سائنس دانوں نے سمندری حیات کی تاریخ کے حوالے سے ایک حیران کن انکشاف کیا ہے جس نے قدیم داستانوں میں ذکر کردہ 'کریکن' (Kraken) کے وجود کو حقیقت کے قریب تر کر دیا ہے۔ نیوز ذرائع کی رپورٹس کے مطابق، محققین نے 10 کروڑ سال پرانے ایسے شواہد دریافت کیے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دور میں دیوہیکل آکٹوپس (giant octopus) سمندروں کے بے تاج بادشاہ تھے۔ ان قدیم جانداروں کی جسامت اور طاقت اتنی زیادہ تھی کہ وہ اس وقت کے بڑے سمندری شکاریوں کو بھی زیر کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔
دی نیوز (The News) کی رپورٹ کے مطابق، جدید تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ قدیم لوک داستانوں میں بیان کردہ 'کریکن' محض ایک افسانہ نہیں تھا۔ محققین نے یہ دریافت کیا ہے کہ کس طرح 100 ملین سال پہلے یہ دیوہیکل آکٹوپس (giant octopus) سمندری گہرائیوں میں اپنی حکمرانی قائم رکھتے تھے۔ وائی او این (WION) کی ویڈیو رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ماہرینِ آثارِ قدیمہ کو 60 فٹ طویل قدیم آکٹوپس کے فوسلز (Fossils) ملے ہیں، جو اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ یہ دیو قامت جاندار آج کے دور کے کسی بھی آکٹوپس کے مقابلے میں کئی گنا بڑے اور خوفناک تھے۔
بی بی سی (BBC) کی رپورٹ کے مطابق، یہ دریافت سمندری ماحولیاتی نظام کے ارتقاء کو سمجھنے میں انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دیوہیکل آکٹوپس (giant octopus) اپنی ذہانت اور جسمانی ساخت کی بدولت لاکھوں سال تک سمندری زنجیرِ خوراک (Food Chain) میں سرفہرست رہے۔ ان فوسلز کی دریافت سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ سمندری گہرائیوں میں ابھی بہت سے ایسے راز دفن ہیں جو انسانی تصور سے بھی زیادہ حیران کن ہو سکتے ہیں۔ اس تحقیق نے قدیم یونانی اور نورس داستانوں کے ان کرداروں کو ایک نئی سائنسی بنیاد فراہم کر دی ہے جنہیں اب تک محض خیالی تصور کیا جاتا تھا۔
60 فٹ طویل دیوہیکل آکٹوپس (giant octopus) کی دریافت نے تاریخ اور سائنس کے درمیان موجود سرحدوں کو دھندلا کر دیا ہے۔ یہ دریافت ہمیں بتاتی ہے کہ کروڑوں سال پہلے کی زمین آج کے مقابلے میں کہیں زیادہ پراسرار اور بڑے جانداروں کا مسکن تھی۔ سائنس دانوں کی یہ ٹیم اب مزید فوسلز کی تلاش میں ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ یہ دیو قامت جاندار کس طرح ختم ہوئے اور ان کا آج کے دور کی سمندری مخلوقات سے کیا تعلق ہے۔ یہ تحقیق سمندری حیات کے شوقین افراد اور تاریخ دانوں کے لیے یکساں اہمیت کی حامل ہے۔

