امریکی اور اسرئیلی حملوں سے شروع ہونے والی جنگ کے چھ ہفتے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کا اعلان اس مشروط سیزفائر کا اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں کیا اس سے پہلے وہ اسی پلیٹ فارم پر ایرانی تہذیب کو مکمل طور پر تباہ کرنے کی بات کر چکے تھے
اس سیزفائر پر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ اگر ایران پر حملے بند کر دیے جائیں تو وہ جنگ بندی پر تیار ہیں جنگ کے دوران سولین انفراسٹرکچر کو جانتے بوجھتے نشانہ بنانا یعنی جنگی جرائم کے زمرے میں آتا ہے اس کے باوجود صدر ٹرمپ ہر دوسرے دن ایرانی پانی بجلی کی فیسلٹیز پل اور دیگر سویلن انفراسٹرکچر کو تباہ کرنے کی دھمکیاں دیتے رہے ہیں
فوجی صلاحیت اور طاقت کے لحاظ سے دیکھا جائے تو ایران کا امریکہ سے کوئی مقابلہ نہیں یہ بات سچ ہے کہ امریکی اور اسرئیلی بمباری سے ایران کو شدید اور مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا لیکن اس سب کے باوجود ایران نے ہتھیار نہیں ڈالے، یہاں ایک پیٹرن سا دیکھنے میں کہ جب بھی امریکہ اور اسرائیل نے ریاست کو ختم کرنے کے لیے کہا تو ایران نے اس کا سختی سے جواب دیا۔
جہاں امریکہ اربوں ڈالر کی ہتھیار، وار شپس، ایئر کرافٹ کیریئرز فائٹس استعمال کرتا رہا تو وہیں ایران کے پاس نسبتاً سستے ڈرونز خود کار ہتھیار اور میزائل تھے دونوں سائڈ کے درمیان واضح توازن کی کمی نظر آئی اور ماہرین کہتے ہیں کہ اس کا فائدہ غیر متوقع طور پر بظاہر ایران کو ہوا۔ ایک طرف اگر اس جنگ کی فوجی اور معاشی اخراجات بڑھتے جا رہے تھے وہیں انسانی اور سفارتی لحاظ سے بھی اس کے نتائج تباہ کن ثابت ہو رہے تھے

