امریکہ کے مشہور ریٹیل اسٹور میسیز (Macy's) نے اپنے بڑے پیمانے پر ری اسٹرکچرنگ پلان کے تحت متعدد شہروں میں اپنے اسٹورز بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جس سے مقامی کمیونٹیز میں تشویش اور تبدیلی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ فاکس بالٹی مور (Fox Baltimore)، ٹریب لائیو (TribLIVE) اور نیوز آبزرور (News & Observer) کی رپورٹوں کے مطابق، بالٹی مور کے مارلے اسٹیشن مال (Marley Station Mall) اور پنسلوانیا کے پِٹسبرگ میلز (Pittsburgh Mills) سمیت کئی اہم مقامات پر میسیز کے اسٹورز ہمیشہ کے لیے بند کیے جا رہے ہیں۔ یہ فیصلہ کمپنی کی اس حکمت عملی کا حصہ ہے جس کے تحت وہ غیر منافع بخش اسٹورز کو ختم کر کے اپنی توجہ صرف منافع بخش مقامات اور آن لائن فروخت پر مرکوز کرنا چاہتی ہے۔
فاکس بالٹی مور (Fox Baltimore) کی رپورٹ کے مطابق، میری لینڈ کے مارلے اسٹیشن مال میں میسیز کی بندش اس شاپنگ سینٹر کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے، جو پہلے ہی چیلنجز کا شکار تھا۔ یہ اسٹور کئی دہائیوں سے علاقے کا ایک اہم کاروباری مرکز رہا ہے، اور اب اس کی بندش سے نہ صرف سینکڑوں ملازمین متاثر ہوں گے بلکہ مال میں آنے والے خریداروں کی تعداد میں بھی نمایاں کمی آنے کا خدشہ ہے۔ مقامی انتظامیہ اب اس بات پر غور کر رہی ہے کہ اتنی بڑی جگہ کو کس طرح دوبارہ استعمال میں لایا جائے۔
ٹریب لائیو (TribLIVE) کی رپورٹ میں پنسلوانیا کے خریداروں کے جذبات کی عکاسی کی گئی ہے۔ بہت سے لوگوں نے "ایک عہد کے خاتمے" پر دکھ کا اظہار کیا ہے، لیکن کچھ لوگ پرامید بھی ہیں۔ علاقے کے رہائشی اب یہ تجویز دے رہے ہیں کہ ان خالی ہونے والی جگہوں کو صرف شاپنگ تک محدود رکھنے کے بجائے کھیلوں، تفریح (Recreation) یا کمیونٹی مراکز میں تبدیل کر دیا جائے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ "ڈیڈ مالز" (Dead Malls) کو زندہ کرنے کے لیے اب روایتی ریٹیل کے بجائے تجرباتی تفریح (Entertainment Venues) کا سہارا لینا وقت کی ضرورت بن گیا ہے۔
نیوز آبزرور (News & Observer) کے مطابق، شمالی کیرولائنا میں بھی اسی طرح کی صورتحال دیکھی جا رہی ہے جہاں میسیز کے اسٹورز کی بندش سے تجارتی رئیل اسٹیٹ (Commercial Real Estate) پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ای کامرس (E-commerce) کے بڑھتے ہوئے رجحان نے فزیکل اسٹورز کی اہمیت کم کر دی ہے، جس کی وجہ سے میسیز جیسی بڑی کمپنیاں اب چھوٹے فارمیٹ کے اسٹورز کی طرف منتقل ہو رہی ہیں۔ کمپنی کا ہدف ہے کہ وہ اگلے تین سالوں میں مجموعی طور پر 150 کے قریب اسٹورز بند کرے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ میسیز کی یہ بندش صرف ایک کمپنی کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ پورے امریکی "ڈیپارٹمنٹ اسٹور" کلچر میں آنے والی تبدیلی کی عکاسی کرتی ہے۔ خریدار اب ایک ہی چھت کے نیچے سب کچھ ڈھونڈنے کے بجائے مخصوص برانڈز یا آن لائن شاپنگ کو ترجیح دیتے ہیں۔ تاہم، ان اسٹورز کی بندش سے ہونے والا مالی نقصان اور بے روزگاری مقامی حکومتوں کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے، جنہیں اب ان مالز کے مستقبل کے لیے "ری ڈویلپمنٹ" (Redevelopment) کے نئے ماڈلز تلاش کرنے ہوں گے۔
میسیز کی حالیہ بندشوں نے امریکی ریٹیل کی دنیا میں ہلچل مچا دی ہے۔ جہاں خریدار اپنی پرانی یادوں اور سہولت کے چھن جانے پر اداس ہیں، وہیں سرمایہ کاروں کے لیے یہ ان خالی جگہوں کو جدید ضرورتوں کے مطابق ڈھالنے کا ایک موقع بھی ہے۔ آنے والے مہینوں میں یہ واضح ہو جائے گا کہ کیا یہ مالز دوبارہ آباد ہو پائیں گے یا وہ تاریخ کا حصہ بن کر رہ جائیں گے۔

