مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے شدید اثرات اب پڑوسی ممالک پر بھی گہرے ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ مئی 2026 کے آخری ہفتے میں جاری ہونے والی بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، ایران جنگ کی وجہ سے اسٹریٹجک اہمیت کی حامل آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کی بندش نے افغانستان(Afghanistan) کے لیے تجارتی اور انسانی امداد کی سپلائی چین کو بری طرح مفلوج کر دیا ہے، جس سے خطے میں ایک نیا انسانی بحران جنم لے رہا ہے۔
ڈیلی کورینتھین (Daily Corinthian) کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کی بندش نے افغانستان(Afghanistan) کے تجارتی راستوں کا گلا گھونٹ کر رکھ دیا ہے۔ چونکہ افغانستان چاروں طرف سے خشکی سے گھرا ہوا ملک ہے اور اپنی سمندری تجارت کے لیے ایرانی بندرگاہوں (جیسے چابہار) پر بہت حد تک انحصار کرتا ہے، اس لیے اس سمندری راستے کے بلاک ہونے سے بنیادی اشیائے خورونوش، ایندھن اور بین الاقوامی اداروں کی جانب سے بھیجی جانے والی لائف سیونگ امداد کی آمد مکمل طور پر رک گئی ہے۔
جرنل نیوز (Journal-News) کی جانب سے جاری کردہ تصویری شواہد اور رپورٹ کے مطابق، پاک افغان اور پاک ایران سرحدی علاقوں میں سپلائی کے سنگین مسائل پیدا ہو چکے ہیں۔ ایران اور افغانستان(Afghanistan) کے درمیان جنگی صورتحال کی وجہ سے زمینی راستے بھی غیر محفوظ ہو چکے ہیں، جس کے نتیجے میں مال بردار ٹرکوں کی طویل قطاریں لگ گئی ہیں۔ مئی 2026 کی اس رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر سپلائی کا یہ بحران مزید چند ہفتے برقرار رہا تو افغانستان میں قحط سالی اور ایندھن کی شدید قلت پیدا ہو سکتی ہے، جس کے اثرات مقامی منڈیوں پر پڑنا شروع ہو گئے ہیں۔
افغانستان انٹرنیشنل (Afghanistan International) اور دیگر ذرائع کے مطابق، مئی 2026 میں ایران تنازع نے افغان معیشت کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ عالمی امدادی اداروں نے اپیل کی ہے کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی ترسیل کے لیے متبادل وسطی ایشیائی راستوں کو فوری طور پر فعال کیا جائے تاکہ لاکھوں مجبور شہریوں کو فاقہ کشی سے بچایا جا سکے۔ خطے کے بدلتے ہوئے جیو پولیٹیکل حالات اب سرحد پار تجارت کے لیے نئے سیکیورٹی پروٹوکولز کا تقاضا کر رہے ہیں۔

