مشرقِ وسطیٰ میں جاری ایران جنگ کے دوران سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک نئے بیان نے عالمی اور بالخصوص پاکستانی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ مئی 2026 کے آخری ہفتے کی تازہ ترین رپورٹس کے مطابق، ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور اسرائیل کے تنازع کے تناظر میں ابراہام اکارڈز (Abraham Accords) کی توسیع اور مسلم ممالک کے کردار پر ایک اہم پوسٹ شیئر کی ہے، جس کے بعد خطے کی جیو پولیٹکس میں ایک نئی بحث کا آغاز ہو گیا ہے۔
امریکی نیوز ویب سائٹ ایکسیوس (Axios) کی رپورٹ کے مطابق، ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر وہ اقتدار میں ہوتے تو ایران جنگ کی نوبت نہ آتی اور وہ ابراہام اکارڈز (Abraham Accords) کے تحت مزید مسلم ممالک کو اسرائیل کے ساتھ امن معاہدوں میں شامل کر چکے ہوتے۔ ٹرمپ کا ماننا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں مستقل امن کا راستہ صرف ان اسٹریٹجک معاہدوں کی بحالی سے ہی ممکن ہے، اور وہ مئی 2026 کے اس سنگین بحران کو ختم کرنے کے لیے مسلم ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ دوبارہ مضبوط روابط قائم کرنے کے خواہش مند ہیں۔
اس معاملے میں سب سے دلچسپ اور سنسنی خیز پہلو پاکستانی قیادت کے حوالے سے سامنے آیا ہے۔ بھارتی میڈیا 'این ڈی ٹی وی' (NDTV) کی رپورٹ کے مطابق، ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ابراہام اکارڈز (Abraham Accords) اور مسلم ممالک سے متعلق جاری کی گئی ایک حالیہ پوسٹ یا فہرست میں پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کا نام تو شامل نظر آتا ہے، لیکن وزیراعظم شہباز شریف کا نام اس میں موجود نہیں ہے۔ بین الاقوامی مبصرین مئی 2026 کی اس پیش رفت کو واشنگٹن اور پاکستان کے مقتدر حلقوں کے درمیان براہِ راست رابطوں اور ٹرمپ کی ذاتی ترجیحات کے عکاس کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
ڈان نیوز (Dawn) کے مطابق، ٹرمپ کے اس بیان نے پاکستان کے سفارتی اور سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اگرچہ پاکستان کا اسرائیل اور ابراہام اکارڈز کے حوالے سے اصولی مؤقف ہمیشہ سے انتہائی واضح اور غیر مبہم رہا ہے، لیکن ایران جنگ کے اس نازک موڑ پر آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کے ناموں کے گرد گھومتی یہ میڈیا رپورٹس اسلام آباد کے خارجہ امور کے لیے نئے چیلنجز پیدا کر سکتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں اس حوالے سے مزید سفارتی وضاحتیں سامنے آنے کا امکان ہے۔

