امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ (Donald Trump) نے وینزویلا (Venezuela) کی اپوزیشن لیڈر ماریہ کورینا مچاڈو (Maria Corina Machado) کے لیے نوبل امن انعام (Nobel Peace Prize) کی نامزدگی کی بھرپور حمایت کا اعلان کرتے ہوئے اسے ایک "عظیم اعزاز" قرار دیا ہے۔
نیوز ویک (Newsweek) کی رپورٹ کے مطابق، صدر ٹرمپ نے مچاڈو کی جمہوریت کے لیے جدوجہد اور وینزویلا میں آمریت کے خلاف ان کی استقامت کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس عالمی اعزاز کی حقیقی حقدار ہیں۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور وینزویلا کے درمیان تعلقات ایک انتہائی نازک موڑ پر ہیں اور واشنگٹن کی جانب سے وینزویلا کی اپوزیشن کو حاصل حمایت نے عالمی سطح پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
ماریہ کورینا مچاڈو (Maria Corina Machado) وینزویلا میں صدر نکولس مادورو (Nicolas Maduro) کے خلاف اٹھنے والی سب سے طاقتور آواز بن کر ابھری ہیں۔ صدر ٹرمپ (Donald Trump) نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری کردہ پیغام میں کہا کہ مچاڈو نے جس بہادری سے وینزویلا کے عوام کی آزادی کے لیے کام کیا ہے، اس کی مثال حالیہ تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ ٹرمپ کا موقف ہے کہ مچاڈو کی نوبل امن انعام کے لیے نامزدگی نہ صرف ان کی ذاتی کامیابی ہوگی بلکہ یہ ان لاکھوں وینزویلین عوام کی فتح ہوگی جو ایک طویل عرصے سے معاشی بدحالی اور سیاسی جبر کا سامنا کر رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ (Donald Trump) کی جانب سے اس نامزدگی کو قبول کرنے یا اس کی حمایت کرنے کے عمل کو "عظیم اعزاز" قرار دینا دراصل بیجنگ اور ماسکو جیسے ان کے حریفوں کے لیے بھی ایک پیغام ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے ہمیشہ یہ واضح کیا ہے کہ وہ مغربی نصف کرہ (Western Hemisphere) میں کسی بھی غیر جمہوری قوت کو پنپنے نہیں دے گی۔ مچاڈو کی حمایت کر کے ٹرمپ دراصل لاطینی امریکہ (Latin America) میں اپنے سیاسی اثر و رسوخ کو بڑھانے اور نکولس مادورو پر دباؤ برقرار رکھنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں۔
ماہرین کا خیال ہے کہ امریکی صدر کی اس سطح کی تائید نوبل کمیٹی (Nobel Committee) کے فیصلے پر اثر انداز ہو سکتی ہے، اگرچہ یہ ادارہ خود کو سیاسی دباؤ سے آزاد قرار دیتا ہے۔ وینزویلا (Venezuela) کے اندرونی حالات پر نظر ڈالی جائے تو مچاڈو کو وہاں کی حکومت کی جانب سے شدید مخالفت اور قانونی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ ان پر انتخابات لڑنے کی پابندی عائد کی گئی ہے، لیکن اس کے باوجود انہوں نے عوامی سطح پر اپنی مقبولیت کو برقرار رکھا ہے۔
صدر ٹرمپ (Donald Trump) نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ امریکہ وینزویلا میں شفاف انتخابات (Free and Fair Elections) کے انعقاد کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ مچاڈو کے لیے نوبل امن انعام (Nobel Peace Prize) کی مہم دراصل بین الاقوامی برادری کی توجہ اس انسانی بحران کی طرف مبذول کرانے کی ایک کوشش ہے جس نے وینزویلا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ اس نامزدگی کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ یہ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کے ایک بڑے ستون یعنی "انسانی حقوق اور جمہوریت کا تحفظ" (Protection of Human Rights and Democracy) کے مطابق ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ مچاڈو کے نام کو استعمال کر کے لاطینی نژاد امریکی ووٹرز (Latino Voters) میں اپنی مقبولیت بڑھانا چاہتے ہیں، تاہم وائٹ ہاؤس (White House) نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ مکمل طور پر اصولوں کی بنیاد پر کی جانے والی حمایت ہے۔ مچاڈو نے بھی صدر ٹرمپ کے اس بیان کا خیر مقدم کیا ہے اور اسے اپنی تحریک کے لیے ایک بڑی اخلاقی فتح قرار دیا ہے۔
دوسری جانب، نکولس مادورو (Nicolas Maduro) کی حکومت نے اس نامزدگی اور ٹرمپ کے تبصروں کو "سامراجی مداخلت" (Imperialist Interference) قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ وینزویلا کی سرکاری میڈیا کا دعویٰ ہے کہ مچاڈو امریکہ کی ایجنٹ ہیں اور انہیں نوبل انعام دلوانے کی کوششیں دراصل وینزویلا کے داخلی معاملات میں مداخلت کا ایک نیا طریقہ ہیں۔ اس بیان بازی نے دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے موجود سرد جنگ جیسی صورتحال کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔ نوبل امن انعام (Nobel Peace Prize) کی تاریخ میں پہلے بھی کئی بار سیاسی شخصیات کو نامزد کیا جاتا رہا ہے، لیکن ٹرمپ کا اس میں براہ راست دلچسپی لینا اس معاملے کو عالمی سیاست کا مرکز بنا چکا ہے۔ آنے والے مہینوں میں جب نوبل کمیٹی اپنے حتمی فیصلے کا اعلان کرے گی، تو پوری دنیا کی نظریں اس پر لگی ہوں گی۔ اگر ماریہ کورینا مچاڈو (Maria Corina Machado) یہ اعزاز جیتنے میں کامیاب ہو جاتی ہیں، تو یہ نہ صرف ان کے لیے بلکہ صدر ٹرمپ (Donald Trump) کی سفارتی کوششوں کے لیے بھی ایک بہت بڑی جیت تصور کی جائے گی۔
یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ امریکہ کس طرح بین الاقوامی اعزازات اور فورمز کو اپنی خارجہ پالیسی کے اہداف حاصل کرنے کے لیے استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ وینزویلا میں تبدیلی کی خواہش رکھنے والے لاکھوں لوگوں کے لیے یہ ایک امید کی کرن ہے، جبکہ موجودہ اقتدار کے لیے یہ ایک بڑا سیاسی چیلنج بن کر ابھرا ہے۔

