NEPRA Imposes Rs. 1000 per kW Fee on Solar Consumers in Major Policy Shift

NEPRA Imposes Rs. 1000 per kW Fee on Solar Consumers in Major Policy Shift

پاکستان میں سولر انرجی استعمال کرنے والے صارفین کے لیے ایک بڑا جھٹکا سامنے آیا ہے۔ نیوز رپورٹس کے مطابق، نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی یعنی نیپرا (nepra)  نے ایک بڑی پالیسی تبدیلی کرتے ہوئے مفت سولر لائسنس اور سیٹ اپ کا خاتمہ کر دیا ہے۔ نئی پالیسی کے تحت اب تمام سولر صارفین پر 1000 روپے فی کلو واٹ (kW) فیس عائد کر دی گئی ہے۔ اس فیصلے کا مقصد سولر نیٹ میٹرنگ سسٹم کو ریگولیٹ کرنا اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (DISCOs) کے مالی بوجھ کو کم کرنا بتایا جا رہا ہے۔

NEPRA Imposes Rs. 1000 per kW Fee on Solar Consumers in Major Policy Shift

ٹیک جوس (TechJuice) کی رپورٹ کے مطابق، حکومت نے اب تمام قسم کی سولر تنصیبات کے لیے فیس لازمی قرار دے دی ہے، چاہے وہ گھریلو ہوں یا کمرشل۔ اس سے قبل چھوٹے پیمانے پر سولر لگانے والوں کو لائسنس کی فیس سے استثنیٰ حاصل تھا، لیکن اب نیپرا (nepra)  نے اس رعایت کو ختم کر دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے ملک میں سولر انرجی کے فروغ کی رفتار سست پڑ سکتی ہے، کیونکہ اب صارفین کو سسٹم لگانے کے ساتھ ساتھ اضافی حکومتی فیس بھی ادا کرنی ہوگی۔


بزنس ریکارڈر (Business Recorder) کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نیپرا (nepra)  کی اس نئی پالیسی کا اطلاق فوری طور پر ہوگا اور تمام نئے نیٹ میٹرنگ کنکشنز پر یہ فیس لاگو ہوگی۔ حکام کا موقف ہے کہ گرڈ اسٹیشنز اور بجلی کی لائنوں کی دیکھ بھال کے لیے فنڈز کی ضرورت ہے، اور چونکہ سولر صارفین گرڈ کا استعمال کرتے ہیں، اس لیے ان کا اس نظام میں مالی حصہ ڈالنا ضروری ہے۔ تاہم، عوامی حلقوں اور سولر کمپنیوں کی جانب سے اس فیصلے پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے، ان کا ماننا ہے کہ مہنگی بجلی کے دور میں سولر ہی واحد ریلیف تھا جسے اب مشکل بنایا جا رہا ہے۔


نیپرا (nepra) کے اس فیصلے نے پاکستان کے سولر سیکٹر میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ایک طرف حکومت اپنے مالیاتی خسارے کو پورا کرنے کی کوشش کر رہی ہے، تو دوسری طرف عام آدمی کے لیے متبادل توانائی کے حصول کو مہنگا کیا جا رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا حکومت اس فیصلے پر نظرِ ثانی کرتی ہے یا سولر صارفین کو اس نئے مالی بوجھ کے ساتھ ہی گزارا کرنا پڑے گا۔