خون جمنے (Blood Clotting) سے روکنے کے لیے چاندی کے نینو و زرات
بھارتی سائنس دانوں نے دریافت کیا ہے کہ دل کی نالیوں میں خون جمنے (Blood Clotting)اور اس کے نتیجے میں ہونے والے ہارٹ اٹیک اور مرگی کے امراض سے بچنے کے لیے خون کو پتلا کرنے والی اسکرین اور دیگر اینٹی پلیٹلیٹس ادویہ کے متبادل کے طور پر چاندی کے ننھے ذرات بھی نہایت مفید ثابت ہو سکتے ہیں خون کو پتلا کرنے والی اکثر ادویہ بعض اوقات خطرناک جریان خون کا باعث بھی بن جاتی ہیں یہ نئی دوا دراصل چاندی کے نہایت ننھے انسانی بال سے 50 ہزار گنا زیادہ باریک ذرات پر مشتمل ہے جو بذریعہ انجیکشن دوران خون میں شامل کیے جائے گی بنارس کی ہندو یونیورسٹی کی انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنس کے ماہرین نے دیبابرتاداس کی سربراہی میں یہ دوا تیار کی ہے
خون پتلا کرنے والے دواؤں کے ضمنی اثرات کے باعث ماہرین ایک عرصے سے ایسی دوا کی تلاش میں تھے جو پلیٹلیٹس کی سرگرمی کو اعتدال پر رکھ سکے پلیٹلیٹس کی کارکردگی میں نقص کی صورت میں یہ خون کو گاڑھا کرتے ہوئے اس کی پھٹکیاں بنا دیتے ہیں جو جان لیوا ثابت ہو سکتی ہیں۔اب تک چاندی کے ان نیندوں ذرات کو چوہوں پر آزمایا جا چکا ہے ان آزمائشوں کے دوران تو پلیٹلیٹس کے اکٹھا ہو کر لوتھڑا بنانے کی صلاحیت میں 40 فیصد تک کمی دیکھی گئی ہے اس دوا کے ضمنی اثرات بھی بالکل نہ تھے ماہرین کو امید ہے کہ بہت جلد اس دوا کی انسانی آزمائش بھی شروع ہو جائے گی

