UK State Pension Triple Lock Debate: Scrapping It Now Would Be a Disaster

UK State Pension Triple Lock Debate: Scrapping It Now Would Be a Disaster

برطانیہ میں بزرگ شہریوں کی مالیاتی حفاظت کے ضامن 'اسٹیٹ پینشن ٹریپل لاک' (Triple Lock) کے مستقبل کے حوالے سے مئی 2026 کے دوران بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔  حالیہ رپورٹس اور تجزیوں کے مطابق، ملکی معیشت پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے باعث اس پالیسی کو تبدیل کرنے کی تجاویز سامنے آ رہی ہیں، تاہم ماہرین اور عوامی حلقوں کی جانب سے اس کی شدید مخالفت کی جا رہی ہے۔

UK State Pension Triple Lock Debate: Scrapping It Now Would Be a Disaster

ڈیلی ٹیلی گراف (The Telegraph) کے ایک معاشی تجزیے کے مطابق، اگرچہ یہ سچ ہے کہ ٹریپل لاک' (Triple Lock)  پالیسی (جو پینشن میں مہنگائی، اوسط اجرت یا کم از کم 2.5 فیصد کے حساب سے اضافہ یقینی بناتی ہے) ہمیشہ کے لیے برقرار نہیں رہ سکتی، لیکن موجودہ معاشی حالات میں اسے فوری طور پر ختم کرنا ایک بڑی تباہی (Disaster) ثابت ہوگا۔ ماہرینِ معاشیات کا کہنا ہے کہ پینشنرز پہلے ہی زندگی گزارنے کے بڑھتے ہوئے اخراجات سے نبردآزما ہیں، اور ایسے وقت میں اس حفاظتی ڈھال کو ہٹانا لاکھوں بزرگوں کو غربت کی لکیر سے نیچے دھکیل دے گا۔


معروف ریسرچ ادارے 'یو گور' (YouGov) کے مئی 2026 کے تازہ ترین سروے کے مطابق، برطانوی عوام کی اکثریت اسٹریپل لاک' (Triple Lock)  کو 'ڈبل لاک' (Double Lock) میں تبدیل کرنے کی سخت مخالف ہے۔ سروے کے نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ عوام پینشن کے بجٹ میں کسی بھی قسم کی کٹوتی کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں، کیونکہ وہ اسے بزرگوں کے بنیادی حقوق پر سمجھوتہ سمجھتے ہیں۔ دوسری طرف، یارکشائر پوسٹ (Yorkshire Post) میں شائع ہونے والے عوامی خطوط اور اداریوں میں حکومت کو خبردار کیا گیا ہے کہ ملکی مالیات اور بجٹ خسارے کی سزا پینشنرز کو نہ دی جائے، کیونکہ یہ قومی معیشت کی خرابی کا نتیجہ ہیں نہ کہ بزرگوں کا قصور۔


برطانیہ میں پینشن کاٹریپل لاک' (Triple Lock)  مئی 2026 میں ایک حساس سیاسی اور معاشی مسئلہ بن چکا ہے۔ جہاں ایک طرف حکومت پر بجٹ خسارہ کم کرنے کا دباؤ ہے، وہیں دوسری طرف عوامی اور اخلاقی محاذ پر پینشنرز کے حقوق کا تحفظ پہلی ترجیح دکھائی دیتا ہے۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ حکومت کو پینشنرز کو سزا دینے کے بجائے آمدنی کے دیگر متبادل ذرائع تلاش کرنے چاہئیں، تاکہ ملکی مالیات کو سنبھالا دیا جا سکے اور بزرگ شہریوں کا مستقبل بھی محفوظ رہے۔