عالمی ٹیکنالوجی کمپنی اوپن ٹیکسٹ (OpenText) نےکلاؤڈ (cloud) انفراسٹرکچر اور ڈیٹا کی خودمختاری کے حوالے سے دو بڑے عالمی معاہدوں کا اعلان کیا ہے، جن کا مقصد یورپی مارکیٹ میں محفوظ ڈیجیٹل حل فراہم کرنا ہے۔ پی آر نیوز وائر اور دی گلوب اینڈ میل کی رپورٹس کے مطابق، اوپن ٹیکسٹ کے انٹرپرائز ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت (AI) کے حل اب ایمازون (AWS) کے "یورپی سوورن کلاؤڈ" (European Sovereign Cloud) پر دستیاب ہوں گے۔ اس کے ساتھ ہی، اوپن ٹیکسٹ نے گوگل کلاؤڈ کے تعاون سے قائم کردہ 'S3NS' کے ساتھ بھی شراکت داری کی ہے تاکہ فرانس اور دیگر یورپی ممالک میں ڈیٹا کے تحفظ کے سخت قوانین کے مطابق کلاؤڈ (cloud) خدمات فراہم کی جا سکیں۔
پی آر نیوز وائر (PR Newswire) کی رپورٹ کے مطابق، AWS کے ساتھ اس تعاون کا بنیادی مقصد یورپی اداروں کو یہ سہولت دینا ہے کہ وہ اپنا حساس ڈیٹا اپنی حدود کے اندر رکھتے ہوئے جدید ترین AI اور تجزیاتی ٹولز کا استعمال کر سکیں۔ یہ "سوورن کلاؤڈ (cloud)" ماڈل خاص طور پر سرکاری اداروں اور مالیاتی شعبوں کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے جہاں ڈیٹا کی سیکیورٹی سب سے اولین ترجیح ہوتی ہے۔ اوپن ٹیکسٹ کے سی ای او کے مطابق، یہ قدم کمپنیوں کو ڈیجیٹل تبدیلی (Digital Transformation) کے عمل کو تیز کرنے میں مدد دے گا جبکہ وہ تمام مقامی ریگولیٹری تقاضوں کو بھی پورا کر سکیں گی۔
دوسری جانب، 'S3NS' (جو گوگل کلاؤڈ اور تھیلس کے درمیان ایک مشترکہ منصوبہ ہے) کے ساتھ شراکت داری فرانسیسی مارکیٹ پر مرکوز ہے۔ دی گلوب اینڈ میل (The Globe and Mail) کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس اشتراک سے صارفین کو گوگل کلاؤڈ کی طاقتور ٹیکنالوجی تک رسائی ملے گی، لیکن اس کا مکمل کنٹرول اور سیکیورٹی انتظام مقامی سطح پر ہوگا۔ بٹ گیٹ (Bitget) کی رپورٹ کے مطابق، یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ عالمی سطح پر کلاؤڈ (cloud) انڈسٹری اب صرف اسٹوریج تک محدود نہیں رہی بلکہ اب توجہ "ڈیٹا خود مختاری" (Data Sovereignty) اور مصنوعی ذہانت کے ذمہ دارانہ استعمال پر مرکوز ہے۔
اوپن ٹیکسٹ کی ان نئی شراکت داریوں نے کلاؤڈ (cloud) کمپیوٹنگ کی دنیا میں ایک نیا معیار مقرر کر دیا ہے۔ AWS اور گوگل کلاؤڈ جیسے بڑے پلیٹ فارمز کے ساتھ مل کر کام کرنے سے نہ صرف ٹیکنالوجی کی رسائی بڑھے گی بلکہ صارفین کا اعتماد بھی بحال ہوگا کہ ان کا ڈیٹا مکمل طور پر محفوظ ہے۔ یورپی مارکیٹ میں اس قسم کے حل کی بڑھتی ہوئی مانگ دیگر عالمی ٹیک کمپنیوں کے لیے بھی ایک نیا راستہ کھول رہی ہے کہ وہ کس طرح مقامی قوانین اور عالمی جدت کے درمیان توازن برقرار رکھ سکتی ہیں۔

