لندن اسمبلی کے رکن اور گرین پارٹی کے ڈپٹی لیڈر زیک پولانسکی (Zack Polanski) نے لندن میں ہاؤس بوٹس پر رہنے والے شہریوں کے لیے کونسل ٹیکس (Council Tax) کے نئے نظام کی تجویز پیش کی ہے۔رپورٹس کے مطابق، اس تجویز کا مقصد لندن کے آبی راستوں (Waterways) پر رہنے والے ہزاروں لوگوں کو مقامی خدمات کے عوض ٹیکس کے دائرے میں لانا ہے، جو اب تک اس نظام سے بڑے پیمانے پر باہر رہے ہیں۔
دی گارڈین (The Guardian) کی رپورٹ کے مطابق، زیک پولانسکی کا کہنا ہے کہ ہاؤس بوٹس پر رہنے والے افراد بھی لائبریریوں، کچرا اٹھانے کے نظام اور دیگر مقامی سہولیات کا استعمال کرتے ہیں، لہٰذا ان پر کونسل ٹیکس (Council Tax) کا نفاذ انصاف کے عین مطابق ہوگا۔ مئی 2026 کی اس تجویز کے تحت ایک نیا 'بوٹ بینڈ' متعارف کرانے کا مشورہ دیا گیا ہے، تاکہ کشتیوں کے سائز اور ان کی سہولیات کے لحاظ سے ٹیکس وصول کیا جا سکے۔ تاہم، کشتیوں پر رہنے والی برادری (Boating Community) نے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے، ان کا ماننا ہے کہ پہلے ہی بڑھتی ہوئی مہنگائی اور لائسنس فیس نے ان کی زندگی مشکل بنا دی ہے۔
انڈیپنڈنٹ (The Independent) کی رپورٹ کے مطابق، لندن سٹی ہال میں اس تجویز پر گرما گرم بحث جاری ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ہاؤس بوٹس پر رہنے والے بہت سے لوگ کم آمدنی والے طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اور اضافی کونسل ٹیکس (Council Tax) کا بوجھ انہیں بے گھر کر سکتا ہے۔ مئی 2026 کی ان سیاسی پیش رفتوں کے دوران زیک پولانسکی نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ اس نظام کو ہر ممکن حد تک منصفانہ بنانے کے لیے کام کریں گے تاکہ کسی پر غیر ضروری بوجھ نہ پڑے، لیکن خدمات کے بدلے ادائیگی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔
مختصر یہ کہ زیک پولانسکی کی جانب سے کونسل ٹیکس (Council Tax) کی یہ تجویز لندن کی ہاؤس بوٹ برادری کے لیے ایک بڑا چیلنج بن کر ابھری ہے۔ مئی 2026 میں لندن اسمبلی میں ہونے والی یہ مشاورت آنے والے مہینوں میں آبی رہائش گاہوں کے حوالے سے نئی قانون سازی کی بنیاد بن سکتی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا میئر لندن اور دیگر اراکین اس تجویز کی حمایت کرتے ہیں یا بوٹ مالکان کے احتجاج کے بعد اس میں کوئی تبدیلی کی جاتی ہے۔ یہ معاملہ لندن میں رہائشی حقوق اور ٹیکسیشن کے توازن کو سمجھنے کے لیے انتہائی اہم ہو گیا ہے۔

