مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) کی تیزی سے بڑھتی ہوئی طاقت نے جہاں دنیا کو حیرت میں ڈال رکھا ہے، وہاں ماہرین اور عام شہریوں کے ذہنوں میں ایک خوفناک سوال بھی پیدا کر دیا ہے: کیا "اے آئی قیامت" (AI Apocalypse) ناگزیر ہو چکی ہے؟
نیوز ویک (Newsweek) کی ایک حالیہ رپورٹ میں اس سنگین موضوع کا احاطہ کیا گیا ہے کہ کیا مستقبل میں مشینیں انسانوں پر غالب آ جائیں گی اور اگر ایسا ہے تو ایک عام انسان اس ممکنہ بحران سے بچنے کے لیے کیا کر سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کوئی سائنس فکشن فلم کا منظر نامہ نہیں رہا بلکہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کی تیاری ہمیں آج سے ہی کرنی ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق، اے آئی (AI) کے حوالے سے سب سے بڑا خطرہ "سپر انٹیلی جنس" (Super Intelligence) کا ظہور ہے، جہاں مشینیں انسانی کنٹرول سے باہر ہو کر خود مختار فیصلے کرنے لگیں گی۔ بہت سے ٹیکنالوجی ماہرین بشمول ایلون مسک (Elon Musk) اور دیگر محققین نے انتباہ جاری کیا ہے کہ اگر اے آئی کے اخلاقی ضوابط (Ethical Guidelines) اور حفاظتی حصار (Alignment) کو درست نہ کیا گیا تو یہ انسانی وجود کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
تاہم، نیوز ویک (Newsweek) کی رپورٹ میں مایوسی پھیلانے کے بجائے عملی اقدامات پر زور دیا گیا ہے کہ کس طرح ٹیکنالوجی کے اس طوفان میں اپنی جگہ بنائی جائے۔ پہلا اہم قدم جو ہر فرد اٹھا سکتا ہے وہ ہے "اے آئی لٹریسی" (AI Literacy) یعنی مصنوعی ذہانت کے بارے میں بنیادی علم حاصل کرنا۔
ماہرین کا مشورہ ہے کہ ٹیکنالوجی سے ڈرنے کے بجائے اسے سمجھنے کی کوشش کریں۔ یہ جاننا ضروری ہے کہ اے آئی ٹولز (AI Tools) کیسے کام کرتے ہیں اور آپ کے پیشہ ورانہ شعبے میں ان کا کیا کردار ہے۔ جو لوگ ان ٹولز کو استعمال کرنا سیکھ لیں گے، وہ ملازمتوں کے خاتمے کے خطرے (Job Displacement) سے محفوظ رہیں گے۔
مستقبل ان لوگوں کا ہے جو مشینوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے، نہ کہ ان کا جو مشینوں سے مقابلہ کرنے کی کوشش کریں گے۔
دوسرا اہم نکتہ "انسانی مہارتوں" (Human Skills) کی اہمیت کو سمجھنا ہے۔ اے آئی (AI) ڈیٹا پروسیسنگ، ریاضیاتی حساب کتاب اور تکرار والے کاموں میں انسانوں سے بہتر ہو سکتی ہے، لیکن اس میں جذبات (Empathy)، تخلیقی سوچ (Critical Thinking) اور اخلاقی فیصلہ سازی (Moral Judgment) کی کمی ہے۔ نیوز ویک (Newsweek) کے مطابق، ہمیں اپنی ان قدرتی انسانی صلاحیتوں کو مزید نکھارنے کی ضرورت ہے۔
قیادت، ٹیم ورک اور پیچیدہ مسائل کا انسانی حل ڈھونڈنے جیسی مہارتیں ہمیشہ ناگزیر رہیں گی، چاہے اے آئی کتنی ہی ترقی کیوں نہ کر جائے۔ ڈیجیٹل سیکیورٹی اور پرائیویسی (Privacy) کے حوالے سے بھی رپورٹ میں اہم ہدایات دی گئی ہیں۔ اے آئی کے دور میں "ڈیپ فیک" (Deepfakes) اور غلط معلومات (Misinformation) کا پھیلاؤ ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ ایک عام شہری کے طور پر، آپ کو کسی بھی معلومات کی تصدیق (Fact-checking) کیے بغیر اس پر یقین کرنے کی عادت چھوڑنی ہوگی۔ اپنے ڈیجیٹل فٹ پرنٹ (Digital Footprint) کو محفوظ بنانا اور انٹرنیٹ پر شیئر کیے جانے والے ڈیٹا کے بارے میں محتاط رہنا اب ایک ضرورت بن چکا ہے تاکہ آپ کی شناخت کو کسی غلط مقصد کے لیے استعمال نہ کیا جا سکے۔
حکومتی اور عالمی سطح پر، ماہرین کا مطالبہ ہے کہ اے آئی کی ترقی کے لیے سخت قوانین (Regulations) بنائے جائیں۔ جس طرح ایٹمی توانائی کے لیے عالمی ادارے موجود ہیں، اسی طرح مصنوعی ذہانت کی نگرانی کے لیے بھی ایک مضبوط ڈھانچہ ہونا چاہیے۔ شہریوں کو چاہیے کہ وہ ان پالیسیوں اور بحثوں میں حصہ لیں جو ٹیکنالوجی کے اخلاقی استعمال سے متعلق ہیں۔ اگر عوام باشعور ہوں گے تو وہ حکومتوں پر دباؤ ڈال سکیں گے کہ وہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کو ایسے الگورتھم بنانے سے روکیں جو معاشرتی تانے بانے کے لیے نقصان دہ ہوں۔
یہ سمجھنا ضروری ہے کہ "اے آئی قیامت" (AI Apocalypse) کا تصور صرف تباہی تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ انسانی تہذیب کی منتقلی کا ایک مرحلہ بھی ہو سکتا ہے۔ اگر ہم ہوشیاری اور تدبر سے کام لیں تو مصنوعی ذہانت بیماریوں کے علاج، موسمیاتی تبدیلیوں (Climate Change) کے حل اور انسانی زندگی کو سہل بنانے میں بہترین مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ فیصلہ ٹیکنالوجی کے ہاتھ میں نہیں بلکہ ان انسانوں کے ہاتھ میں ہے جو اسے تخلیق کر رہے ہیں اور استعمال کر رہے ہیں۔ اپنی سوچ کو مثبت رکھتے ہوئے ٹیکنالوجی کے نئے دور کے لیے خود کو تیار کرنا ہی اس "قیامت" سے بچنے کا واحد راستہ ہے۔

