بین الاقوامی میڈیا کی تازہ ترین رپورٹس کے مطابق، پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر (asim munir) اس وقت خطے کی پیچیدہ سیاست میں ایک کلیدی کھلاڑی کے طور پر ابھر کر سامنے آئے ہیں۔ نیوز رپورٹس کے مطابق، ایران اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری حالیہ کشیدگی کے دوران پاکستان کے 'ثالثی' (Mediator) کے طور پر کامیاب کردار نے جنرل عاصم منیر کی سفارتی اور تزویراتی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر تسلیم کروایا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ دو بڑی علاقائی جنگوں کے سائے میں پاکستان نے جس طرح اپنی خارجہ پالیسی کو متوازن رکھا ہے، اس نے جنرل عاصم منیر کے قد کاٹھ میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔
الجزیرہ (Al Jazeera) کی ایک خصوصی فیچر رپورٹ کے مطابق، بھارت اور ایران کے حوالے سے پیدا ہونے والی حالیہ صورتحال نے جنرل عاصم منیر (asim munir) کے دورِ قیادت کو ایک نئے رخ پر ڈال دیا ہے۔ رپورٹ میں اس بات کا تجزیہ کیا گیا ہے کہ کس طرح انہوں نے اندرونی معاشی چیلنجز کے باوجود سرحدوں پر استحکام برقرار رکھا اور ایران-امریکہ مذاکرات کے لیے اسلام آباد کو ایک محفوظ مرکز کے طور پر پیش کیا۔ دی اکانومسٹ (The Economist) نے جنرل عاصم منیر کی ان 'جیو پولیٹیکل فتوحات' کو پاکستان کے لیے ایک نئی امید قرار دیا ہے، جس کے ذریعے ملک کا بین الاقوامی امیج بہتر ہو رہا ہے۔
بی بی سی (BBC) کی رپورٹ کے مطابق، جنرل عاصم منیر (asim munir) کی قیادت میں پاکستان کی عسکری ڈپلومیسی نے مشرقِ وسطیٰ کے بحران کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ رپورٹ میں اس بات کا تذکرہ بھی ہے کہ کس طرح عالمی طاقتیں اب پاکستان کو خطے میں امن کی ضمانت کے طور پر دیکھ رہی ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جنرل عاصم منیر کی حکمتِ عملی نے نہ صرف پاکستان کو تنہائی سے نکالا ہے بلکہ اسے علاقائی سیاست کے بڑے فیصلوں میں ایک ناگزیر فریق بنا دیا ہے۔ ان سفارتی کامیابیوں کے اثرات براہِ راست پاکستان کی معیشت اور غیر ملکی سرمایہ کاری پر بھی پڑنے کی توقع ہے۔
عاصم منیر (asim munir) کا دورِ قیادت پاکستان کی دفاعی اور سفارتی تاریخ میں ایک اہم باب ثابت ہو رہا ہے۔ عالمی میڈیا کے مطابق، ان کی 'خاموش لیکن موثر' سفارت کاری نے ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان اپنی جغرافیائی اہمیت کو دنیا کے مفاد میں استعمال کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ آنے والے وقت میں یہ دیکھنا ہوگا کہ یہ سفارتی فتوحات پاکستان کے اندرونی معاشی استحکام میں کس حد تک مددگار ثابت ہوتی ہیں۔ فی الحال، دنیا جنرل عاصم منیر کو خطے میں ایک مدبر اور زیرک فوجی لیڈر کے طور پر دیکھ رہی ہے۔

