حکومتِ پنجاب نے لاہور میں 4 فروری 2026ء سے مسلسل پانچ روزہ عوامی تعطیلات (public holidays lahore) کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے، جس کے باعث صوبائی دارالحکومت میں تمام تعلیمی ادارے اور سرکاری دفاتر بند رہیں گے۔ ڈان نیوز، ڈیلی ٹائمز اور بزنس ریکارڈر کی حالیہ رپورٹس کے مطابق، ان چھٹیوں کا آغاز 4 فروری کو حضرت داتا گنج بخشؒ کے سالانہ عرس کے موقع پر مقامی تعطیل سے ہوگا، جس کے فوراً بعد 5 فروری کو یومِ یکجہتی کشمیر کی قومی تعطیل آئے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ، بسنت کے تہوار اور ہفتہ وار تعطیلات کے باعث یہ سلسلہ 8 فروری تک جاری رہے گا، جس سے شہریوں کو ایک طویل بریک ملے گا، تاہم ہسپتالوں اور ہنگامی خدمات کے شعبے اس دوران معمول کے مطابق کام کرتے رہیں گے۔
ڈان نیوز (Dawn News) کی رپورٹ کے مطابق، لاہور انتظامیہ نے حضرت داتا گنج بخش علی ہجویریؒ کے 982 ویں سالانہ عرس کے انتظامات مکمل کر لیے ہیں اور 4 فروری کو زائرین کی سہولت اور سیکیورٹی کے پیشِ نظر شہر میں مقامی تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے۔ ڈیلی ٹائمز (Daily Times) کے مطابق، ان عوامی تعطیلات (public holidays lahore) کا مقصد نہ صرف مذہبی و قومی ایام کا احترام ہے بلکہ شہریوں کو طویل عرصے بعد تفریح کا موقع فراہم کرنا بھی ہے۔ 5 فروری کو یومِ یکجہتی کشمیر کے موقع پر ملک بھر کی طرح لاہور میں بھی تمام نجی اور سرکاری ادارے بند رہیں گے تاکہ کشمیری بھائیوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا جا سکے۔
بزنس ریکارڈر (Business Recorder) کی رپورٹ کے مطابق، ان مسلسل چھٹیوں کی وجہ سے بینکوں اور مالیاتی اداروں میں عوامی لین دین معطل رہے گا، جس کے لیے شہریوں کو پیشگی انتظامات کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ عوامی تعطیلات (public holidays lahore) کے دوران لاہور میں بسنت کے حوالے سے بھی محدود سرگرمیوں کی توقع ہے، تاہم انتظامیہ نے پتنگ بازی کی ممانعت اور قانون کی پاسداری کو یقینی بنانے کے لیے سخت اقدامات کیے ہیں۔ ڈیلی ٹائمز کے مطابق، تعلیمی اداروں میں چھٹیوں کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا گیا ہے، اور طلبہ 9 فروری کو دوبارہ اسکولوں اور کالجوں کا رخ کریں گے۔
ڈان نیوز (Dawn News) کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ عرس کے ایام میں اندرونِ شہر کی ٹریفک کے لیے خصوصی پلان مرتب کیا گیا ہے تاکہ زائرین کو دشواری نہ ہو۔ ان عوامی تعطیلات (public holidays lahore) کے دوران پولیس کی اضافی نفری تعینات رہے گی تاکہ امن و امان کی صورتحال برقرار رکھی جا سکے۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق، نجی شعبے کی کمپنیوں نے بھی اپنی سہولت کے مطابق ان چھٹیوں کو کام کے شیڈول میں شامل کر لیا ہے، جس سے شہر میں کاروباری سرگرمیاں جزوی طور پر متاثر ہونے کا امکان ہے۔ شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ چھٹیوں کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور سرکاری ہدایات پر عمل کریں۔
فروری کا پہلا ہفتہ لاہور کے باسیوں کے لیے تعطیلات کا ایک بڑا پیکیج لے کر آیا ہے۔ ڈیلی ٹائمز (Daily Times) کی رپورٹ کے مطابق، مسلسل پانچ روز کی یہ چھٹیاں ایک نایاب موقع ہیں جب مذہبی اور قومی ایام ایک ساتھ آ رہے ہیں۔ عوامی تعطیلات (public holidays lahore) کا یہ نوٹیفیکیشن فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔ بزنس ریکارڈر (Business Recorder) کا خلاصہ ہے کہ ان چھٹیوں سے سیاحت اور مقامی تفریحی مقامات پر رش بڑھنے کی توقع ہے، جس کے لیے انتظامیہ نے خصوصی صفائی اور روشنیوں کے انتظامات کیے ہیں۔ ڈان نیوز (Dawn News) کے مطابق، عرس کی تقریبات اور یومِ کشمیر کی ریلیاں ان چھٹیوں کا مرکزی محور ہوں گی۔

