جدید طبی تحقیق نے ذہنی صحت کے حوالے سے ایک ایسا انکشاف کیا ہے جس نے دنیا بھر کے ماہرینِ نفسیات کو حیران کر دیا ہے۔ نیویارک پوسٹ (New York Post) میں شائع ہونے والی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق، طرزِ زندگی میں کی جانے والی محض ایک تبدیلی ڈپریشن (Depression) اور ذہنی دباؤ کے خلاف اتنی ہی مؤثر ثابت ہو سکتی ہے جتنی کہ اینٹی ڈپریسنٹ (Antidepressants) ادویات۔
یہ مطالعہ برٹش جرنل آف اسپورٹس میڈیسن (British Journal of Sports Medicine) میں شائع ہوا ہے، جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ جسمانی سرگرمی یا ورزش (Physical Activity) کا باقاعدہ استعمال ذہنی صحت کو بہتر بنانے میں کسی بھی طبی نسخے سے کم نہیں ہے۔ اس تحقیق نے ان لاکھوں مریضوں کے لیے ایک نئی امید پیدا کر دی ہے جو ادویات کے مضر اثرات (Side Effects) سے ڈرتے ہیں۔
تحقیق کے مطابق، روزانہ کی بنیاد پر صرف 30 سے 45 منٹ کی ورزش، جیسے کہ تیز چلنا (Brisk Walking)، جاگنگ (Jogging) یا یوگا (Yoga)، انسانی دماغ میں اینڈورفنز (Endorphins) پیدا کرتی ہے جو قدرتی طور پر موڈ کو خوشگوار بناتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ طرزِ عمل ان لوگوں کے لیے خاص طور پر فائدہ مند ہے جو درمیانے درجے کے ڈپریشن (Moderate Depression) کا شکار ہیں۔
تحقیق میں یہ بھی پایا گیا کہ ورزش نہ صرف ذہنی تناؤ کو کم کرتی ہے بلکہ یہ انسان کے خواب آور نظام (Sleep Cycle) کو بھی بہتر بناتی ہے، جو کہ ذہنی صحت کی بحالی کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ اس مطالعے کے سربراہ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ ورزش کے اثرات اینٹی ڈپریسنٹ (Antidepressants) ادویات کے مقابلے میں زیادہ دیرپا ہوتے ہیں۔ جہاں ادویات کو اثر دکھانے میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں، وہیں جسمانی سرگرمی کے مثبت اثرات فوری طور پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
اس کے علاوہ، ورزش کا کوئی مالی بوجھ نہیں ہوتا اور نہ ہی اس کے وہ منفی اثرات ہوتے ہیں جو عام طور پر نفسیاتی ادویات کے ساتھ منسلک کیے جاتے ہیں، جیسے کہ وزن کا بڑھنا یا ہر وقت غنودگی محسوس ہونا۔ ماہرین نفسیات اب مریضوں کو علاج کے ابتدائی مرحلے میں "اسپورٹس تھراپی" (Sports Therapy) تجویز کرنے پر زور دے رہے ہیں۔
نیویارک پوسٹ (New York Post) کی رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ ورزش کا تعلق صرف جسمانی ساخت سے نہیں بلکہ یہ "نیوروپلاسٹی سٹی" (Neuroplasticity) میں بھی اضافہ کرتی ہے، جس کا مطلب ہے کہ دماغ کے خلیات نئے اور مثبت رابطے قائم کرتے ہیں۔ جب کوئی شخص باقاعدگی سے ورزش کرتا ہے، تو اس کے دماغ میں تناؤ پیدا کرنے والے ہارمون "کارٹیسول" (Cortisol) کی سطح گر جاتی ہے۔
اس مطالعے میں ہزاروں شرکاء کا ڈیٹا استعمال کیا گیا، جس سے یہ ثابت ہوا کہ جن لوگوں نے ادویات کے بجائے ورزش کو ترجیح دی، ان میں ڈپریشن کے دوبارہ حملے کے امکانات بہت کم دیکھے گئے۔
عالمی ادارہ صحت (World Health Organization) کے اعداد و شمار کے مطابق، دنیا بھر میں کروڑوں لوگ ڈپریشن کا شکار ہیں، اور ان میں سے ایک بڑی تعداد ادویات تک رسائی نہیں رکھتی۔ ایسی صورتحال میں یہ تحقیق ایک سستا اور قابلِ عمل حل پیش کرتی ہے۔ "طرزِ زندگی میں تبدیلی" (Lifestyle Modification) اب محض ایک مشورہ نہیں رہا بلکہ ایک مستند طبی علاج بن چکا ہے۔
محققین کا مشورہ ہے کہ اگر آپ ذہنی طور پر تھکاوٹ یا مایوسی محسوس کر رہے ہیں، تو ماہرِ نفسیات کے پاس جانے سے پہلے اپنے روزمرہ کے معمولات میں تھوڑی سی جسمانی مشقت شامل کر کے دیکھیں۔ اس تحقیق کا ایک اور دلچسپ پہلو یہ ہے کہ اجتماعی ورزش یا "گروپ ایکٹیویٹی" (Group Activity) جیسے کہ فٹ بال کھیلنا یا کسی جم (Gym) میں جانا، سماجی روابط کو بھی بہتر بناتا ہے۔ تنہائی ڈپریشن کی سب سے بڑی وجہ ہے، اور جب انسان دوسروں کے ساتھ مل کر کوئی جسمانی کام کرتا ہے، تو اس کی سماجی صحت (Social Health) بھی بہتر ہوتی ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر حکومتیں پبلک پارکس اور کھیلوں کے میدانوں پر زیادہ سرمایہ کاری کریں، تو قومی سطح پر ذہنی امراض کے بوجھ کو نمایاں طور پر کم کیا جا سکتا ہے۔ آخر میں، یہ سمجھنا ضروری ہے کہ یہ تحقیق ان لوگوں کے لیے ہے جو ابتدائی یا درمیانے درجے کے مسائل کا شکار ہیں۔
شدید نوعیت کے ڈپریشن (Severe Depression) میں ڈاکٹر کے مشورے اور ادویات کی ضرورت ہو سکتی ہے، لیکن اس کے ساتھ بھی ورزش کو بطور مددگار علاج (Supportive Therapy) استعمال کرنا نتائج کو حیرت انگیز حد تک بہتر بنا دیتا ہے۔ طرزِ زندگی کی یہ ایک چھوٹی سی تبدیلی آپ کی زندگی کو ادویات کے چکر سے نکال کر ایک صحت مند اور خوشحال مستقبل کی طرف لے جا سکتی ہے۔ اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم کیپسول اور گولیوں پر بھروسہ کرتے ہیں یا اپنی قدرتی توانائی کو بروئے کار لاتے ہیں۔

