امریکہ کے متعدد حصوں میں موسم سرما کے ایک طاقتور طوفان نے نظام زندگی کو درہم برہم کر دیا ہے، جس کے بعد قومی موسمیاتی سروس (National Weather Service) نے کئی ریاستوں کے لیے "ونٹر اسٹورم وارننگ" (Winter Storm Warning) جاری کر دی ہے۔
نیوز ویک (Newsweek) کی رپورٹ کے مطابق، برف باری کا یہ نیا سلسلہ وسط مغربی (Midwest) اور شمال مشرقی (Northeast) ریاستوں کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے، جس کی وجہ سے سفر کرنے والوں کے لیے شدید خطرات پیدا ہو گئے ہیں۔ ماہرین موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ بعض علاقوں میں برف کی تہہ کئی انچ تک پہنچ سکتی ہے، جس کے ساتھ تیز ٹھنڈی ہوائیں (Freezing Winds) اور حد نگاہ میں کمی جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
موسمیاتی رپورٹ کے مطابق، اس وقت مشی گن (Michigan)، وسکونسن (Wisconsin) اور منی سوٹا (Minnesota) جیسی ریاستوں میں برف باری کا زور سب سے زیادہ ہے۔ مقامی حکام نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں کیونکہ سڑکوں پر پھسلن (Black Ice) کی وجہ سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ "ونٹر اسٹورم وارننگ" (Winter Storm Warning) کا مطلب یہ ہے کہ خطرناک موسمی حالات پیدا ہو چکے ہیں یا اگلے چند گھنٹوں میں پیدا ہونے والے ہیں، جو جان و مال کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ ان علاقوں میں اسکولوں کو بند کر دیا گیا ہے اور پروازوں کا شیڈول بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔ اس طوفان کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ محکمہ موسمیات نے "وائٹ آؤٹ کنڈیشنز" (Whiteout Conditions) کی پیش گوئی کی ہے، جہاں برف باری اور تیز ہواؤں کی وجہ سے کچھ بھی دیکھنا ناممکن ہو جاتا ہے۔
شمال مشرقی ریاستوں بشمول نیویارک (New York) اور پنسلوانیا (Pennsylvania) کے بالائی علاقوں میں بھی برف باری کا الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنے گھروں میں ہنگامی کٹس (Emergency Kits) تیار رکھیں، جن میں خوراک، پانی اور گرم کپڑے شامل ہوں، کیونکہ بجلی کی فراہمی میں معطلی (Power Outages) کا بھی قوی امکان موجود ہے۔ برف باری کا یہ سلسلہ صرف سڑکوں تک محدود نہیں ہے بلکہ اس نے بڑے ہوائی اڈوں پر بھی بحران پیدا کر دیا ہے۔ شکاگو (Chicago) اور ڈیٹرائٹ (Detroit) کے بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر سینکڑوں پروازیں منسوخ یا تاخیر کا شکار ہو چکی ہیں۔ ایئر لائنز نے مسافروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ہوائی اڈے پر آنے سے پہلے اپنی پرواز کی صورتحال آن لائن چیک کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ، بین ریاستی شاہراہوں (Interstate Highways) پر برف ہٹانے والی مشینوں (Snow Plows) کو متحرک کر دیا گیا ہے تاکہ اہم راستوں کو کھلا رکھا جا سکے، تاہم مسلسل برف باری کی وجہ سے صفائی کا کام سست روی کا شکار ہے۔
طبی ماہرین نے ان سرد حالات میں "ہائپوتھرمیا" (Hypothermia) اور "فروسٹ بائٹ" (Frostbite) کے خطرات سے بھی آگاہ کیا ہے۔ لوگوں کو تاکید کی گئی ہے کہ وہ باہر نکلتے وقت تہوں والے گرم کپڑے پہنیں اور جسم کو مکمل طور پر ڈھانپ کر رکھیں۔ خاص طور پر بزرگوں اور بچوں کا خیال رکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ وہ شدید سردی کا جلد اثر لیتے ہیں۔
جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے بھی مالکان سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے پالتو جانوروں کو گھروں کے اندر رکھیں، کیونکہ یہ درجہ حرارت ان کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔
محکمہ موسمیات (National Weather Service) کے مطابق، یہ طوفان اگلے 24 سے 48 گھنٹوں تک اپنی پوری شدت کے ساتھ برقرار رہ سکتا ہے۔ بحر اوقیانوس سے اٹھنے والی نم آلود ہوائیں جب کینیڈا سے آنے والی سرد لہر (Arctic Blast) سے ٹکراتی ہیں تو اس طرح کے شدید طوفان جنم لیتے ہیں۔
حکومت کی جانب سے ڈیزاسٹر مینجمنٹ ٹیموں کو الرٹ پر رکھا گیا ہے تاکہ کسی بھی ناگہانی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔ مقامی کمیونٹی سینٹرز کو "وارمنگ سینٹرز" (Warming Centers) میں تبدیل کر دیا گیا ہے تاکہ بے گھر افراد یا وہ لوگ جن کے گھروں میں حرارت کا نظام خراب ہے، وہاں پناہ لے سکیں۔
مستقبل کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں (Climate Change) کی وجہ سے اب سردیوں کے طوفان پہلے سے زیادہ شدید اور غیر متوقع ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ ونٹر اسٹورم (Winter Storm) اس سال کے بدترین طوفانوں میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔ شہریوں کو تازہ ترین صورتحال سے باخبر رہنے کے لیے ریڈیو اور مقامی خبروں سے جڑے رہنے کی تاکید کی گئی ہے۔ برف باری تھمنے کے بعد بھی درجہ حرارت کے نقطہ انجماد سے نیچے رہنے کی توقع ہے، جس کا مطلب ہے کہ برف پگھلنے میں وقت لگے گا اور معمولات زندگی کی بحالی میں مزید چند دن لگ سکتے ہیں۔

