UAE Secretly Attacks Iran: New Participant Joins US-Israel Campaign in Middle East Crisis

UAE Secretly Attacks Iran: New Participant Joins US-Israel Campaign in Middle East Crisis

مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں مئی 2026 کے دوران ایک بڑا دھماکہ خیز انکشاف ہوا ہے۔ وال اسٹریٹ جنرل (WSJ) کی خصوصی رپورٹ کے مطابق، متحدہ عرب امارات (UAE) نے ایران کے خلاف جاری جنگ میں خفیہ طور پر براہِ راست حملوں کا آغاز کر دیا ہے۔ 12 مئی 2026 کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اماراتی افواج نے ایران کے اندر مختلف اہداف بشمول ایک اہم آئل ریفائنری کو نشانہ بنایا ہے۔ یہ انکشاف اس لحاظ سے انتہائی اہم ہے کہ متحدہ عرب امارات اب تک اس تنازع میں بظاہر براہِ راست فوجی مداخلت سے گریز کر رہا تھا۔

UAE Secretly Attacks Iran: New Participant Joins US-Israel Campaign in Middle East Crisis

ٹائمز آف انڈیا (Times of India) کی رپورٹ کے مطابق، متحدہ عرب امارات (united arab emirates) اب اس بحران میں ایک نئے اور سرگرم شریک کے طور پر ابھرا ہے۔ رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اماراتی حملے امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ مہم کا حصہ تھے، جس کا مقصد ایران کی معاشی اور فوجی صلاحیتوں کو مفلوج کرنا ہے۔ مئی 2026 کی ان خفیہ کارروائیوں نے خطے میں طاقت کے توازن کو تبدیل کر دیا ہے، کیونکہ اب تک خلیجی ممالک بڑے پیمانے پر سفارتی حل کی حمایت کرتے نظر آتے تھے، لیکن اب وہ براہِ راست جنگی کارروائیوں میں شامل ہو گئے ہیں۔


ٹائمز آف اسرائیل (Times of Israel) نے اپنی رپورٹ میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اماراتی حملوں میں ایرانی تیل کی تنصیبات کو خاص طور پر نشانہ بنایا گیا تاکہ تہران کی مالیاتی شہ رگ کو کاٹا جا سکے۔ مئی 2026 کے ان حملوں کے بعد ایران کی جانب سے سخت ردعمل کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جو کہ خلیج فارس میں جہاز رانی اور توانائی کی عالمی سپلائی کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ متحدہ عرب امارات کا یہ قدم اسرائیل کے ساتھ بڑھتے ہوئے سیکیورٹی تعاون اور تہران کے علاقائی اثر و رسوخ کو روکنے کی ایک سوچی سمجھی حکمتِ عملی ہے۔


 متحدہ عرب امارات (united arab emirates)  کے ایران پر خفیہ حملوں کے انکشاف نے مئی 2026 میں عالمی سیاست میں ایک نیا ارتعاش پیدا کر دیا ہے۔ وال اسٹریٹ جنرل کی اس رپورٹ نے تہران اور ابوظہبی کے درمیان کشیدگی کو ایک ایسی سطح پر پہنچا دیا ہے جہاں سے واپسی مشکل نظر آتی ہے۔ بین الاقوامی برادری اب تشویش کے ساتھ دیکھ رہی ہے کہ کیا یہ خفیہ جنگ ایک کھلے علاقائی تصادم میں تبدیل ہو جائے گی؟ ان حملوں نے ثابت کر دیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے نئے اتحاد اب پرانے دشمنوں کے خلاف عملی اقدامات سے گریز نہیں کر رہے۔