بھارت میں جاری مغربی بنگال اسمبلی انتخابات (assembly elections) کے پہلے مرحلے نے سیاسی تجزیہ کاروں اور مبصرین کو حیران کر دیا ہے۔ نیوز رپورٹس کے مطابق، پہلے مرحلے میں ووٹنگ کا تناسب 91 فیصد سے بھی تجاوز کر گیا ہے، جو کہ ایک تاریخی ریکارڈ ہے۔ دوسری جانب تمل ناڈو میں بھی ووٹنگ کا تناسب 84 فیصد سے زائد رہا۔ مغربی بنگال میں اس قدر زیادہ ٹرن آؤٹ کو ریاست کی سیاسی بساط پر ایک بڑی تبدیلی یا موجودہ حکومت کے حق میں ایک طاقتور لہر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
انڈیا ٹوڈے (India Today) کی رپورٹ کے مطابق، مغربی بنگال میں 90 فیصد سے زائد ریکارڈ ٹرن آؤٹ شہریت کے قانون (CAA) اور دیگر مقامی مسائل پر عوامی سنجیدگی کا عکاس ہے۔ این ڈی ٹی وی (NDTV) کی ویڈیو رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شام 7 بجے تک بنگال میں 91.35 فیصد ووٹ ڈالے جا چکے تھے، جو کہ حالیہ برسوں میں کسی بھی ریاست میں ہونے والے انتخابات میں سب سے زیادہ ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ خواتین اور نوجوان ووٹرز کی بڑی تعداد میں آمد نے ان اسمبلی انتخابات (assembly elections) کو انتہائی دلچسپ اور غیر متوقع بنا دیا ہے۔
دی ہندو (The Hindu) کی رپورٹ کے مطابق، وزیرِ اعلیٰ ممتا بنرجی نے دعویٰ کیا ہے کہ پہلے مرحلے کے رجحانات ظاہر کرتے ہیں کہ ان کی جماعت ترنمول کانگریس (TMC) پہلے ہی جیت کی پوزیشن میں آچکی ہے۔ ممتا بنرجی کا کہنا ہے کہ بھاری ٹرن آؤٹ اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام نے بی جے پی کی سیاست کو مسترد کر دیا ہے۔ تاہم، مخالف جماعتوں کا دعویٰ ہے کہ یہ ٹرن آؤٹ تبدیلی کی علامت ہے اور عوام موجودہ حکومت سے بیزار ہو کر نئی قیادت لانا چاہتے ہیں۔ ان اسمبلی انتخابات (assembly elections) کے نتائج بھارت کی علاقائی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کریں گے۔
مغربی بنگال کے اسمبلی انتخابات (assembly elections) کا پہلا مرحلہ انتہائی پرجوش اور ریکارڈ ساز رہا ہے۔ 91 فیصد سے زائد ٹرن آؤٹ نے نہ صرف جمہوری عمل کو مضبوط کیا ہے بلکہ سیاسی جماعتوں کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ اب تمام نظریں اگلے مراحل پر لگی ہوئی ہیں کہ آیا ووٹنگ کا یہ بلند تناسب برقرار رہتا ہے یا نہیں اور یہ کہ حتمی نتائج کس کے پلڑے میں جاتے ہیں۔ فی الحال، بنگال کے عوام نے اپنا فیصلہ بیلٹ باکس میں بند کر دیا ہے جس کا انتظار پوری دنیا کر رہی ہے۔

