Gharidah Farooqi Faces Social Media Backlash Over Green Outfit During Islamabad Coverage

Gharidah Farooqi Faces Social Media Backlash Over Green Outfit During Islamabad Coverage

پاکستان کی معروف اینکر پرسن اور صحافی غریدہ فاروقی (gharidah farooqi) اس وقت سوشل میڈیا پر اپنے ایک لباس کی وجہ سے شدید تنقید کی زد میں ہیں۔ نیوز ذرائع  کی رپورٹس کے مطابق، اسلام آباد میں امریکہ-ایران مذاکرات کی کوریج کے دوران غریدہ فاروقی کے سبز رنگ کے مغربی طرز کے لباس (Green Co-ord Set) نے انٹرنیٹ پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ صارفین کی جانب سے اس لباس کو "غیر مناسب" اور "ثقافتی اقدار کے منافی" قرار دیا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے انہیں انسٹاگرام اور ایکس (ٹویٹر) پر شدید ٹرولنگ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

Gharidah Farooqi Faces Social Media Backlash Over Green Outfit During Islamabad Coverage

منٹ مرر (Minute Mirror) کی رپورٹ کے مطابق، غریدہ فاروقی (gharidah farooqi) اسلام آباد میں ہونے والی اہم سفارتی سرگرمیوں کی رپورٹنگ کر رہی تھیں جب ان کی تصاویر وائرل ہوئیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک سنجیدہ سفارتی ماحول اور حساس مذاکرات کی کوریج کے دوران لباس کا انتخاب پیشہ ورانہ ہونا چاہیے تھا۔ دوسری جانب، نیوز ایکس (NewsX) کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ غریدہ فاروقی کو ان کے "ریویلنگ" (Revealing) سبز لباس کی وجہ سے نہ صرف ٹرول کیا جا رہا ہے بلکہ اسے نفرت انگیز مہم کا رنگ بھی دیا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا صارفین کی ایک بڑی تعداد ان کے فیشن سینس پر سوالات اٹھا رہی ہے۔


پاکستان ٹوڈے (Pakistan Today) کی رپورٹ کے مطابق، اس معاملے نے "گرین سگنل فار ہیٹ" (Green Signal for Hate) کی بحث کو جنم دیا ہے، جہاں یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا کسی خاتون صحافی کے لباس کی بنیاد پر اسے ہراساں کرنا جائز ہے؟ جہاں ایک طبقہ غریدہ فاروقی کے انتخاب کو غلط قرار دے رہا ہے، وہیں ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ لباس پہننا کسی بھی فرد کا ذاتی حق ہے اور اسے پیشہ ورانہ قابلیت سے نہیں جوڑنا چاہیے۔ غریدہ فاروقی (gharidah farooqi) نے ابھی تک اس تنازعے پر کوئی باقاعدہ وضاحتی بیان جاری نہیں کیا، لیکن انٹرنیٹ پر ان کے نام کے ہیش ٹیگز ٹرینڈ کر رہے ہیں۔


غریدہ فاروقی (gharidah farooqi)  کا یہ حالیہ 'آؤٹ فٹ اسٹورم' (Outfit Storm) پاکستان میں صحافتی اخلاقیات اور خواتین کے لباس کے حوالے سے پائے جانے والے سماجی رویوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اہم سفارتی کوریج کے پسِ منظر میں شروع ہونے والی یہ بحث اب ذاتی حملوں اور نفرت انگیز تبصروں تک پہنچ چکی ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا یہ تنازعہ سرد پڑتا ہے یا صحافتی تنظیمیں اس قسم کی ٹرولنگ کے خلاف کوئی موقف اختیار کرتی ہیں۔