Searching for minerals from trees and plants

Searching for minerals from trees and plants

صحرا پر محو پرواز ایک طیارے سے دو سائنسداں نیچے جھانک رہے تھے۔ وہ صحرا میں کھڑے درختوں ، پودوں اور جھاڑیوں پر اور اپنی ماہرانہ لگا ہیں جمائے کسی سوچ میں غرق تھے۔ ہوائی جہاز کے ایک گھنٹے کے سفر کے بعد ان میں سے ایک سائنسدان نے اپنی کتاب میں لکھا:

 ”دیکھو! یہاں معدنیات ہیں ۔ ایک پہاڑی علاقے کا ہوائی سفر کرتے ہوئے چند سائنسدانوں نے پہاڑی علاقے کا جائزہ لینے کے بعد زمین پر موجود کچھ سائنسدانوں کو اس علاقے میں سونے کی موجودگی کا اشارہ دیا۔ کچھ سائنسداں ایک پہاڑی علاقے میں گشت کرتے ہوئے خیال ظاہر کرتے ہیں: 

how to become rich or get money

” یہاں معدنیات تلاش کی جانی چاہئیں۔ ایک اور پہاڑی علاقے کا ہوائی جہاز سے جائزہ لینے کے بعد کچھ سائنسدانوں نے ریڈیو ون ورلڈ پر یورینیم کی موجودگی کی طرف اشارہ دیا۔ 

 حیران نہ ہوں قارئین ، ان میں سے کوئی ایک سائنسداں بھی سپر مین نہ تھا؟ نہ اُن میں سے کسی کے پاس ایکسریز والی آنکھ تھی اور نہ ہی کسی کے پاس کوئی جادوئی طاقت، کہ جس سے وہ زمین کی سطحے نیچے دیکھ سکتے اور معدنیات کی موجودگی کے حوالے سے کوئی پیش گوئی کرتے ... بلکہ ان سائنسدانوں نے زمین پر آگے درختوں، پودوں اور مختلف الاقسام کنکروں پتھروں کو دیکھ کر یہ اندازہ لگایا تھا کہ اُن کے زیر مشاہدہ علاقوں میں معدنیات موجود ہو سکتی ہیں۔


 یہ معدنیات تلاش کرنے کا ایک نیا طریقہ ہے۔ سے چند سال بعد ارضی نباتیات (geobotany) ، یعنی علم نباتات برائے ارضی تحقیق نے یہ ثابت کر دیا کہ کسی علاقے میں اُگنے والے درختوں اور وہاں موجود پتھروں چٹانوں سے اُس علاقے میں معدنیات کی موجودگی کا نہ صرف سُراغ لگایا جا سکتا ہے بلکہ اس کی قسم، مقدار صحیح جگہ حتی کہ گہرائی کا تعین بھی کیا جا سکتا ہے۔ ارضی نباتیات کے ماہرین دیگر علوم کے ماہرین کے ساتھ ملکر آب معدنیات کی تلاش کے لئے نئے اور جدید طریقے اختیار کر رہے ہیں۔


 برٹش کولمبیا، کینیڈا کے پہاڑی علاقے واسٹن بار کر یک پر 8 ہزار فٹ کی بلندی سے معدنیات کی تلاش سے وابستہ سائنسدانوں کے ایک گروپ نے درختوں کے بیچ جمع کرنے شروع کئے ۔ انہوں نے وہاں سے درختوں کی جڑوں اور شاخوں کے نمونے حاصل کرنے کیلئے انہیں اقسام کے لحاظ سے الگ الگ رکھتے ہوئے مختلف ڈبوں اور تھیلوں میں اکٹھا کیا۔ ان نمونوں کو تجربہ گاہ میں جلا کر راکھ کیا گیا اور پھر اس راکھ میں موجود معدنیات کی اقسام و مقدار کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔


