NEPRA Cuts Electricity Tariff by Rs1.98 Per Unit in Quarterly Adjustment Relief

NEPRA Cuts Electricity Tariff by Rs1.98 Per Unit in Quarterly Adjustment Relief

کروڑوں صارفین کو اربوں روپے کا عارضی مالیاتی ریلیف

مہنگائی کے مارے پاکستانی عوام اور کاروباری طبقے کے لیے جون 2026 کے آغاز میں پاور سیکٹر سے ایک انتہائی بڑی اور خوش آئند معاشی خبر سامنے آئی ہے۔تازہ ترین بریکنگ رپورٹس کے مطابق، ملک میں بجلی کے نگران ادارے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (NEPRA) نے بجلی کے نرخوں میں 1.98 روپے فی یونٹ کی نمایاں کمی (Tariff Cut by Rs1.98 Per Unit) کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے، جس سے ملک بھر کے کروڑوں صارفین کو اربوں روپے کا عارضی مالیاتی ریلیف ملے گا۔

NEPRA Cuts Electricity Tariff by Rs1.98 Per Unit in Quarterly Adjustment Relief

جیو نیوز (Geo TV) کی خصوصی رپورٹ کے مطابق، نیپرا کی جانب سے بجلی کی قیمتوں میں یہ کمی موجودہ مالیاتی سال کی آخری سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ (Quarterly Adjustment) کے تحت کی گئی ہے۔ اتھارٹی نے یہ فیصلہ پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (Discos) کی جانب سے جمع کرائی گئی درخواستوں پر تفصیلی سماعت اور ایندھن کی قیمتوں میں آنے والے استحکام کا جائزہ لینے کے بعد جاری کیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد کے الیکٹرک (K-Electric) سمیت ملک کی تمام تقسیم کار کمپنیوں کے صارفین کے ماہانہ بلوں میں واضح کمی دیکھی جائے گی، جس سے شدید گرمی کے اس موسم میں عوام کو بڑی راحت نصیب ہوگی۔


معروف معاشی جریدے بزنس ریکارڈر (Business Recorder) اور ڈان نیوز کی تجزیاتی رپورٹس کے مطابق، بجلی کی قیمتوں میں یہ کمی ملکی صنعت اور زراعت کے لیے بھی ایک آکسیجن کا کام کرے گی۔ صنعتی مالکان کا کہنا ہے کہ بجلی کے مہنگے نرخوں کی وجہ سے پاکستان کی برآمدات (Exports) عالمی مارکیٹ میں مسابقت کھو رہی تھیں، اور اب اس 1.98 روپے کی کمی سے پیداواری لاگت (Cost of Production) میں عارضی طور پر تھوڑی کمی آئے گی۔ تاہم، ماہرینِ معیشت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ آئی ایم ایف (IMF) کے ساتھ آئندہ بجٹ اور بیل آؤٹ پروگرام کے مذاکرات کے پیشِ نظر، حکومت پر طویل مدتی سبسڈیز ختم کرنے کا دباؤ بدستور قائم ہے، اس لیے صارفین کو اس ریلیف سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔


جون 2026 میں نیپرا کا یہ فیصلہ ملکی معیشت اور عوامی حلقوں میں ایک مثبت لہر لے کر آیا ہے۔ ایسے وقت میں جب پٹرولیم مصنوعات اور بنیادی خوراک کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو رہی ہیں، بجلی کا سستا ہونا ایک بڑا معاشی ریلیف ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وفاقی حکومت اس ٹیرف کٹ کو باقاعدہ نوٹیفکیشن کے ذریعے صارفین کے اگلی لہر کے بلوں میں کس طرح شامل کرتی ہے تاکہ عوام کو فوری طور پر اس کا براہِ راست فائدہ پہنچنا شروع ہو سکے۔