جرمنی کے دارالحکومت برلن میں ایران کے سابق شاہ کے جلاوطن بیٹے اور اپوزیشن لیڈر رضا پہلوی (reza pahlavi) پر ایک احتجاجی مظاہرے کے دوران سرخ رنگ کا سیال مادہ (Red Liquid) پھینک دیا گیا۔ نیوز رپورٹس کے مطابق، یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب وہ ایک عوامی اجتماع سے خطاب کے لیے پہنچے تھے۔ کیمرے کی آنکھ نے اس لمحے کو محفوظ کر لیا جب ایک نامعلوم مظاہرین نے ان کی طرف سرخ مائع اچھالا، جس کا مقصد ایران میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں یا سیاسی اختلافات کے خلاف علامتی احتجاج کرنا تھا۔
الجزیرہ (Al Jazeera) کی ویڈیو نیوز فیڈ کے مطابق، رضا پہلوی (reza pahlavi) اس وقت ایران میں حکومت کی تبدیلی کے لیے عالمی حمایت حاصل کرنے کی غرض سے یورپ کے دورے پر ہیں۔ برلن میں ہونے والے اس حملے کو سیکیورٹی کی بڑی ناکامی قرار دیا جا رہا ہے، تاہم شہزادے کے عملے نے فوری طور پر انہیں وہاں سے نکالا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ یہ سرخ رنگ ان بے گناہ ایرانیوں کے خون کی علامت ہے جو حالیہ احتجاجی تحریکوں کے دوران اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔
ایکسپریس ٹریبیون (Express Tribune) کی رپورٹ کے مطابق، جرمن پولیس نے واقعے کے بعد تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے اور کچھ مشکوک افراد کو حراست میں بھی لیا گیا ہے۔ رضا پہلوی (reza pahlavi) کے حامیوں نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ایرانی ایجنٹوں کی کارستانی قرار دیا ہے، جبکہ ناقدین کا ماننا ہے کہ یہ ایرانی تارکینِ وطن کے اندر موجود شدید سیاسی تقسیم کا اظہار ہے۔ این ڈی ٹی وی (NDTV) نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ اس واقعے کے باوجود رضا پہلوی نے اپنا دورہ جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
رضا پہلوی (reza pahlavi) پر ہونے والا یہ حملہ جلاوطن ایرانی سیاست میں پائی جانے والی بے چینی اور کشیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔ ایسے وقت میں جب ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کی خبریں گردش کر رہی ہیں، اس نوعیت کے واقعات عالمی سطح پر ایران کی داخلی سیاست پر بحث کو مزید تیز کر دیتے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس واقعے کے بعد شہزادے کی سیکیورٹی میں کیا تبدیلیاں لائی جاتی ہیں اور ان کی سیاسی مہم پر اس کا کیا اثر پڑتا ہے۔