 اس تحقیق کا مقصد کیا تھا ؟ سائنسدان یہ تو جانتے تھے کہ اگر زمین میں معدنیات موجود ہیں تو وہ درختوں کی جڑوں کے ذریعے ان کی شاخوں اور بیجوں میں بھی شامل ہو سکتی ہیں، جن کے جائزے سے معدنیات کا پتا چلایا جاسکتا ہے۔ لیکن بات صرف یہیں تک نہ تھی، بلکہ سوال یہ بھی تھا کہ کسی درخت کی شاخوں اور جڑوں میں موجود معدنیات کی بنیاد پر کیا یہ بھی بتایا جاسکتا تھا کہ اس علاقے کی زمین میں معدنیات کی کتنی مقدار موجود ہو سکتی ہے؟ اور یہ کہ کوئی معدن اس قابل بھی ہوگی کہ زمین سے کھدائی کر کے نکالنے میں منافع بخش بھی ثابت ہو؟ درختوں کی جڑوں، شاخوں اور بیجوں کے مطالعے سے یہ بات سامنے آئی کہ ان میں چاندی (سلور ) موجود نہیں تھی، لیکن جڑوں میں کسی حد تک سونے کے ذرات پائے گئے جبکہ بیجوں اور شاخوں میں سونے کے بہت ہی کم ذرات تھے۔ اس کے علاوہ جو بیچ درخت کے تنے کے قریب تھے، اُن میں سونے کے ذرات کی مقدار ان بیجوں سے زیادہ پائی گئی جو درخت کے تنے سے دور، اُس کی شاخوں کے کناروں پر تھے۔ 


 اگر درختوں کے مطالعے سے زمین میں سونے کی موجودگی کا ثبوت نہ ملتا تو سائنسداں بھی زمین کی کھدائی پر پیسہ اور وقت خرچی نہیں کرتے ۔ لیکن سائنسدانوں کو درختوں کے مطالعے سے سونے کی موجودگی کے شواہد ملے تھے اس لئے انہوں نے مزید مطالعہ کیا اور مزید کھدائی کر کے سونے کی بڑی مقدار حاصل کی۔


 اس علاقے میں پانچ مختلف اقسام کے درخت اُگائے گئے تھے۔ لیکن تمام قسموں کے درختوں سے سونے کی یکساں مقدار دریافت ہوئی ۔ اسی طرح ماہرین نے ایک اور پہاڑی علاقے میں پانچ مختلف اقسام کے درخت اُگائے ۔ جب ایک ہی جگہ پر پانچ مختلف طرح کے درخت اُگائے گئے تو درختوں کے مطالعے سے انکشاف ہوا کہ سونے کی مقدار زمین کی گہرائیوں میں ہے۔ بعد ازاں، اسی طریقے کے تحت دیگر علاقوں میں بھی درخت لگائے گئے، جن سے معدنیات کی موجودگی کا پتا لگایا گیا۔

Searching for minerals from trees and plants

 اگلے مرحلے میں سائنسدانوں نے اپنی تحقیق کا دائرہ وسیع کیا، اور یورینیم اور دینیڈیم کی تلاش کے لئے سیلینیم اور سلفر پر توجہ مرکوز کرنے کا فیصلہ کیا۔ ویسے تو ان دونوں تابکار عناصر کی کھوج کے لئے گائیگر کاؤنٹر ( تابکار شعاع کی پیمائش کرنے والا رشتہ آلہ) کا استعمال عام بات ہے لیکن یہ روایتی طریقے بہت مہنگے ہوتے ہیں، جبکہ ناکامی کی صورت میں کثیر سرمایہ ضائع ہونے کا اندیشہ بہر طور اپنی جگہ موجود رہتا ہے۔ سائنسدانوں کا خیال ہے اس علاقے کی مٹی میں سلینیم اور سلفر کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، وہاں یورینیم اور دینیڈیم کی موجودگی کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق درختوں کے مطالعے یا ایسے ہی کسی دوسرے طریقے سے زمین میں سلینیم اور سلفر کی موجودگی کے شواہد مل جائیں تو وہاں یورینیم اور وینیڈیم کی موجودگی کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ 


