چین نے فضائی جنگ کی دنیا میں ایک بڑا دھماکہ کرتے ہوئے اپنا جدید ترین چھٹی نسل کا لڑاکا طیارہ (Sixth Generation Fighter) متعارف کرا دیا ہے، جس نے عالمی سطح پر طاقت کا توازن بدلنے کی نوید سنا دی ہے۔ فیوچرا سائنسز، نیوز 24 اور 19 فورٹی فائیو کی حالیہ رپورٹس کے مطابق، اس نئے چینی طیارے کی سب سے حیران کن خصوصیت اس کی ایسی جگہوں پر لینڈنگ کی صلاحیت ہے جہاں اب تک کوئی بھی طیارہ اترنے کی ہمت نہیں کر سکا تھا۔ یہ طیارہ نہ صرف جدید ترین اسٹیکٹ (Stealth) ٹیکنالوجی سے لیس ہے بلکہ اس میں ٹرپل انجن سسٹم نصب کیا گیا ہے، جو اسے امریکی ایف 35 (F-35) سے کہیں زیادہ طاقتور اور مہلک بناتا ہے۔ اس sixth generation fighter کے چوتھے پروٹوٹائپ (J-36) کی کامیاب آزمائشی پروازوں نے واشنگٹن کے دفاعی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔
نیوز 24 (News24 Online) کی رپورٹ کے مطابق، چین کا یہ نیا sixth generation fighter ٹرپل انجن ڈیزائن کے ساتھ سامنے آیا ہے، جو اسے غیر معمولی رفتار اور بلندی پر پرواز کی صلاحیت فراہم کرتا ہے۔ دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر یہ طیارہ اپنی توقعات پر پورا اترا تو یہ امریکی فضائیہ کی برتری کو ختم کر سکتا ہے۔ فیوچرا سائنسز (Futura-Sciences) کے مطابق، اس طیارے کی لینڈنگ ٹیکنالوجی اسے انتہائی مختصر اور ناہموار رن ویز، حتیٰ کہ سمندر میں موجود چھوٹے بحری بیڑوں پر بھی اترنے کے قابل بناتی ہے، جو کہ جدید جنگی حکمتِ عملی میں ایک انقلابی تبدیلی ہے۔ یہ طیارہ بغیر پائلٹ (Unmanned) بھی اڑایا جا سکتا ہے اور مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے دشمن کے ریڈاروں کو چکمہ دینے میں ماہر ہے۔
19 فورٹی فائیو (19FortyFive) کی رپورٹ کے مطابق، چین نے اپنے جے-36 (J-36) کے چوتھے پروٹوٹائپ کی پرواز مکمل کر لی ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ بیجنگ چھٹی نسل کے طیاروں کی تیاری میں امریکہ سے بھی آگے نکلنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس sixth generation fighter میں "لیزر ہتھیار" (Laser Weapons) اور ہائپرسونک میزائل نصب کرنے کی گنجائش موجود ہے، جو اسے ایک اڑتا ہوا قلعہ بنا دیتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ کا ایف 35 اگرچہ پانچویں نسل کا بہترین طیارہ ہے، لیکن چین کا یہ نیا شاہکار اسے تکنیکی لحاظ سے پیچھے چھوڑ سکتا ہے، خاص طور پر اس کے ڈیٹا لنکس اور الیکٹرانک وارفیئر کے نظام کی بدولت جو کسی بھی دشمن کے دفاع کو توڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
فیوچرا سائنسز (Futura-Sciences) کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ اس طیارے کی ڈیزائننگ میں ایسی دھاتوں کا استعمال کیا گیا ہے جو اسے حرارت اور ریڈار کی لہروں سے مکمل طور پر محفوظ رکھتی ہیں۔ نیوز 24 کے مطابق، چین کی یہ پیشرفت عالمی دفاعی منڈی میں روس اور امریکہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن کر ابھری ہے۔ اس sixth generation fighter کی کامیاب آزمائشوں کے بعد بھارت اور دیگر پڑوسی ممالک کے دفاعی بجٹ میں اضافے کا امکان ہے کیونکہ وہ بھی اس نئی فضائی طاقت کا مقابلہ کرنے کے لیے جدید دفاعی نظام کی تلاش میں ہیں۔ 19 فورٹی فائیو کے مطابق، جے-36 کی بڑے پیمانے پر پیداوار 2020 کی دہائی کے آخر تک شروع ہونے کی توقع ہے۔
چھٹی نسل کے لڑاکا طیارے کی ریس میں چین نے ایک بڑی برتری حاصل کر لی ہے۔ نیوز 24 (News24 Online) کی رپورٹ کے مطابق، یہ طیارہ مستقبل کی فضائی جنگوں کا نقشہ بدل دے گا۔ sixth generation fighter کے میدان میں جے-36 کی آمد نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ چین اب دفاعی ٹیکنالوجی کا پیروکار نہیں بلکہ موجد بن چکا ہے۔ 19 فورٹی فائیو (19FortyFive) کا خلاصہ ہے کہ اگر امریکہ نے اپنے 'این جی اے ڈی' (NGAD) پروگرام میں تیزی نہ دکھائی تو وہ اپنی فضائی برتری کھو سکتا ہے۔ فیوچرا سائنسز (Futura-Sciences) کے مطابق، یہ طیارہ جہاں اترتا ہے وہ اب تک کی ہوابازی کی تاریخ کا سب سے مشکل ہدف تھا، جو چینی انجینئرنگ کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

