Nanobiotechnology: Nano-electrodes, Pico-currents

Nanobiotechnology: Nano-electrodes, Pico-currents

نینو بائیوٹیکنالوجی:  نینو برقیرے، پیکو کرنٹ 

ڈی این اے کے نمونے میں مخصوص جین کا پتہ لگانا بھوسے کے ڈھیر میں سوئی ڈھونڈنے کے مترادف ہوتا ہے۔ لیکن اب امریکہ، کوریا اور جاپان کے ماہرین کی ایک مشترکہ تحقیقی ٹیم نے یہ ثابت کیا ہے کہ نینو ٹیوبس پر مشتمل برقیروں (نینو ٹیوب الیکٹروڈز) کے جوڑے سے ڈی این اے کی ایک لڑی منسلک کر کے، اور اس میں سے موہوم سا برقی کرنٹ گزار کر یہ مشکل کام بڑی آسانی سے کیا جا سکتا ہے۔

This difficult task can be accomplished very easily by attaching a strand of DNA to a pair of nanotube electrodes and passing a small electric current through it.

فلوریڈا انٹرنیشنل یونیورسٹی، امریکہ؛ پوہانگ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، کوریا؛ اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف جینیٹکس، جاپان کے ماہرین پر مشتمل تحقیقی ٹیم نے ایک دیوار والی کاربن نینو ٹیوب لے کر اس کے دونوں سروں پر ٹٹینایم اور سونے کے ایٹم جمع کر کے نینو برقیروں کا ایک جوڑا تیار کیا۔پھر ایک روانی بوچھاڑ (آئن بیم) کے ذریعے اس ٹیوب کا درمیانی حصہ تحلیل کر دیا گیا۔ اس طرح ان دونوں برقیروں کے درمیان تقریباً 27 نینو میٹر چوڑی خالی جگہ بن گئی۔ یہ چوڑائی بالکل اتنی تھی کہ اس پر 80 اساسی جوڑوں والی ڈی این اے لڑی (DNA strand) کسی رسی کی مانند تانی جا سکتی تھی۔

 دریں اثناء روانی بوچھاڑ نے اس سیلیکان سبسٹریٹ پر بھی ایک "نینو کھائی" بنا دی کہ جس پر یہ سب کچھ رکھا گیا تھا۔ اسے بالکل اسی طرح سمجھا جا سکتا ہے کہ جیسے سرکس میں کرتب دکھانے کیلئے دو اونچی سیڑھیوں کے درمیان ایک رسی مضبوطی سے باندھ دی گئی ہو۔


 ان تجربات میں برقیروں کے درمیان 27 نینو میٹر خلا اس لئے رکھا گیا تھا کہ یہ لمبائی برڈ فلو H5N1 وائرس کے ایک جین کے برابر ہے۔اس طریقے کی درستگی جانچنے کیلئے ماہرین نے 80 اساسی جوڑوں والی ایک ڈی این اے لڑی، ان نینو برقیروں کے درمیان تان دی۔ ڈی این اے لڑی کے یہ خلاء پُر کرتے ہی دونوں برقیروں کے درمیان 25 سے 40 پیکو ایمپیئر کا کرنٹ بہنے لگا۔ (پیکو ایمپیئر سے مراد ایک ایمپیئر کا دس کھربواں حصہ، یعنی $10^{-12}$ ایمپیئر ہے)۔

اس کے بعد ڈی این اے کی اکہری (سنگل) لڑی اسی جگہ میں تانی گئی، جس کی لمبائی تو آتی ہی تھی لیکن اس میں نیوکلیوٹائیڈ اساسوں کی تعداد آدھی (40) تھی۔ اس اکہری لڑی سے صرف ایک پیکو ایمپیئر کرنٹ ہی بہہ سکا۔


 قبل ازیں یہ معلوم تھا کہ اگر ڈی این اے کی دوہری لڑی میں اساسی جوڑے غیر مماثل ہوں تو بہنے والے کرنٹ کی مقدار خاصی کم ہوتی ہے۔ اس کے برعکس، اگر اس دوہری لڑی پر اساسی جوڑوں کی ترتیب ایسی ہو کہ جس سے کوئی جین تشکیل پاتا ہو، تو کرنٹ کی مقدار میں نمایاں اضافہ ہو جاتا ہے۔ ماہرین کو اُمید ہے کہ اس طریقے کی بنیاد پر نہ صرف برڈ فلو، بلکہ اور بھی کئی بیماریوں سے مخصوص جین شناخت کرنا تیز رفتار اور سہل ہو جائے گا۔ بہ الفاظِ دیگر، یہ نینوٹیکنالوجی کی مدد سے امراض کی تشخیص میں ایک نیا قدم ہوگا