گرانٹ، نیو میکسیکو کے علاقے میں ماہرین ارضی نباتیات نے یورینیم کی تلاش کیلئے مختلف درختوں، جھاڑیوں اور پھولوں کا بھی مطالعہ کیا جس کے تحت انہوں نے درختوں کی ایسی چار اقسام کی نشاندہی بھی کی، جن کی افزائش کا انحصار سلفر کی مقدار ہیں پر ہوتا ہے۔ اس حوالے سے مختلف علاقوں میں 21 اقسام کی گھاس اور پودے بھی دریافت کئے ، جو اپنی نشونما کے لئے سلینیم رانحصار کرتے ہیں۔ ان درختوں کے ذریعے ماہرین نے ایسے علاقے دریافت کئے جہاں سلینیم اور سلفر کی کثیر مقداریں موجود تھیں، جن کی بنیاد پر خاصے وثوق سے یہ کہا جاسکتا تھا کہ ان علاقوں میں یورینیم اور ویڈیم بھی موجود ہو سکتے ہیں۔ سائنسدانوں نے مختلف الاقسام درختوں سے حاصل شدہ نمونوں کو تجربہ گاہ میں جانچ پڑتال کے دوران جلا کر راکھ کرنے کے بعد ان میں سے سلفر کو صاف کیا، اور بیچ رہنے والے ذرات کا محتاط جائزہ لیا تو پتا چلا کہ ان میں یورینیم کے باریک باریک ذرات بھی موجود تھے۔ اس تجربے سے سائنسدانوں نے یہی نتیجہ اخذ کیا کہ درختوں کے ذریعے معدنیات کا پتا چلایا جا سکتا ہے۔


 لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کسی جگہ کی زمین میں معرقیات کی کتنی مقدار موجود ہوسکتی ہے؟ اس سوال کا جواب حاصل کرنے کیلئے ماہرین نے صحرائی علاقوں کے درختوں کی جڑوں کے ( جو عام طور پر پانی کی تلاش میں سینکڑوں فٹ گہرائی تک زمین میں اتر جاتی ہیں) نمونے حاصل کرنے کیلئے انتہائی گہرائی تک کھدائی کی۔ پھر ان جڑوں کو لیبارٹری میں جانچا گیا، جس سے یہ واضح ہو گیا کہ اس علاقے میں مزید کھدائی کی جائے تو بڑی مقدار میں یورینیم حاصل کی جاسکتی ہے۔ ایک اور تحقیق میں اسی قسم کے کمزور اور چھوٹے قد کے درختوں کو شامل کیا گیا، جن کے مطالعے سے یہ بات سامنے آئی کہ جن درختوں میں سلفر اور سلینیم کی مقدار کم ہوتی ہے، وہ کمزور اور چھوٹے قد کے رہ جاتے ہیں ، جو اس بات کا ثبوت فراہم کرتے ہیں کہ زمین میں سلفر اور سلینیم کی شدید کمی ہے۔ اس طرح سائنسداں درختوں کے مطالعے ہی سے زمین میں موجود معدنیات کے بارے میں مکمل معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔ 


