Vivek Ramaswamy’s Bodyguard Charged with Federal Drug Trafficking: Fentanyl and Meth Scandal

Vivek Ramaswamy’s Bodyguard Charged with Federal Drug Trafficking: Fentanyl and Meth Scandal

امریکی سیاست میں اس وقت ایک بڑا بھونچال آ گیا ہے جب وفاقی حکام نے "ڈیپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفی شنسی" (Department of Government Efficiency) کے شریک سربراہ اور معروف کاروباری شخصیت وویک رام سوامی (Vivek Ramaswamy) کے ایک باڈی گارڈ کو منشیات کی اسمگلنگ کے سنگین الزامات میں گرفتار کر لیا ہے۔

A bodyguard for Vivek Ramaswamy faces federal charges for allegedly dealing Fentanyl, meth, and steroids. Read the full details of the investigation,

 نیویارک پوسٹ (New York Post) کی رپورٹ کے مطابق، گرفتار کیے گئے سیکیورٹی گارڈ پر الزام ہے کہ وہ بڑے پیمانے پر فینٹانیل (Fentanyl)، میتھامفیٹامین (Methamphetamine) اور اسٹیرائڈز (Steroids) کی خرید و فروخت میں ملوث تھا۔ یہ گرفتاری ایک ایسے وقت میں عمل میں آئی ہے جب وویک رام سوامی خود حکومتی ڈھانچے میں اصلاحات اور بدعنوانی کے خاتمے کے لیے صدر ٹرمپ (Donald Trump) کے دستِ راست کے طور پر کام کر رہے ہیں۔


 وفاقی استغاثہ (Federal Prosecutors) کے مطابق، ملزم جس کی شناخت ایک نجی سیکیورٹی کمپنی کے ملازم کے طور پر ہوئی ہے، طویل عرصے سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ریڈار پر تھا۔ تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ وہ نہ صرف خطرناک منشیات جیسے فینٹانیل (Fentanyl) کی اسمگلنگ میں ملوث تھا، بلکہ وہ غیر قانونی طور پر اسٹیرائڈز (Steroids) کی تقسیم کا نیٹ ورک بھی چلا رہا تھا۔


 نیویارک پوسٹ (New York Post) نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ملزم کی سرگرمیاں اس وقت بھی جاری تھیں جب وہ وویک رام سوامی (Vivek Ramaswamy) کی انتخابی مہم یا سرکاری دوروں کے دوران ان کی حفاظت پر مامور تھا۔ اگرچہ وویک رام سوامی کا اس غیر قانونی دھندے سے کوئی براہ راست تعلق تاحال سامنے نہیں آیا، لیکن ان کے قریبی حلقے میں موجود شخص کی گرفتاری نے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ وویک رام سوامی (Vivek Ramaswamy) کی ٹیم نے اس واقعے پر فوری ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ مذکورہ شخص کے انفرادی افعال سے مکمل طور پر لاعلم تھے۔


 ایک ترجمان نے بیان جاری کیا کہ یہ باڈی گارڈ ایک تیسرے فریق (Third-party Security Firm) کے ذریعے فراہم کیا گیا تھا اور اس کے خلاف لگائے گئے الزامات انتہائی تشویشناک ہیں۔ وویک رام سوامی نے خود بھی اس معاملے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ منشیات بالخصوص فینٹانیل (Fentanyl) کے خلاف زیرو ٹالرنس (Zero Tolerance) کی پالیسی رکھتے ہیں اور وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مکمل حمایت کرتے ہیں تاکہ اس لعنت کا خاتمہ ہو سکے۔


 وفاقی تحقیقاتی ادارے (FBI) اور منشیات کے خلاف مہم چلانے والے ادارے (DEA) نے اس آپریشن کے دوران بڑی مقدار میں منشیات برآمد کی ہیں۔ استغاثہ کا دعویٰ ہے کہ ملزم ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا استعمال کرتے ہوئے گاہکوں سے رابطہ کرتا تھا اور منشیات کی ترسیل کے لیے جدید طریقے استعمال کرتا تھا۔ 


یہ معاملہ صدر ٹرمپ (Donald Trump) کی انتظامیہ کے لیے بھی ایک سیاسی چیلنج بن سکتا ہے کیونکہ ٹرمپ نے اپنی مہم کے دوران بارہا منشیات کے ڈیلروں کے لیے "سزائے موت" (Death Penalty) کی حمایت کی ہے۔ اب جبکہ ان کی اپنی ٹیم کے ایک اہم رکن کا قریبی محافظ اس جرم میں پکڑا گیا ہے، مخالفین اسے سیاسی تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ وی آئی پی (VIP) شخصیات کی حفاظت پر مامور عملے کی "بیک گراؤنڈ چیکنگ" (Background Checking) کے نظام میں موجود خامیوں کو بے نقاب کرتا ہے۔ وویک رام سوامی (Vivek Ramaswamy) جیسے ہائی پروفائل سیاست دان، جو نظام میں بڑی تبدیلیاں لانے کا دعویٰ کرتے ہیں، ان کے لیے اس طرح کا اسکینڈل اخلاقی طور پر نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ 


نیویارک پوسٹ (New York Post) کے مطابق، ملزم کو وفاقی عدالت میں پیش کیا گیا ہے جہاں اس پر منشیات کی اسمگلنگ (Drug Trafficking) کی متعدد دفعات لگائی گئی ہیں، جن میں جرم ثابت ہونے کی صورت میں اسے کئی دہائیوں کی قید ہو سکتی ہے۔ اس اسکینڈل نے ایک بار پھر امریکہ میں فینٹانیل (Fentanyl) کے بڑھتے ہوئے بحران کی سنگینی کو واضح کر دیا ہے۔


 فینٹانیل ایک ایسی مہلک منشیات ہے جو ہر سال ہزاروں امریکیوں کی موت کا باعث بنتی ہے، اور اب اس کی جڑیں سیاسی شخصیات کے حفاظتی حصار تک پہنچنا خطرناک گھنٹی ہے۔ وویک رام سوامی (Vivek Ramaswamy) کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اس واقعے سے ان کی ساکھ متاثر نہیں ہونی چاہیے کیونکہ وہ خود کسی غلط کام میں ملوث نہیں ہیں، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ "گورنمنٹ ایفی شنسی" کا دعویٰ کرنے والوں کو پہلے اپنے اردگرد کے ماحول کو صاف کرنا چاہیے۔ آنے والے دنوں میں اس کیس کی مزید تفصیلات سامنے آنے کی توقع ہے، جس میں یہ دیکھا جائے گا کہ آیا کسی اور سیکیورٹی اہلکار کا بھی اس نیٹ ورک سے کوئی تعلق تھا۔

 صدر ٹرمپ (Donald Trump) نے تاحال اس مخصوص واقعے پر کوئی براہ راست تبصرہ نہیں کیا، لیکن وہ مسلسل منشیات کے کارٹلز اور مقامی ڈیلروں کے خلاف کریک ڈاؤن کی باتیں کر رہے ہیں۔ وویک رام سوامی (Vivek Ramaswamy) کے لیے یہ ایک بڑا امتحان ہے کہ وہ کس طرح اس سیاسی بحران سے نکلتے ہیں اور اپنے مشن کو جاری رکھتے ہیں۔ یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ منشیات کا زہر امریکی معاشرے کے ہر طبقے میں کس حد تک سرایت کر چکا ہے۔