Pakistani Rupee Strengthens to 20-Month High Against US Dollar & UAE Dirham

Pakistani Rupee Strengthens to 20-Month High Against US Dollar & UAE Dirham

پاکستانی کرنسی مارکیٹ کے لیے مئی 2026 کا آخری ہفتہ انتہائی مثبت خبریں لے کر آیا ہے، جہاں پاکستانی روپیہ (Pakistani Rupee) امریکی ڈالر اور یو اے ای درہم کے مقابلے میں گزشتہ 20 مہینوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق، انٹربینک مارکیٹ میں روپے کی قدر میں مسلسل استحکام دیکھا جا رہا ہے، جس سے ملکی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہونے کی امید پیدا ہو گئی ہے۔

Pakistani Rupee Strengthens to 20-Month High Against US Dollar & UAE Dirham

خلیج ٹائمز (Khaleej Times) کی رپورٹ کے مطابق، بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلاتِ زر (Remittances) کی ریکارڈ آمد اور ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے باعث روپے کو زبردست سپورٹ ملی ہے۔ اس کے نتیجے میں  پاکستانی روپیہ (Pakistani Rupee)  درہم اور ڈالر دونوں کے خلاف مضبوط ہوا ہے۔ مئی 2026 کی یہ پیش رفت متحدہ عرب امارات (UAE) میں مقیم پاکستانی تارکینِ وطن کے لیے بھی اہم ہے، کیونکہ روپے کے مضبوط ہونے سے اب درہم کے بدلے پاکستان رقم بھیجنے کے نرخوں میں واضح تبدیلی آئی ہے۔


دی نیشن (The Nation) کی رپورٹ کے مطابق، اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) نے 25 مئی 2026 کو تازہ ترین انٹربینک کرنسی ریٹس جاری کیے ہیں، جس کے مطابق  پاکستانی روپیہ (Pakistani Rupee)  اپنی پوزیشن مستحکم رکھے ہوئے ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ مرکزی بینک کی جانب سے سخت مانیٹری پالیسی اور اوپن مارکیٹ میں اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے کیے گئے اقدامات کے باعث ڈالر کے مقابلے میں روپے کی گراوٹ کو کامیابی سے روکا گیا ہے۔ پرافٹ پاکستان ٹوڈے (Profit Pakistan Today) کے یومیہ فاریکس ڈیٹا کے مطابق، اوپن مارکیٹ میں بھی خریداروں اور بائرز کے درمیان توازن برقرار ہے، جس سے مارکیٹ میں پینک (Panic) کی صورتحال ختم ہو گئی ہے۔


 پاکستانی روپیہ (Pakistani Rupee)  کی قدر میں 20 مہینوں کا یہ سب سے بڑا استحکام مئی 2026 میں ملکی درآمدات اور مہنگائی کی شرح کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ اگرچہ عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں کے چیلنجز موجود ہیں، لیکن مقامی کرنسی کا یہ مضبوط ہونا امپورٹرز اور حکومت کے لیے ایک بڑا ریلیف ہے۔ مالیاتی تجزیہ کاروں کا مشورہ ہے کہ روپے کے اس تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے برآمدات میں اضافہ اور آئی ایم ایف (IMF) کے پروگرام کے اہداف پر سختی سے عمل درآمد لازمی ہوگا۔