ایریزونا کے علاقے سان مانوئل کے قریب ٹوسان کا علاقہ تانے (کاپر) کے حوالے سے مشہور ہے۔ معدنیات کی تلاش کے اس نئے طریقے کے تحت ارضی نباتیات کے ماہرین نے یہاں درختوں اور پودوں کی فضا سے لی گئی تصویروں کے ذریعے یہاں معدنیات کے ہونے اور نہ ہونے کے بارے میں اس علاقے کو خاکوں اور گراف کی مدد سے تقسیم کیا۔ ماہرین نے یہاں بلوط کے درخت کی دو اقسام پر بھی تحقیقات کیں۔ یہ درخت 20 فٹ لمبے ہوتے ہیں، جن کی افزائش کا انحصار زمین میں موجود تانبے کی مقدار پر ہوتا ہے۔ اس طرح ان درختوں کی موجودگی زمین میں تانبے کی بڑی مقدار کی موجودگی کی اطلاع دیتی ہے۔ اس حوالے سے ماہرین نے کیلیفورنیا کے وسیع علاقے میں پھیلے ہوئے تاریخی رنگ کے پھولوں سے بھرے درختوں اور پودوں کی تصویریں حاصل کیں۔ تحقیق کے دوران ماہرین کو کیلیفورنیا کے درخت کو کنار (poppies) میں تانبے کی خاطر خواہ مقدار حاصل نہیں ہوئی، جبکہ شاہ بلوط (oak) میں تانبے کی خاصی مقدار پائی گئی۔ ماہرین نے وسیع علاقے کی حاصل شدہ تصویروں سے ثابت کیا کہ جن مقامات پر شاہ بلوط کے درخت موجود ہیں وہاں بڑی مقدار میں تانبہ موجود ہوتا ہے۔ اس کے برعکس، کیلیفورنیا میں کو کنار پھیلے ہوئے ہیں لہذا وہاں تانبے کی مقدار نہ ہونے کے برابر ہے۔ یوں اس تحقیق سے مخصوص درختوں، پودوں اور جھاڑیوں کی موجودگی سے کسی معدنیات کی موجودگی کا تعین کرنا آسان ہو گیا۔


 آج ماہرین ارضی نباتیات درختوں اور پودوں کے جائزے سے یورینیم، دینیڈیم، تانبہ، سونا، چاندی اور کئی قیمتی معدنیات کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔ البتہ، ماہرین کا خیال ہے کہ یہ معدنیات کی تلاش میں ہونے والی جدید تحقیقات کا محض نقطہ آغاز ہے اور اس بارے میں ابھی بہت تحقیق کرنا باقی ہے۔ اب بھی بہت سے درخت اور پودے اپنے اندر بے شمار راز چھپائے ہوئے ہیں۔ مثلاً ابھی یہ جائزہ لینا بھی باقی ہے کہ معدنیات کی تلاش کیلئے کونسا موسم زیاده سازگار ثابت ہو سکتا ہے۔ اس ضمن میں سینکڑوں مطالعات کئے جاچکے ہیں۔


 سائنسدانوں کا خیال ہے کہ کسی معدن کیلئے کوئی خاص موسم زیادہ سازگار ہو سکتا ہے۔ علاوہ ازیں، ابھی بہت سے جواب طلب سوالات بھی موجود ہیں: کیا درختوں اور پودوں کے رنگ بھی معدنیات کی موجودگی کی اطلاع دیتے ہیں؟ کونے موسم میں کون سے رنگ کی زیادہ اہمیت ہوتی ہے، جس کے مطالعہ کی ضرورت ہے؟ کونے مختلف درختوں اور پودوں کو ایک ساتھ اُگانا چاہئے جس سے معدنیات کا سراغ بہ آسانی لگایا جاسکے؟ کیا کسی درخت کی لمبائی یا اس قبیل کے دوسرے درختوں ، پودوں اور جھاڑیوں کی تعداد سے معدنیات کی موجودگی یا غیر موجودگی کے شواہد مل سکتے ہیں؟ کیا خوشنما پھولوں کے رنگ معدنیات کی موجودگی یا غیر موجودگی کی اطلاع دیتے ہیں؟ 


ابھی ایسے بہت سے سوالات ہیں جو تحقیق طلب ہیں۔ یہ معاملہ ابتدائے عشق ہے۔۔۔“ کی طرح ہے، جس کیلئے سائنسی تحقیق کے فرہادوں کو معلوم نہیں ابھی اور کتنا جوئے شیر لانا ہوگا۔ جب یہ منزلیں طے ہو جائیں گی، تو پھر ہم کسی علاقے کو دیکھ کر یہ بتا سکیں گے کہ وہاں کونسی معدنیات کے ذخائر ہیں؟ اور یہ فیصلہ بھی کر سکیں گے کہ وہاں کھدائی کی جائے یا نہیں۔