حکومتِ پاکستان نے عوامی سطح پر شدید تنقید کے باوجود پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں ایک بار پھر بڑا اضافہ کر دیا ہے۔ نیوز رپورٹس کے مطابق، پیٹرول کی قیمت میں 26.77 روپے فی لیٹر کا بھاری اضافہ کیا گیا ہے، جس کا اطلاق فوری طور پر ہو چکا ہے۔ اس petrol price increase کی بنیادی وجہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور حکومت کی جانب سے پیٹرولیم لیوی کے اہداف کو پورا کرنا بتایا جا رہا ہے۔
ایکسپریس ٹریبیون (Express Tribune) کی رپورٹ کے مطابق، ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی نمایاں اضافہ کیا گیا ہے، جس سے ٹرانسپورٹ کے کرایوں اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں براہِ راست اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ ڈان نیوز (Dawn News) نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ وزارتِ خزانہ نے عالمی مالیاتی فنڈ (IMF) کی شرائط کے مطابق سبسڈی میں کمی اور ریونیو بڑھانے کے لیے یہ سخت فیصلہ کیا ہے۔ اس اضافے کے بعد پیٹرول کی قیمت ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ چکی ہے۔
دوسری جانب، سما ٹی وی (Samaa TV) نے مسافروں کے لیے ایک مثبت خبر دیتے ہوئے بتایا ہے کہ جہاں عام پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، وہیں جیٹ فیول (Jet Fuel) کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ اس کمی سے فضائی کمپنیوں کے آپریشنل اخراجات میں ریلیف ملنے کی توقع ہے، جس کا فائدہ مستقبل میں فضائی کرایوں میں کمی کی صورت میں مسافروں تک پہنچ سکتا ہے۔ تاہم، عام آدمی کے لیے petrol price increase اس وقت سب سے بڑی تشویش بنی ہوئی ہے کیونکہ اس سے مہنگائی کا ایک نیا طوفان آنے کا امکان ہے۔
حکومت کا یہ حالیہ فیصلہ معاشی استحکام اور عوامی ریلیف کے درمیان توازن برقرار رکھنے میں ایک بڑی رکاوٹ ثابت ہو رہا ہے۔ petrol price increase سے نہ صرف روزمرہ کا سفر مہنگا ہوا ہے بلکہ زراعت اور صنعت کے شعبے بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت اس مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لیے کیا متبادل اقدامات اٹھاتی ہے اور کیا جیٹ فیول کی قیمتوں میں کمی سے واقعی فضائی مسافروں کو کوئی بڑا ریلیف مل پاتا ہے یا نہیں۔

