امریکی اسٹاک مارکیٹ نے سال 2026 کے پہلے کاروباری ہفتے کا اختتام ایک تاریخی ریکارڈ کے ساتھ کیا ہے، جہاں ڈاؤ جونز (Dow Jones) اور ایس اینڈ پی 500 (S&P 500) نئی بلند ترین سطحوں پر پہنچ گئے ہیں۔ اے پی نیوز (AP News)، بیرنز (Barron's) اور یاہو فنانس کی رپورٹوں کے مطابق، اس غیر معمولی اضافے کی بڑی وجوہات روزگار کے مضبوط اعداد و شمار، صدر ٹرمپ کی جانب سے توانائی کے شعبے میں بڑی رعایتوں کے اعلانات، اور مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبے میں جاری سرمایہ کاری کی لہر ہے۔ ہفتے کے آخری روز وال اسٹریٹ پر چھائے ہوئے اس جوش و خروش نے ثابت کر دیا کہ سرمایہ کار فی الحال امریکی معیشت اور نئی انتظامیہ کی پالیسیوں پر بھرپور اعتماد رکھتے ہیں۔
یاہو فنانس (Yahoo Finance) کی لائیو رپورٹ کے مطابق، نیسڈیک (Nasdaq) میں بھی بھاری اضافہ دیکھا گیا کیونکہ ٹیکنالوجی کمپنیوں نے اے آئی کی بڑھتی ہوئی مانگ سے فائدہ اٹھایا۔ ہفتے کے اختتام پر آنے والے روزگار کے ڈیٹا (Jobs Data) نے یہ ظاہر کیا کہ امریکی معیشت مہنگائی کے باوجود روزگار پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، جس سے کساد بازاری (Recession) کے خدشات کم ہو گئے ہیں۔ اس مثبت ڈیٹا کے باعث ڈالر کی قدر میں بھی استحکام دیکھا گیا ہے، جو عالمی تجارت کے لیے ایک خوش آئند اشارہ ہے۔
اے پی نیوز (AP News) نے اپنی رپورٹ میں واضح کیا کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے تیل کی پیداوار بڑھانے کے لیے زمینوں کی لیزنگ (Drill, Baby, Drill) اور ریگولیشنز میں کمی کے وعدوں نے توانائی کے شعبے (Energy Sector) میں نئی روح پھونک دی ہے۔ تیل کی قیمتوں میں استحکام اور سپلائی بڑھنے کی امید نے ٹرانسپورٹیشن اور مینوفیکچرنگ کمپنیوں کے شیئرز میں تیزی پیدا کی۔ اس کے علاوہ، اے آئی کے حوالے سے ٹرمپ کی نرم پالیسیوں نے بڑی ٹیک کمپنیوں کو اپنی تحقیق اور ڈیٹا سینٹرز پر مزید اخراجات کرنے کی ترغیب دی ہے۔
بیرنز (Barron's) کی رپورٹ کے مطابق، جہاں مارکیٹ میں جشن کا سماں ہے، وہیں کچھ ماہرین ٹیرف (Tariffs) کے حوالے سے آنے والے فیصلوں پر فکر مند ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تجارتی محصولات کے حوالے سے عدالتوں یا انتظامیہ کے حالیہ ریمارکس ڈالر کی عالمی پوزیشن پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ سرمایہ کاروں کی نظریں اب اس بات پر ہیں کہ آیا یہ "ٹرمپ ریلی" (Trump Rally) آنے والے ہفتوں میں بھی برقرار رہ پائے گی یا تجارتی پابندیوں کی وجہ سے اس میں تعطل آئے گا۔ مارکیٹ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ 2026 کے اس پہلے ہفتے کی کارکردگی نے پورے سال کے لیے ایک مثبت سمت متعین کر دی ہے۔ خاص طور پر سیمی کنڈکٹر اور انرجی اسٹاکس اس وقت سرمایہ کاروں کی پہلی ترجیح بنے ہوئے ہیں۔ "گولڈمین سیکس" اور "جے پی مورگن" کے ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر فیڈرل ریزرو نے شرح سود میں مزید نرمی کی، تو یہ تیزی مزید کئی ماہ تک جاری رہ سکتی ہے۔ تاہم، جیو پولیٹیکل حالات اور ممکنہ تجارتی جنگیں اب بھی مارکیٹ کے لیے بڑے خطرات ہیں۔
وال اسٹریٹ نے 2026 کا آغاز دھماکے دار انداز میں کیا ہے۔ ٹرمپ کی "پرو بزنس" پالیسیوں، اے آئی کے سحر اور مضبوط لیبر مارکیٹ کے امتزاج نے امریکی اسٹاکس کو بلندیوں پر پہنچا دیا ہے۔ اگرچہ ٹیرف اور تجارتی محصولات کے چیلنجز موجود ہیں، لیکن فی الحال سرمایہ کاروں کا پلڑا بھاری نظر آرہا ہے۔ آنے والے ہفتوں میں کمپنیز کے سہ ماہی نتائج (Earnings Season) یہ واضح کریں گے کہ آیا یہ ریکارڈز صرف سیاسی جوش و خروش کا نتیجہ ہیں یا معاشی بنیادیں واقعی اتنی ہی مضبوط ہیں۔

