US-Iran Conflict: Congress Debates Cease-fire as War Fears Escalate

US-Iran Conflict: Congress Debates Cease-fire as War Fears Escalate

واشنگٹن اور تہران کے درمیان بڑھتے ہوئے فوجی تناؤ (us-iran) نے امریکی ایوانِ اقتدار میں ایک نئی ہلچل پیدا کر دی ہے۔ تازہ ترین رپورٹس کے مطابق، صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے ایران کے خلاف سخت گیر موقف اپنانے کے بعد اب کانگریس میں جنگ کو روکنے یا اسے محدود کرنے کے حوالے سے گرما گرم بحث جاری ہے۔ پینٹاگون کے اعلیٰ حکام اور قانون سازوں کے درمیان اس بات پر شدید اختلافات پائے جاتے ہیں کہ آیا امریکہ کو مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئی اور بڑی جنگ کی طرف جانا چاہیے یا سفارت کاری کو ایک آخری موقع دینا چاہیے۔

US-Iran Conflict: Congress Debates Cease-fire as War Fears Escalate

یاہو نیوز (Yahoo News) کی رپورٹ کے مطابق، ہاؤس اسپیکر مائیک جانسن نے واضح کیا ہے کہ کانگریس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور قومی سلامتی کے مفاد میں کسی بھی فیصلے سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔ دوسری جانب، نیویارک ٹائمز (New York Times) نے انکشاف کیا ہے کہ وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ اور کانگریس کے درمیان ایران کے ساتھ ممکنہ فائر بندی (Cease-fire) کے حوالے سے خفیہ بات چیت جاری ہے، تاہم وائٹ ہاؤس کا سخت گیر دھڑا اس کی مخالفت کر رہا ہے۔ امریکہ اور ایران  (us-iran)   کے درمیان یہ محاذ آرائی اب صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکی سیاست کا بھی مرکز بن چکی ہے۔


سی این بی سی (CNBC) کی معاشی اور دفاعی رپورٹ کے مطابق، سینٹ کام (CENTCOM) نے آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کے پیشِ نظر اپنی تیاری مکمل کر لی ہے۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف   (us-iran)  کسی بھی ممکنہ فوجی کارروائی کے خدشے نے عالمی منڈیوں کو پہلے ہی دباؤ میں ڈال رکھا ہے۔ کانگریس کے کئی ارکان نے متنبہ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ مکمل جنگ نہ صرف جانی نقصان کا باعث بنے گی بلکہ امریکی معیشت کو بھی شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔ قانون ساز اب ایک ایسی قرارداد پر کام کر رہے ہیں جس کے ذریعے صدر کے جنگ چھیڑنے کے اختیارات کو محدود کیا جا سکے، تاکہ کسی بھی بڑی تباہی سے بچا جا سکے۔


 امریکہ اور ایران  (us-iran)   کے تعلقات تاریخ کے نازک ترین موڑ پر پہنچ چکے ہیں۔ مئی 2026 کا آغاز ان دونوں ممالک کے درمیان کسی بڑے فیصلے کا گواہ بن سکتا ہے۔ جہاں ایک طرف جنگی بگل بج رہے ہیں، وہیں کانگریس کے اندر موجود سنجیدہ حلقے امن کی راہیں تلاش کرنے میں مصروف ہیں۔ صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کے لیے اب سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ ایران کو جوہری ہتھیاروں سے دور رکھنے کے اپنے ہدف کو بغیر کسی بڑے فوجی تصادم کے کیسے حاصل کرتی ہے۔ اس بحران کا انجام نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کے امن و امان پر گہرے اثرات مرتب کرے گا۔