امریکی محکمہ صحت کی قیادت کے حوالے سے ایک بڑی تبدیلی سامنے آئی ہے کیونکہ صدر ٹرمپ نے ڈاکٹر نکول سیفیئر (nicole saphier) کو ملک کا نیا سرجن جنرل نامزد کر دیا ہے۔ تازہ ترین رپورٹس کے مطابق، یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب پہلے سے نامزد امیدوار ڈاکٹر کیسیدی مینز نے نامعلوم وجوہات کی بناء پر اپنی نامزدگی واپس لے لی۔ ڈاکٹر نکول سیفیئر (nicole saphier)، جو کہ ایک معروف ریڈیولوجسٹ اور طبی تجزیہ کار ہیں، اب ٹرمپ انتظامیہ کی صحت عامہ کی پالیسیوں کی سربراہی کریں گی۔
نیویارک ٹائمز (New York Times) کی رپورٹ کے مطابق، ڈاکٹر کیسیدی مینز کی دستبرداری نے وائٹ ہاؤس کو ایک مشکل صورتحال میں ڈال دیا تھا، لیکنڈاکٹر نکول سیفیئر (nicole saphier) کا نام فوری طور پر منظور کر لیا گیا۔ ڈاکٹر سیفیئر میموریل سلوان کیٹرنگ کینسر سینٹر سے وابستہ ہیں اور وہ طویل عرصے سے طبی معاملات پر دو ٹوک موقف رکھنے کے حوالے سے جانی جاتی ہیں۔ ان کی نامزدگی کو قدامت پسند حلقوں میں سراہا جا رہا ہے، کیونکہ وہ صحت کے نظام میں اصلاحات اور انفرادی ذمہ داری کے فلسفے پر یقین رکھتی ہیں۔
یاہو نیوز (Yahoo News) کی ایک خصوصی رپورٹ میں ڈاکٹر نکول سیفیئر (nicole saphier) کے پس منظر پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، وہ فاکس نیوز پر طبی مبصر کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکی ہیں، جہاں انہوں نے کورونا وائرس کی پالیسیوں اور کینسر کی روک تھام جیسے موضوعات پر کھل کر بات کی۔ سی این این (CNN) کا کہنا ہے کہ سرجن جنرل کے طور پر ان کا سب سے بڑا چیلنج ملک میں بڑھتے ہوئے منشیات کے بحران اور ذہنی صحت کے مسائل سے نمٹنا ہوگا۔ ان کی نامزدگی کی توثیق کے لیے اب سینیٹ میں سماعت ہوگی، جہاں ان کے ماضی کے بیانات اور طبی ترجیحات پر بحث متوقع ہے۔
ڈاکٹر نکول سیفیئر (nicole saphier) کی بطور سرجن جنرل نامزدگی ٹرمپ انتظامیہ کے ہیلتھ کیئر ایجنڈے میں ایک نئے باب کا آغاز ہے۔ جہاں ان کی حامی انہیں ایک قابل اور نڈر معالج قرار دیتے ہیں، وہیں مخالفین ان کی پالیسیوں پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔ ڈاکٹر کیسیدی مینز کے پیچھے ہٹنے کے بعد اب تمام نظریں ڈاکٹر سیفیئر پر لگی ہیں کہ وہ کس طرح امریکی عوام کی صحت کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کرتی ہیں۔ اگر سینیٹ ان کے نام کی منظوری دے دیتا ہے، تو وہ امریکہ کی تاریخ کی بااثر ترین سرجن جنرلز میں سے ایک ثابت ہو سکتی ہیں۔

