران کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس (AP) کی ایک خصوصی زمینی رپورٹ کے مطابق، کانگو (Congo) کے دور دراز علاقوں میں ایبولا وائرس کی ہلاکت خیز قسم بونڈی بوگیو (Bundibugyo) کے پھیلاؤ کے دوران مقامی ریڈیو پروگرامز (Radio Program) کے ذریعے بڑے پیمانے پر غلط معلومات اور توہمات پھیلائی جا رہی ہیں۔ اس مس انفارمیشن (Misinformation) کی وجہ سے عام شہریوں میں خوف و ہراس پھیل رہا ہے اور لوگ طبی مراکز کا رخ کرنے اور ویکسینیشن کروانے سے گریز کر رہے ہیں۔ صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل اور روایتی میڈیا پر سائنسی حقائق کے برعکس پھیلنے والی یہ افواہیں وبائی امراض کے خلاف جنگ میں سب سے بڑی رکاوٹ ثابت ہو رہی ہیں۔
اس ابتر ہوتی ہوئی صورتحال کے پیشِ نظر، سی آئی ڈی آر اے پی (CIDRAP) کی رپورٹ کے مطابق، عالمی ادارہ صحت یعنی ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) اور افریقہ سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (Africa CDC) نے مشترکہ طور پر ایک ہنگامی اور بڑے پیمانے کا ایبولا ریسپانس پلان (Joint Ebola Response Plan) جاری کرنے کا باقاعدہ اعلان کیا ہے۔ اس مشترکہ ہیلتھ پلان کے تحت افریقہ کے متاثرہ خطوں میں ناصرف طبی ٹیمیں اور حفاظتی کٹس روانہ کی جا رہی ہیں، بلکہ مقامی ریڈیو اسٹیشنز اور عوامی آگاہی مہم (Public Awareness Campaigns) کے ذریعے سچی اور مستند معلومات فراہم کرنے کی حکمتِ عملی بھی تیار کی گئی ہے تاکہ افواہوں کا مؤثر سدِباب کیا جا سکے۔
جون 2026 میں افریقہ میں ایبولا (Ebola) کا یہ نیا بحران عالمی طبی اداروں کے پبلک ریلیشنز اور ہیلتھ مینجمنٹ کا ایک بڑا امتحان بن چکا ہے۔ ڈبلیو ایچ او (WHO) اور افریقہ سی ڈی سی (Africa CDC) کا یہ مشترکہ اقدام اس بات کو واضح کرتا ہے کہ کسی بھی وبا کو شکست دینے کے لیے ادویات کے ساتھ ساتھ درست معلومات کی فراہمی بھی ناگزیر ہے۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ آنے والے دنوں میں بین الاقوامی امداد اور اس ریسپانس پلان کی بدولت کانگو (Congo) میں ایبولا کے پھیلاؤ کو روکنے اور مقامی ریڈیو پروگرامز کے ذریعے پھیلنے والی غلط معلومات کا خاتمہ کرنے میں کتنی کامیابی حاصل ہوتی ہے۔

