برطانیہ کے محکمہ ٹیکس (HMRC) نے حال ہی میں اسٹیٹ پینشن (state pension) کے حساب کتاب میں ایک بڑی غلطی کا اعتراف کیا ہے، جس کی وجہ سے ہزاروں پینشنرز پر اضافی ٹیکس ادا کرنے کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق، ٹیکس کے غلط تخمینے کی وجہ سے بہت سے بزرگ شہریوں کو اپنی اصل آمدنی سے کہیں زیادہ ٹیکس(Tax) بل بھیجے گئے ہیں۔ ایچ ایم آر سی نے اس غلطی کو تسلیم کرتے ہوئے متاثرہ افراد کو ریلیف فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔
برمنگھم میل (Birmingham Mail) کی رپورٹ کے مطابق، یہ غلطی بنیادی طور پر اسٹیٹ پینشن (state pension) کی رقم کو ٹیکس(Tax) کوڈز کے ساتھ ہم آہنگ نہ کرنے کی وجہ سے پیش آئی۔ مئی 2026 میں سامنے آنے والے اس بحران نے پینشنرز میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے، کیونکہ بہت سے بزرگوں کے لیے اضافی ٹیکس(Tax) کی ادائیگی مالی مشکلات کا باعث بن سکتی ہے۔ ایچ ایم آر سی نے پینشنرز کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ خود بخود ان غلطیوں کی تصحیح کر رہے ہیں اور کسی کو بھی اپنی جیب سے اضافی رقم ادا کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی اگر ان کا ٹیکس کوڈ غلط پایا گیا۔
دی ٹیلی گراف (The Telegraph) کے معاشی تجزیے کے مطابق، ایچ ایم آر سی کے اس نظام میں خرابی کی وجہ سے پینشنرز کے لیے اپنی سالانہ ٹیکس(Tax) ریٹرن فائل کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے۔ مئی 2026 کی اس رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ جو لوگ اپنی پینشن کے ساتھ دیگر ذرائع سے بھی آمدنی حاصل کر رہے ہیں، انہیں اپنے ٹیکس اسٹیٹمنٹ کا بغور معائنہ کرنا چاہیے تاکہ وہ ضرورت سے زیادہ ٹیکس ادا کرنے سے بچ سکیں۔ حکومت پر اپوزیشن کی جانب سے بھی دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ اس تکنیکی خرابی کو فوری طور پر مستقل بنیادوں پر حل کرے۔
اسٹیٹ پینشن (state pension) کے حوالے سے ایچ ایم آر سی کی یہ غلطی مئی 2026 میں برطانوی پینشنرز کے لیے ایک بڑا معاشی چیلنج بن گئی ہے۔ اگرچہ حکام نے صورتحال کو سنبھالنے کی یقین دہانی کرائی ہے، لیکن ماہرین کا مشورہ ہے کہ پینشنرز اپنے ٹیکس(Tax) کنسلٹنٹس سے رابطہ کریں یا ایچ ایم آر سی کی ہیلپ لائن پر اپنی تفصیلات کی تصدیق کریں۔ اس واقعے نے سرکاری اداروں کے ڈیجیٹل ٹیکس نظام کی شفافیت پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں، اور آنے والے بجٹ میں پینشنرز کے لیے ٹیکس استثنیٰ کی حد بڑھانے کے مطالبات میں تیزی آ گئی ہے۔

