ٹیکنالوجی کی دنیا کی معروف کمپنی الفابیٹ (گوگل) نے سال 2026 کی پہلی سہ ماہی (Q1) کے مالیاتی نتائج کا اعلان کر دیا ہے، جس میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) اور کلاؤڈ بزنس نے کمپنی کی آمدنی کو نئی بلندیوں پر پہنچا دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق، سی ای او سندر پچائی (sundar pichai) کی قیادت میں کمپنی نے سرمایہ کاروں کی توقعات سے بڑھ کر کارکردگی دکھائی ہے، جس کے نتیجے میں اسٹاک مارکیٹ میں گوگل کے حصص کی قیمتوں میں بھی خاطر خواہ اضافہ دیکھا گیا ہے۔
گوگل کے آفیشل بلاگ (Inside Google) پر جاری کردہ اپنے پیغام میں سندر پچائی (sundar pichai) نے کہا کہ کمپنی کی جانب سے اے آئی (AI) انفراسٹرکچر میں کی جانے والی طویل مدتی سرمایہ کاری اب رنگ لا رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ گوگل سرچ اور یوٹیوب کے علاوہ "گوگل کلاؤڈ" اب کمپنی کے منافع کا ایک بڑا ستون بن چکا ہے، جو کہ عالمی سطح پر کاروباری اداروں کو جدید ترین اے آئی ٹولز فراہم کر رہا ہے۔ پچائی کے مطابق، 2026 کا سال گوگل کے لیے 'تخلیقی اے آئی' (Generative AI) کو عام صارفین تک پہنچانے کا سال ثابت ہوگا۔
فارچیون (Fortune) کی رپورٹ کے مطابق، گوگل کے کلاؤڈ ڈویژن کی ترقی نے وال اسٹریٹ کے ماہرین کو حیران کر دیا ہے، جہاں منافع کی شرح گزشتہ سال کے مقابلے میں کہیں زیادہ رہی ہے۔ یاہو فنانس (Yahoo Finance) کے تجزیے کے مطابق، 30 اپریل 2026 کو اسٹاک مارکیٹ میں مثبت رجحان کی ایک بڑی وجہ گوگل کے یہ شاندار نتائج تھے۔سندر پچائی (sundar pichai) کے دورِ اقتدار میں گوگل نے نہ صرف اشتہارات کی منڈی میں اپنی برتری برقرار رکھی ہے بلکہ وہ مائیکروسافٹ اور ایمازون جیسے حریفوں کو کلاؤڈ اور اے آئی کے میدان میں بھی سخت ٹکر دے رہے ہیں۔
الفابیٹ کے 2026 کے پہلے سہ ماہی کے نتائج گوگل کی مستحکم معاشی پوزیشن اور تکنیکی برتری کا ثبوت ہیں۔سندر پچائی (sundar pichai) کے اسٹریٹجک فیصلوں نے کمپنی کو مستقبل کی ضروریات کے مطابق ڈھال دیا ہے۔ جہاں ایک طرف عالمی معیشت دباؤ کا شکار ہے، وہاں گوگل کا کلاؤڈ اور اے آئی سیکٹر میں ریکارڈ منافع کمانا یہ ظاہر کرتا ہے کہ ٹیکنالوجی کے شعبے میں ابھی بھی ترقی کی بے پناہ گنجائش موجود ہے۔ سرمایہ کار اب گوگل کی اگلی چالوں پر نظریں جمائے ہوئے ہیں، خصوصاً اس بات پر کہ کمپنی اپنی اے آئی مصنوعات کو کس طرح مزید بہتر بناتی ہے۔

