امن کی پہچان پاکستان (Peace talks)
ایران نے امریکہ کے ساتھ دوسرے دور کی بات چیت میں اپنی شرکت کو سرکاری طور پر مسترد کر دیا ہے، جس کی وجہ اعتماد کی کمی اور امریکہ کی مطلوبہ خواہشات بتائی گئی ہیں: ایرانی سرکاری میڈیا
۔۔۔۔۔۔(Peace talks)۔۔۔۔۔۔
اسلام آباد میں غیر ملکی وفود کی متوقع آمد کے موقع پر متبادل ٹریفک پلان تیار اسلام آباد ٹریفک پولیس کے مطابق ریڈزون اور توسیعی ریڈزون ہر قسم کی ٹریفک کے لیے مکمل طور پر بند رہے گا۔
۔۔۔۔۔۔(Peace talks)۔۔۔۔۔۔
ہمارے نمائندے مذاکرات کیلئے کل اسلام آباد میں ہوں گے، صدر ٹرمپ
امریکی نائب صدر JD Vance اسلام آباد ٹاکس 2.0 میں امریکی وفد کی قیادت کریں گے۔
۔۔۔۔۔۔(Peace talks)۔۔۔۔۔۔
اقوامِ متحدہ میں اسرائیل کے سفیر کا کہنا ہے کہ پاکستان، چین اور فرانس نے ایران کے ساتھ ایک “خفیہ ہرمز معاہدہ” کیا ہے اور ان کے جہاز آبنائے ہرمز سے گزر رہے ہیں ، اسرائیلی سفیر کا مزید کہنا تھا کہ دوسری طرف ایران کی جانب سے دنیا کو بتایا جا رہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے کوئی بھی نہیں گزر سکتا
۔۔۔۔۔۔(Peace talks)۔۔۔۔۔۔
اکیسویں صدی کا ایک اہم ترین واقعہ رویش کمار نے کہا تھا کہ اسلام آباد میں ہونے والی بات چیت اکیسویں صدی کی تاریخ کا ایک بڑا واقعہ بننے جا رہی ہے، اور اب یہ لمحہ قریب آ چکا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ اُن کے نمائندے پیر کے روز اسلام آباد پہنچ جائیں گے، ایرانی وفد بھی موجود ہوگا، باقاعدہ مذاکرات ہوں گے، اور اگر معاملات توقع کے مطابق آگے بڑھے—جس کے امکانات روشن ہیں اور کافی پیشگی تیاری بھی ہو چکی ہے—تو ممکن ہے کہ 24 سے 48 گھنٹوں کے اندر ایک معاہدہ طے پا جائے۔ یہ معاہدہ صرف ایران، امریکا اور پاکستان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے غیر معمولی اہمیت کا حامل ہوگا، کیونکہ اس سے جنگ کے خاتمے اور امن کی بحالی کی راہ ہموار ہو سکتی ہے، اور یہ امریکا کے تکبر اور اسرائیلی جبر کے خلاف باشعور اقوام کی ایک بڑی اخلاقی کامیابی بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ پہلا قدم ہے، اور یورپ بھی بدلتی صورتحال کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو اس کا بڑا کریڈٹ آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے دورۂ تہران کو جائے گا۔ ایک ایسے وقت میں جب عالمی طاقتیں ایران پر دباؤ بڑھا رہی تھیں، یہ دورہ ایک اہم سفارتی پیش رفت ثابت ہوا—ایک ایسی حکمت عملی جس نے مشکل کو آسان اور ناممکن کو ممکن بنانے کی راہ دکھائی۔ رویش کمار کے مطابق، اسلام آباد کی یہ بات چیت اکیسویں صدی کا ایک بڑا واقعہ ثابت ہوگی، اور ہم سب اس تاریخی لمحے کے گواہ بننے والے ہیں، اس امید کے ساتھ کہ تہران میں ایرانی قیادت اور پاکستان نے جو خواب دیکھا تھا وہ حقیقت کا روپ دھارے۔ باقی، فیصلہ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔
۔۔۔۔۔۔(Peace talks)۔۔۔۔۔۔
امریکا، ایران مذاکرات، پاکستانی ذرائع کے سی این این کو اہم ترین انکشافات:
سی این این کو ایک پاکستانی ذریعے نے بتایا کہ گزشتہ روز امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے انتہائی مذاکرات کے دوران بھرپور سفارتکاری دیکھنے میں آئی، پاکستان ثالث کے طور پر شامل تھا، ذریعے کے مطابق، دونوں جانب پر امیدی کا اظہار کیا گیا، مذاکراتی ٹیموں نے تسلیم کیا کہ سفارتکاری ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے، کوئی بھی فریق 28 فروری جیسے حالات کی واپسی نہیں چاہتا ذریعے نے بتایا کہ پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اس ثالثی قیادت میں بھرپور طریقے سے متحرک تھے، یہ عمل جمعہ کی رات اس وقت شروع ہوا جب ایرانی وفد اسلام آباد پہنچا، اور ہفتہ کو مذاکرات شروع ہونے سے پہلے اور بعد تک مجموعی طور پر 29 گھنٹے سے زیادہ جاری رہا، سرکاری طور پر طویل مذاکرات 21 گھنٹے تک چلے، تاہم وفود جنگ کے خاتمے کیلئے کسی حتمی معاہدہ پر پہنچنے میں ناکام رہے۔
پاکستانی ذریعے کا کہنا تھا کہ دونوں فریقین اپنے اپنے عوامی ردعمل کو مد نظر رکھ رہے تھے، انہوں نے خطے اور اس سے باہر موجود ان مخالفین سے ہوشیار رہنے کی ضرورت پر زور دیا جو ان مذاکرات کی کامیابی نہیں چاہتے تھے، مجموعی طور پر پاکستان نے اس بات کو یقینی بنایا کہ یہ پورا عمل انتہائی خفیہ اور محفوظ رہے تاکہ کوئی معلومات افشا نہ ہوں، دونوں فریقین کو ایک متوازن اور محفوظ ماحول فراہم کیا جاسکے۔۔۔!!!
