عکس نگاری ۔۔۔ اور اب رنگین ایکس رے
برطانوی ماہرین نے ایک ایسی ایکس رے مشین تیار کی ہے جس کے ذریعے کسی نمونے کی کیمیائی ترکیب، غیر قانونی آلات اور بیمار انسانی بافتوں سمیت سبھی کچھ "رنگین" دیکھا جاسکے گا۔ مانچسٹر یونیورسٹی میں ماہرِ مادیات رابرٹ سرنیک اور ان کے دو ساتھیوں نے ایک مختصر آلہ تیار کیا ہے جو مختلف طولِ موج والی ایکس ریز شناخت کر سکتا ہے اور ان کے درمیان تمیز بھی کر سکتا ہے۔ یہ کھوجی 256 سیلیکان پکسلز پر مشتمل ہے جبکہ ہر پکسل کی چوڑائی 50 مائیکرو میٹر (0.05 ملی میٹر) ہے۔ پکسلز کے اس مجموعے کی حفاظت کے لئے اس کے اوپر ایک ٹنگسٹن فلٹر لگایا گیا ہے جس کی موٹائی 20 سینٹی میٹر (تقریباً 8 انچ) ہے۔ ٹنگسٹن کے حفاظتی فلٹر میں 256 سوراخ ہیں جبکہ ہر سوراخ کی چوڑائی بھی پچاس مائیکرو میٹر ہے۔
یہ ٹھیک اُن جگہوں پر جہاں پکسلز موجود ہیں، تاکہ ایکس ریز صرف پکسلز تک ہی پہنچ سکیں اور سرکٹ کا باقی حصہ ان کی پہنچ سے دور رہے۔ بصورتِ دیگر یہ پورا سرکٹ ناکارہ ہو کر رہ جائے گا۔ کسی نمونے سے ٹکرا کر پلٹنے والی ایکس ریز کئی طرح کے تعدد (فریکوئنسیز) پر مشتمل ہوتی ہیں۔ یہ شعاعیں ڈیٹیکٹر میں نصب مختلف پکسلز تک پہنچتی ہیں، جو انہیں نہ صرف محسوس کرتی ہیں، بلکہ ان کی مختلف فریکوئنسیز کو بھی الگ الگ شناخت کرتی ہیں۔ زیرِ مشاہدہ نمونے کو بڑی آہستگی سے ان پکسلز کے سامنے سے گزارا جاتا ہے، اور یوں تقریباً دو گھنٹے میں اس کا ایک مکمل، سہ جہتی (3D) اور رنگین "ایکس رے عکس" تیار ہو جاتا ہے۔ اس ایجاد کو "ٹیڈی" (TEDDI) کا نام دیا گیا ہے جو "ٹو مو گرافک انرجی ڈسپرسیو ایکس رے امیجنگ" کا مخفف ہے۔
قبل ازیں "ٹیڈی" کے جو ابتدائی نمونے (پروٹوٹائپ) تیار کئے گئے تھے، وہ صرف ایک پکسل پر مشتمل تھے اور کسی جسم کا رنگین سہ جہتی ایکس رے بنانے میں بیس گھنٹے لگا دیتے تھے۔ اگرچہ یہ نیا پروٹوٹائپ بھی روایتی ایکس رے اور سی ٹی اسکین کے مقابلے میں بہت سست رفتار ہے، لیکن رابرٹ سرنیک کا کہنا ہے کہ بہتر ایکس رے ڈیٹیکٹرز (پکسلز) اور زیادہ پکسلز والے نظاموں کی بدولت یہ عمل صرف چند منٹوں پر محیط رہ جائے گا۔ موجودہ دور کے "بلیک اینڈ وائٹ" ایکس ریز میں کسی بھی چیز کا عکس صرف ایک رنگی (مونو کرومیٹک) ہوتا ہے، جس کی وجہ سے زیرِ مشاہدہ جسم کی بہت سی جزئیات دیکھی نہیں جاسکتیں۔
اس کے مقابلے میں رنگین ایکس رے عکس، کئی گنا معلومات دے سکتا ہے۔ مثلاً مختلف طولِ موج والی ایکس ریز کسی چیز سے ٹکرا کر مختلف انداز سے منکسر (diffract) ہوں گی اور ایک مخصوص انکساری نمونے (ڈفریکشن پیٹرن) کو جنم دیں گی۔ سرنیک نے اسے "انکساری نشانِ انگشت" (ڈفریکشن فنگر پرنٹ) کا نام دیا ہے۔ اس مخصوص انکساری نمونے کو بنیاد بنا کر کسی زیرِ مشاہدہ چیز کی سالماتی ترتیب اور کیمیائی ترکیب کی باریک بینی جزئیات تک دیکھی جاسکتی ہیں۔
اسی طرح ایکس رے انکسار سے بے قاعدہ جسمانی بافتوں، دھاتوں کی قلمی ساخت اور ان کے جوڑ میں تناؤ تک کا پتا چلایا جاسکتا ہے۔ اب تک ٹیڈی کا یہ پروٹوٹائپ پولیمر، ہڈیوں اور ایلومینیم کے ٹکڑوں پر آزمایا جاچکا ہے۔ لیکن فی الحال یہ کسی بھی نمونے میں 1 تا 2 ملی میٹر سے زیادہ گہرائی تک نہیں جھانک سکتا۔ وجہ یہ ہے کہ سیلیکان پر مبنی پکسل ان طاقتور ایکس ریز کو محسوس کرنے کے قابل ہی نہیں جو کسی جسم میں زیادہ گہرائی تک، یا پھر کثیف مادوں میں سے گزر سکتی ہیں۔
تاہم، سرنیک کو یقین ہے کہ سیلیکان کے بجائے کیڈمیم زنک ٹیلورائیڈ جیسے بھاری نیم موصل مادوں (سیمی کنڈکٹرز) کے استعمال سے یہ مسئلہ بھی حل کرلیا جائے گا۔

