بھارت اور بنگلہ دیش کی سرحد (bangladesh–india border) پر سکیورٹی کے حوالے سے ایک انتہائی غیر روایتی اور متنازع حکمت عملی سامنے آئی ہے جس نے عالمی سطح پر انسانی حقوق اور ماحولیاتی ماہرین کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق، بھارتی حکام سرحدی باڑ کے ساتھ آبی گزرگاہوں میں مگرمچھ اور زہریلے سانپ چھوڑنے کے منصوبے پر غور کر رہے ہیں۔ اس "حیاتیاتی باڑ" کا مقصد سرحد پار سے ہونے والی مبینہ غیر قانونی نقل و حمل کو روکنا ہے، لیکن اس اقدام نے ایک نیا انسانی بحران پیدا ہونے کا خدشہ پیدا کر دیا ہے۔
الجزیرہ (Al Jazeera) کی فیچر رپورٹ کے مطابق، بھارت کی جانب سے مگرمچھوں اور سانپوں کو بطور دفاعی ہتھیار استعمال کرنے کی منطق یہ ہے کہ یہ قدرتی شکاری سرحد کے ان حصوں کی نگرانی کریں گے جہاں باڑ لگانا جغرافیائی طور پر مشکل ہے۔ تاہم، انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسے "وحشیانہ اقدام" قرار دیتے ہوئے متنبہ کیا ہے کہ بھارت اور بنگلہ دیش کی سرحد (bangladesh–india border) کے قریب رہنے والے عام شہری اور دیہاتی ان جانوروں کا پہلا شکار بن سکتے ہیں۔ ہم انگلش (Hum English) کی رپورٹ کے مطابق، اس منصوبے نے نہ صرف انسانی جانوں کو خطرے میں ڈالا ہے بلکہ اس سے علاقے کے قدرتی ایکو سسٹم میں بھی شدید بگاڑ پیدا ہونے کا امکان ہے۔
دی بزنس اسٹینڈرڈ (TBS News) کے تجزیے کے مطابق، بھارت کی جانب سے سرحد پر اس قدر سختی کے پیچھے کئی سیاسی اور سکیورٹی وجوہات کارفرما ہیں۔ لیکن بھارت اور بنگلہ دیش کی سرحد (bangladesh–india border) پر جانوروں کے استعمال کا یہ منصوبہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات میں مزید تلخی پیدا کر سکتا ہے۔ ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ مخصوص جانوروں کو غیر فطری طریقے سے کسی خاص علاقے میں منتقل کرنا جنگلی حیات کے تحفظ کے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ اس منصوبے کے خلاف عوامی سطح پر اور بین الاقوامی فورمز پر غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے، جہاں اسے جنیوا کنونشن اور انسانی وقار کے منافی قرار دیا جا رہا ہے۔
بھارت اور بنگلہ دیش کی سرحد (bangladesh–india border) پر مگرمچھوں کی تعیناتی کا منصوبہ سکیورٹی سے زیادہ ایک انسانی المیہ بنتا نظر آ رہا ہے۔ جہاں ایک طرف بھارت اسے سرحدی دفاع کا موثر طریقہ قرار دے رہا ہے، وہیں دوسری طرف عالمی برادری اسے غیر انسانی فعل قرار دے کر بند کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ مئی 2026 کے یہ واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ سرحدوں کی حفاظت کے نام پر اپنائے جانے والے غیر روایتی طریقے مقامی آبادی اور ماحول کے لیے کتنے مہلک ثابت ہو سکتے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا عالمی دباؤ کے نتیجے میں بھارت اس متنازع منصوبے سے پیچھے ہٹتا ہے یا نہیں۔