۔۔۔۔۔۔(Peace talks)۔۔۔۔۔۔
پاکستان آنے والے دنوں میں اسلامی جمہوریہ ایران اور امریکہ کے درمیان رابطے اور بات چیت کو آسان بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہا ہے اور کرتا رہے گا۔ یہ بات نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے اسلام آباد مذاکرات کے اختتام پر اپنے ریمارکس میں کہی۔ اسحاق ڈار نے وزیر اعظم پاکستان محمد شہباز شریف کی طرف سے خطے میں فوری جنگ بندی کے لیے کی گئی کال پر ردعمل دینے اور اسلام آباد میں امن مذاکرات کے لیے وزیر اعظم کی دعوت کو قبول کرنے پر اسلامی جمہوریہ ایران اور امریکہ کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی سربراہی میں امریکہ کا وفد اور اسلامی جمہوریہ ایران کا وفد ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر غالب کی سربراہی میں اسلام آباد مذاکرات میں شرکت کے لیے کل پاکستان پہنچا ہے۔ نائب وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی سٹاف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے ساتھ مل کر دونوں فریقوں کے درمیان شدید اور تعمیری مذاکرات کے کئی دور میں ثالثی کی، جو گزشتہ چوبیس گھنٹوں تک جاری رہی اور آج صبح ختم ہوئی۔ پاکستان کی جانب سے اسحاق ڈار نے جنگ بندی کے حصول میں مدد کے لیے پاکستان کی کوششوں اور اس کے ثالثی کردار کو سراہتے ہوئے فریقین کا شکریہ ادا کیا۔ نائب وزیر اعظم نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ دونوں فریق پورے خطے اور اس سے باہر کے لیے پائیدار امن اور خوشحالی کے حصول کے لیے مثبت جذبے کے ساتھ جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ضروری ہے کہ فریقین جنگ بندی کے اپنے عزم کو برقرار رکھیں۔
۔۔۔۔۔۔(Peace talks)۔۔۔۔۔۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ پاکستان نے ایران کے ساتھ امن مذاکرات میں تعمیری کردار ادا کیا۔ اسلام آباد میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے جے ڈی وینس نے وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف آرمی سٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو ناقابل یقین انداز میں مذاکرات کی میزبانی کرنے پر سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں جو بھی خامیاں ہیں، یہ پاکستانیوں کی وجہ سے نہیں جنہوں نے شاندار کام کیا۔ جے ڈی وینس نے کہا کہ ہم ایران کے لیے ایک بہترین، آسان اور حتمی تجویز چھوڑ رہے ہیں اور دیکھیں گے کہ آیا ایران اسے قبول کرتا ہے یا نہیں۔ انھوں نے کہا کہ امریکہ کو ایک مضبوط عزم کی ضرورت ہے کہ ایران کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے جوہری ہتھیار تیار نہیں کرے گا۔ دریں اثناء ایران کی وزارت خارجہ نے بھی مذاکرات کے اختتام کے بعد ایک بیان جاری کیا ہے جس میں یہ اشارہ دیا گیا ہے کہ وہ کھلے ذہن کے ساتھ مذاکرات میں آئے ہیں۔ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں مذاکرات کو شدید قرار دیا تاہم کہا کہ مذاکرات کی کامیابی کا انحصار فریقین کی سنجیدگی اور نیک نیتی پر ہے۔
۔۔۔۔۔۔(Peace talks)۔۔۔۔۔۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے امریکہ اور ایران سے نیک نیتی کے ساتھ اسلام آباد مذاکرات میں شرکت کا مطالبہ کیا ہے۔ نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں باقاعدہ بریفنگ کے دوران، ان کے ترجمان نے صحافیوں کو بتایا کہ اقوام متحدہ کے سربراہ نے فریقین پر زور دیا کہ وہ کشیدگی میں کمی کو آگے بڑھانے اور دشمنی کی طرف واپسی کو روکنے کے لیے سفارتی موقع کا استعمال کریں۔ انتونیو گوٹیرس نے زور دے کر کہا کہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق تنازع کے پرامن حل کا کوئی قابل عمل متبادل نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔۔(Peace talks)۔۔۔۔۔۔
وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے اسلام آباد میں جاری مذاکرات میں بامعنی نتائج کے حصول کے لیے ثالث کے طور پر اپنا کردار ادا کرنے کے لیے پاکستان کے مخلصانہ عزم کا اعادہ کیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج اسلام آباد مذاکرات میں ایرانی وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ ایرانی وفد کی قیادت ایرانی مشاورتی اسمبلی کے اسپیکر محمد باقر غالب نے کی اور اس میں وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی شامل تھے۔ وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان علاقائی اور عالمی امن و استحکام کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے مذاکرات میں ایران کی تعمیری مصروفیات اور مثبت کردار کو بھی سراہا۔ ملاقات کے دوران نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، چیف آف ڈیفنس اور آرمی چیف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیر داخلہ سید محسن رضا نقوی بھی موجود تھے۔
۔۔۔۔۔۔(Peace talks)۔۔۔۔۔۔
امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی کوریج کے لیے دونوں ممالک کے وفود کے علاوہ دنیا بھر سے صحافی بھی اسلام آباد پہنچے ہیں جن کے لیے جناح کنونشن سینٹر میں مرکز بنایا گیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔(Peace talks)۔۔۔۔۔۔
سیاسی اختلافات کو بھلا کر آج پاکستان کے لیے نہایت یادگار دن ہے امریکہ جیسا ملک اور دنیا کے دیگر 43 ملک چل کر آپکے دروازے پر آئے ہیں اور یہی سفارتی محاذ پر اہم کامیابی ہے
سی ڈی ایف پر کامل بھروسہ رکھیں، وہ حالات سے بخوبی آگاہ ہیں اور ان شاء اللہ بہترین انداز میں اپنا فرض نبھائیں گے
🇮🇷🤝🇵🇰
۔۔۔۔۔۔(Peace talks)۔۔۔۔۔۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے امریکی اور ایرانی وفود کی تعمیری شمولیت کے عزم کو سراہتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ اسلام آباد مذاکرات خطے میں پائیدار امن کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہوں گے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار آج اسلام آباد میں امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس سے ملاقات کے دوران کیا۔ وزیر اعظم نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان خطے میں پائیدار امن کی جانب پیشرفت کے لیے دونوں فریقوں کی سہولت کاری جاری رکھنے کا منتظر ہے۔ ملاقات میں امریکی نائب صدر کی معاونت خصوصی ایلچی سٹیو وٹ کوف اور جیرڈ کشنر نے کی جبکہ وزیراعظم کی معاونت نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور وزیر داخلہ سینیٹر سید محسن رضا نقوی نے کی۔
۔۔۔۔۔۔(Peace talks)۔۔۔۔۔۔
پاکستان کا سعودی عرب اور امریکہ پر انحصار اس کی غیرجانبداری پر سوال اٹھاتا ہے۔۔۔‘ اس وقت کچھ ایرانیوں کو خدشہ ہے کہ پاکستان میں موجود ایرانی ٹیم پر حملہ ہو سکتا ہے۔ تاہم انھوں نے واضح کیا کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہمیں پاکستان پر اعتماد نہیں بلکہ امریکہ اور خاص طور پر اسرائیل کے بارے میں خدشات ہیں
۔۔۔۔۔۔(Peace talks)۔۔۔۔۔۔
مردِ میدان، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر (سی ڈی ایف) گزشتہ 24 گھنٹوں میں دنیا بھر میں سب سے زیادہ سرچ کیے جانے والے شخصیت بن گئے ہیں!!! پاکستان ہمیشہ زندہ باد پاکستان کی دفاعی افواج پائندہ باد
۔۔۔۔۔۔(Peace talks)۔۔۔۔۔۔
فیلڈ مارشل نے وردی میں ایرانی وفد کا استقبال کیا ایک ملک کیلئے پیغام تھا کہ پاکستان ایران کیساتھ کھڑا ہے اور وہ کسی قسم کی غلط فہمی میں نہ رہے جنکے لیے پیغام تھا انکو سمجھ آ گئی ہے

