حکومتِ پاکستان نے مستحق خاندانوں کی مالی معاونت کو مزید شفاف اور آسان بنانے کے لیے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (benazir income support program) کے تحت سال 2026ء کے لیے نئے ڈیجیٹل والٹ اکاؤنٹ اور 8171 ایس ایم ایس سروس کا آغاز کر دیا ہے۔ زری مون اور ایکسپریس ٹریبیون کی حالیہ رپورٹس کے مطابق، اب مستحق خواتین اپنی قسطیں وصول کرنے کے لیے روایتی بینکنگ کے بجائے ڈیجیٹل والٹ کا استعمال کر سکیں گی، جس سے ادائیگیوں کے نظام میں انسانی مداخلت اور بدعنوانی کا خاتمہ ہوگا۔ اس پروگرام کا مقصد غریب ترین طبقے کو معاشی تحفظ فراہم کرنا ہے، جبکہ ورلڈ بینک کی حالیہ رپورٹ میں اس پروگرام کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے زراعت اور آبپاشی جیسے شعبوں میں اصلاحات کی ضرورت پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے تاکہ معاشی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔
زری مون (ZariMon) کی رپورٹ کے مطابق، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (benazir income support program) نے 2026ء کے لیے ڈیجیٹل والٹ اکاؤنٹ کی رجسٹریشن کا مکمل طریقہ کار جاری کر دیا ہے۔ اب بینیفشریز اپنے موبائل فون کے ذریعے اکاؤنٹ رجسٹر کر کے اپنی رقم براہِ راست وصول کر سکتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ 8171 ایس ایم ایس سروس کو بھی اپ گریڈ کیا گیا ہے، جہاں شہری اپنا شناختی کارڈ نمبر بھیج کر اپنی اہلیت اور ادائیگی کی صورتحال فوری طور پر چیک کر سکتے ہیں۔ یہ ڈیجیٹل انقلاب ان لاکھوں خواتین کے لیے ایک بڑی سہولت ہے جنہیں پہلے گھنٹوں قطاروں میں لگ کر اپنی امدادی رقم وصول کرنی پڑتی تھی۔
ایکسپریس ٹریبیون (Express Tribune) کی رپورٹ کے مطابق، جہاں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (benazir income support program) سماجی تحفظ فراہم کر رہا ہے، وہیں ورلڈ بینک نے پاکستان کے آبپاشی کے نظام میں ناکامیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پانی کے ناقص انتظام کی وجہ سے زرعی پیداوار متاثر ہو رہی ہے، جس کا براہِ راست اثر ان غریب خاندانوں پر پڑتا ہے جو زراعت سے وابستہ ہیں۔ عالمی بینک کا ماننا ہے کہ بی آئی ایس پی جیسے پروگراموں کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ بنیادی ڈھانچے، خصوصاً آبپاشی اور زراعت میں سرمایہ کاری کی جائے تاکہ لوگ غربت کی لکیر سے مستقل طور پر باہر نکل سکیں۔
زری مون (ZariMon) کی گائیڈ کے مطابق، نئے ڈیجیٹل نظام میں رجسٹریشن کے لیے مستحق افراد کو اپنے قریبی بی آئی ایس پی تحصیل دفتر سے رجوع کرنا ہوگا یا ویب پورٹل کے ذریعے اپنی معلومات فراہم کرنی ہوں گی۔بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (benazir income support program) کے تحت تعلیمی وظائف اور نشوونما پروگرام کو بھی اس ڈیجیٹل نیٹ ورک سے منسلک کر دیا گیا ہے۔ ورلڈ بینک کی رپورٹ میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے بچنے کے لیے اپنے پانی کے ذخائر کو بہتر بنانا ہوگا، کیونکہ خشک سالی یا سیلاب کی صورت میں بی آئی ایس پی پر بوجھ مزید بڑھ جاتا ہے اور معاشی مشکلات میں اضافہ ہوتا ہے۔
بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (benazir income support program) 2026ء میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے غریب عوام کی خدمت کے لیے ایک نئے عزم کے ساتھ کھڑا ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون (Express Tribune) کی رپورٹ کے مطابق، عالمی اداروں کا تعاون اور اندرونی اصلاحات اس پروگرام کی کامیابی کے لیے ناگزیر ہیں۔ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (benazir income support program) کے ذریعے ڈیجیٹل ادائیگیوں کا آغاز شفافیت کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔ زری مون (ZariMon) کا خلاصہ ہے کہ 8171 سروس اور ڈیجیٹل والٹ کے ذریعے اب کوئی بھی مستحق اپنی حق تلفی سے بچ سکے گا۔ حکومت کا ہدف ہے کہ اس سال کے آخر تک تمام بینیفشریز کو مکمل طور پر ڈیجیٹل بینکنگ کے دائرہ کار میں لایا جائے۔

