صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی صارفین کو قرضوں کے بوجھ سے نکالنے کے لیے ایک انقلابی لیکن متنازع ترین معاشی فیصلے کا اعلان کیا ہے۔ دی گارڈین (The Guardian)، بزنس انسائیڈر (Business Insider) اور ڈبلیو آئی وی بی (WIVB) کی رپورٹوں کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ نے کریڈٹ کارڈ کی شرح سود (Interest Rates) پر ایک سال کے لیے 10 فیصد کی حد (Cap) مقرر کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔
اس وقت امریکہ میں اوسطاً کریڈٹ کارڈ سود کی شرح 20 سے 30 فیصد کے درمیان ہے، اور اس اچانک کمی کے اعلان نے جہاں عام عوام میں خوشی کی لہر دوڑا دی ہے، وہی بینکاری کے شعبے اور وال اسٹریٹ کے بڑے سرمایہ کاروں میں کھلبلی مچا دی ہے۔ دی گارڈین (The Guardian) کی رپورٹ کے مطابق، صدر ٹرمپ کا موقف ہے کہ بینک عام شہریوں کا استحصال کر رہے ہیں اور 10 فیصد کی یہ حد امریکی خاندانوں کو مہنگائی کے دور میں سانس لینے کا موقع فراہم کرے گی۔
ٹرمپ نے اس اقدام کو "افورڈ ایبلٹی" (Affordability) مہم کا حصہ قرار دیا ہے۔ تاہم، بینکوں نے اس فیصلے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے "معاشی خودکشی" قرار دیا ہے۔ بینکوں کا کہنا ہے کہ سود میں اتنی بڑی کمی سے ان کا منافع ختم ہو جائے گا اور وہ مجبوراً کم آمدنی والے افراد کو کریڈٹ کارڈ جاری کرنا بند کر دیں گے۔
بزنس انسائیڈر (Business Insider) کے مطابق، مشہور ارب پتی سرمایہ کار بل ایک مین (Bill Ackman) نے صدر ٹرمپ کے اس فیصلے کو ایک "بڑی غلطی" قرار دیا ہے۔ ایک مین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ قدم سیاسی طور پر بہت مقبول ہو سکتا ہے، لیکن معاشی طور پر یہ تباہ کن ثابت ہوگا۔ ان کے مطابق، جب بینکوں کو سود سے خاطر خواہ آمدنی نہیں ہوگی، تو وہ قرض دینے کے خطرات (Risk) مول نہیں لیں گے، جس سے مارکیٹ میں سرمائے کی گردش رک جائے گی اور بالآخر یہ ان لوگوں کے لیے زیادہ نقصان دہ ہوگا جن کی مدد کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔
WIVB (AP Politics) کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بینکاری کے شعبے کے نمائندوں نے وائٹ ہاؤس کے ساتھ ہنگامی ملاقاتیں شروع کر دی ہیں۔ ماہرین کا خدشہ ہے کہ اگر 10 فیصد کی یہ حد نافذ ہو جاتی ہے، تو بینک دیگر چارجز (Late fees) میں اضافہ کر سکتے ہیں یا پھر وہ کارڈ ہولڈرز کی کریڈٹ لمیٹ (Credit Limit) میں بھاری کٹوتی کر دیں گے۔ اس وقت امریکہ میں کریڈٹ کارڈ کے مجموعی قرضے ایک ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں، اور یہ حد اس پورے مالیاتی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ سکتی ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "بینکوں نے بہت کما لیا، اب وقت ہے کہ وہ عوام کو کچھ واپس دیں"۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام 2026 کے وسطی انتخابات (Midterm Elections) سے پہلے ووٹرز کو راغب کرنے کی ایک کوشش بھی ہو سکتا ہے۔ تاہم، قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ صدر کے پاس براہ راست سود کی شرح مقرر کرنے کے اختیارات محدود ہیں اور یہ معاملہ عدالتوں میں بھی جا سکتا ہے، جہاں بینک اس فیصلے کو چیلنج کریں گے۔ معاشی حلقوں میں یہ بحث بھی چھڑ گئی ہے کہ کیا اس اقدام سے افراطِ زر (Inflation) میں کمی آئے گی یا اضافہ ہوگا۔ اگر لوگوں کے پاس خرچ کرنے کے لیے زیادہ رقم بچتی ہے، تو طلب بڑھنے سے قیمتیں دوبارہ اوپر جا سکتی ہیں۔
دوسری جانب، صارفین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے "تاریخی" قرار دیا ہے، ان کا ماننا ہے کہ یہ سود کے چکر (Debt Trap) میں پھنسے لاکھوں امریکیوں کے لیے نجات کا راستہ ہے۔
ٹرمپ کا کریڈٹ کارڈ سود پر 10 فیصد کی حد لگانا ایک ایسا معاشی تجربہ ہے جس کے نتائج کا اندازہ لگانا فی الحال مشکل ہے۔ بینکوں کی مخالفت اور بل ایک مین جیسے سرمایہ کاروں کے تحفظات کے باوجود، ٹرمپ اپنے فیصلے پر ڈٹے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اگر یہ حد نافذ ہو جاتی ہے، تو یہ امریکی بینکاری کی تاریخ کی سب سے بڑی مداخلت ہوگی، جس کے اثرات عالمی مالیاتی منڈیوں پر بھی مرتب ہوں گے۔

