Thousands of Iranians Travel to Saudi Arabia for Tense War-Time Hajj Pilgrimage

Thousands of Iranians Travel to Saudi Arabia for Tense War-Time Hajj Pilgrimage

مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید جنگی حالات اور جیو پولیٹیکل کشیدگی کے سائے میں لاکھوں مسلمانوں کے مقدس ترین فریضے حج کی تیاریاں عروج پر ہیں۔ تازہ ترین رپورٹس کے مطابق، ہزاروں ایرانی زائرین ایک انتہائی نازک اور پرامن سفارتی ماحول کے درمیان حج و عمرہ کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب پہنچنا شروع ہو گئے ہیں۔ جنگ کے اس دور میں اس مذہبی سفر کو بین الاقوامی میڈیا کی جانب سے ایک "انتہائی کشیدہ اور غیر معمولی سفر" قرار دیا جا رہا ہے۔

Thousands of Iranians Travel to Saudi Arabia for Tense War-Time Hajj Pilgrimage

وال اسٹریٹ جرنل (WSJ) کی خصوصی رپورٹ کے مطابق، ایران اور امریکہ و اسرائیل کے درمیان بڑھتے ہوئے فوجی تنازعات اور خطے میں پروازوں کے فضائی راستوں کی بندش کے باوجود، تہران اور ریاض نے زائرین کی محفوظ سفری ترسیل کے لیے خصوصی سیکیورٹی چینلز قائم رکھے ہیں۔ سعودی عرب کی حکومت نے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں ایرانی زائرین کے استقبال کے لیے خصوصی انتظامات کیے ہیں تاکہ مذہبی فرائض کی ادائیگی کے دوران کسی بھی قسم کی سیاسی یا جیو پولیٹیکل کشیدگی کا اثر مکہ کے پرامن ماحول پر نہ پڑے۔


جرمن میڈیا 'ڈی ڈبلیو' (DW) کی رپورٹ کے مطابق، مئی 2026 کا یہ حج ایڈیشن اس لحاظ سے منفرد ہے کہ سعودی عرب نے تمام زائرین کو سخت ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ مقدس مقامات پر کسی بھی قسم کے سیاسی نعرے بازی، احتجاج یا بینرز لہرانے سے مکمل پرہیز کریں۔ ایران جنگ کی وجہ سے مشرقِ وسطیٰ میں سیکیورٹی ہائی الرٹ پر ہے، اور سعودی قانون نافذ کرنے والے ادارے کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجی اور اضافی نفری استعمال کر رہے ہیں۔ ڈان نیوز (Dawn) کے مطابق، پاکستانی زائرین سمیت دنیا بھر سے آنے والے عازمینِ حج ان خصوصی حفاظتی اقدامات کو سراہ رہے ہیں۔


 جنگی حالات کے باوجود ایرانی شہریوں کا مکہ پہنچنا یہ ثابت کرتا ہے کہ مذہبی عقیدت جیو پولیٹیکل سرحدوں اور تنازعات سے کہیں زیادہ مضبوط ہے۔ مئی 2026 میں منعقد ہونے والے اس حج سیزن کی کامیابی خطے میں سفارتی رابطوں کو برقرار رکھنے کے لیے بھی ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتی ہے۔ عالمی برادری اور مسلم امہ کی نظریں اس وقت سعودی عرب کی سیکیورٹی مینجمنٹ پر جمی ہیں، اور اب تک کے انتظامات کے مطابق زائرین انتہائی پرسکون اور روحانی ماحول میں عبادات کی ادائیگی میں مصروف ہیں۔