امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ (Donald Trump) نے نیویارک کے ریاستی اسمبلی کے رکن زہران ممدانی (Zohran Mamdani) کے اس بیان کو "انتہائی غیر معمولی" قرار دے کر ایک نئی سیاسی بحث کا آغاز کر دیا ہے جس میں ممدانی نے وینزویلا (Venezuela) پر ممکنہ امریکی حملے کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔
نیوز ویک (Newsweek) کی حالیہ رپورٹ کے مطابق، یہ تنازع اس وقت پیدا ہوا جب زہران ممدانی، جو کہ نیویارک سٹی کے میئر کے امیدوار بھی ہیں، نے ایک عوامی فورم پر امریکی خارجہ پالیسی پر سخت تنقید کی۔ ممدانی کا دعویٰ تھا کہ امریکی انتظامیہ لاطینی امریکہ (Latin America) میں اپنی مداخلت پسندانہ روایات کو برقرار رکھتے ہوئے وینزویلا کی خودمختاری کو براہ راست نشانہ بنا سکتی ہے۔ صدر ٹرمپ نے ان کے اس تبصرے کو نہ صرف مسترد کیا بلکہ اسے ملکی مفادات کے منافی اور حقیقت سے دور قرار دیا۔
زہران ممدانی (Zohran Mamdani)، جو کہ اپنی سوشلسٹ (Socialist) وابستگیوں اور ترقی پسندانہ خیالات کی وجہ سے جانے جاتے ہیں، نے خبردار کیا تھا کہ امریکہ کی موجودہ قیادت وینزویلا کے خلاف فوجی طاقت کے استعمال پر غور کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن کی جانب سے پہلے ہی وینزویلا پر سخت اقتصادی پابندیاں (Economic Sanctions) عائد کی جا چکی ہیں جس سے وہاں کا عام شہری متاثر ہو رہا ہے، اور اب اگلا قدم فوجی جارحیت ہو سکتا ہے۔
ممدانی کے اس بیان نے ڈیموکریٹک پارٹی (Democratic Party) کے اندرونی حلقوں اور ریپبلکنز (Republicans) دونوں کو حیران کر دیا، کیونکہ ایک منتخب امریکی عہدیدار کی جانب سے اپنی ہی حکومت پر اس نوعیت کا الزام شاذ و نادر ہی سامنے آتا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ (Donald Trump) نے ممدانی کے اس بیانیے پر فوری ردعمل دیتے ہوئے اسے "غیر معمولی" (Unusual) اور مضحکہ خیز قرار دیا۔
ٹرمپ کا موقف ہے کہ ان کی انتظامیہ کا مقصد وینزویلا میں جمہوریت کی بحالی اور صدر نکولس مادورو (Nicolas Maduro) کی آمرانہ حکومت کا خاتمہ ہے، نہ کہ کسی ملک پر قبضہ کرنا۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ زہران ممدانی جیسے سیاست دان اس طرح کے اشتعال انگیز بیانات دے کر صرف سرخیوں میں رہنا چاہتے ہیں اور انہیں عالمی سیاست کی پیچیدگیوں کا ادراک نہیں ہے۔ ٹرمپ کی جانب سے دی گئی اس اہمیت نے ممدانی کے بیان کو مقامی سطح سے نکال کر بین الاقوامی میڈیا کی زینت بنا دیا ہے۔ وینزویلا (Venezuela) اور امریکہ کے درمیان تعلقات گزشتہ کئی سالوں سے انتہائی کشیدہ ہیں۔
امریکہ نے نکولس مادورو کو ایک غیر قانونی حکمران قرار دے رکھا ہے اور ان کی حکومت پر نایاب معدنیات اور تیل کی تجارت کے حوالے سے کئی پابندیاں لگائی ہوئی ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کی "میک امریکہ گریٹ اگین" (MAGA) پالیسی کے تحت لاطینی امریکہ میں اشتراکی (Communist) نظریات کے پھیلاؤ کو روکنا اولین ترجیح رہی ہے۔
ممدانی کے بیان نے ان خدشات کو ہوا دی ہے کہ کیا واشنگٹن واقعی کسی بڑے ایکشن کی تیاری کر رہا ہے؟ تاہم، وائٹ ہاؤس (White House) اور محکمہ خارجہ (State Department) نے مسلسل اس بات کی تردید کی ہے کہ کوئی فوجی منصوبہ زیرِ غور ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ زہران ممدانی (Zohran Mamdani) کا یہ بیان دراصل نیویارک کے میئر کے انتخاب کے لیے ان کی مہم کا ایک حصہ ہو سکتا ہے۔ نیویارک میں ایک بڑی تعداد ان ووٹرز کی ہے جو امریکی خارجہ مداخلت کے سخت خلاف ہیں، اور ممدانی اس طبقے کی نمائندگی کر کے اپنی سیاسی پوزیشن مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔
دوسری جانب صدر ٹرمپ (Donald Trump) اس موقع کو بائیں بازو کے انتہا پسندوں (Far-left radicals) کے خلاف اپنے بیانیے کو مضبوط کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ ٹرمپ کا یہ کہنا کہ یہ بیان "غیر معمولی" ہے، دراصل ایک وسیع تر سیاسی حکمت عملی کا حصہ ہے جس میں وہ اپنے مخالفین کو غیر ذمہ دار ثابت کرنا چاہتے ہیں۔
اس وقت عالمی سطح پر بھی اس بیان کے اثرات محسوس کیے جا رہے ہیں۔ وینزویلا کی حکومت نے ممدانی کے بیان کو بطور ثبوت پیش کرنا شروع کر دیا ہے کہ امریکہ ان کے خلاف سازشیں کر رہا ہے۔ اس طرح کے بیانات سفارتی سطح پر تناؤ میں اضافے کا باعث بنتے ہیں۔
امریکی عوام اور سیاسی حلقوں میں اب یہ سوال گردش کر رہا ہے کہ کیا ایک رکن اسمبلی کو بیرونی ممالک کے حساس معاملات پر اس طرح کی رائے زنی کرنی چاہیے؟ جہاں ممدانی کے حامی اسے "حق گوئی" قرار دے رہے ہیں، وہاں ٹرمپ کے حامی اسے امریکی قومی سلامتی (National Security) کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔ مستقبل میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ کیا زہران ممدانی (Zohran Mamdani) اپنے موقف پر قائم رہتے ہیں یا دباؤ میں آکر معذرت کرتے ہیں۔ فی الحال صدر ٹرمپ (Donald Trump) نے اس معاملے کو عوامی عدالت میں پیش کر دیا ہے اور یہ بحث آنے والے ہفتوں میں مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔
لاطینی امریکہ (Latin America) میں امریکی پالیسی ہمیشہ سے متنازع رہی ہے، لیکن ایک مقامی سیاست دان کا اس قدر سخت موقف اختیار کرنا اور اس پر براہ راست صدر کا جواب آنا، حالیہ تاریخ کا ایک اہم موڑ ہے۔ اس تنازع نے ثابت کر دیا ہے کہ وینزویلا کا مسئلہ اب صرف خارجہ پالیسی نہیں بلکہ امریکی مقامی سیاست کا ایک کلیدی جزو بن چکا ہے۔

