خطے میں بڑھتے ہوئے تناؤ اور سفارتی کوششوں کے درمیان، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی (Abbas Araghchi) ایک اہم مشن پر اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔ نیوز کے مطابق، ان کے اس دورے کا بنیادی مقصد پاکستان کی قیادت کے ساتھ علاقائی سیکیورٹی اور امریکہ کے ساتھ ممکنہ مذاکرات کی راہ ہموار کرنا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے بھی تصدیق کی ہے کہ ان کے خصوصی ایلچی مذاکرات کے اگلے دور کے لیے جلد ہی طے شدہ مقام پر پہنچیں گے، جس سے خطے میں جاری کشیدگی کے خاتمے کی ایک نئی امید پیدا ہوئی ہے۔
الجزیرہ (Al Jazeera) کی لائیو بلاگ رپورٹ کے مطابق، عباس عراقچی (Abbas Araghchi) کے دورہ اسلام آباد کو تہران اور واشنگٹن کے درمیان بالواسطہ رابطوں کے لیے ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ پاکستان اس وقت ایک کلیدی ثالث کے طور پر ابھرا ہے، اور ایرانی وزیر خارجہ کی پاکستانی حکام سے ملاقاتوں میں دو طرفہ تعلقات کے علاوہ افغان صورتحال اور سرحدی تحفظ پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی ہے۔ بی بی سی (BBC) نے اطلاع دی ہے کہ عالمی برادری کی نظریں اس وقت اسلام آباد پر لگی ہوئی ہیں، کیونکہ یہاں ہونے والے فیصلے خطے میں امن کے قیام کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔
ڈان نیوز (Dawn News) کی رپورٹ کے مطابق، عباس عراقچی (Abbas Araghchi) نے پاکستانی قیادت کو تہران کے اس موقف سے آگاہ کیا ہے کہ ایران مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل چاہتا ہے، لیکن اپنی خود مختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ اس دورے کے دوران پاک-ایران گیس پائپ لائن منصوبے اور دیگر تجارتی امور پر بھی بات چیت متوقع ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عباس عراقچی کا انتخاب تہران کی اس حکمتِ عملی کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ تجربہ کار سفارت کاروں کے ذریعے مغرب کے ساتھ بند دروازے کھولنا چاہتے ہیں۔
عباس عراقچی (Abbas Araghchi) کا دورہ اسلام آباد ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب عالمی سیاست ایک نئے موڑ پر کھڑی ہے۔ ان کے اس دورے سے نہ صرف پاک-ایران تعلقات میں مزید بہتری آنے کی امید ہے بلکہ یہ امریکہ اور ایران کے درمیان برف پگھلنے کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں امریکی ایلچی اور ایرانی قیادت کے درمیان ہونے والے رابطے کیا رنگ لاتے ہیں۔ فی الحال، اسلام آباد عالمی سفارت کاری کا مرکز بنا ہوا ہے۔

