Trump’s Subtle Warning to Xi Jinping: China’s Reaction and the Escalating US-China Conflict 2025

Trump’s Subtle Warning to Xi Jinping: China’s Reaction and the Escalating US-China Conflict 2025

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ (Donald Trump) اور چینی صدر شی جن پنگ (Xi Jinping) کے درمیان عالمی سیاست اور معیشت کی بساط پر ایک نئی جنگ کا آغاز ہو چکا ہے۔ حالیہ دنوں میں نیوز ویک (Newsweek) کی ایک رپورٹ نے عالمی سطح پر ہلچل مچا دی ہے، جس میں صدر ٹرمپ کی جانب سے صدر شی کو دیے گئے ایک "خفیہ اشارے" یا انتباہ کا تذکرہ کیا گیا ہے۔

Explore Donald Trump’s latest "subtle warning" to Xi Jinping over Taiwan and trade. Read about China's fierce reaction, the 100% tariff threat, urdu

 یہ انتباہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں سپر پاورز کے درمیان تجارتی جنگ (Trade War) اور تائیوان (Taiwan) کے مسئلے پر کشیدگی اپنی انتہا کو چھو رہی ہے۔ ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت کے آغاز کے ساتھ ہی امریکہ نے چین کے خلاف اپنی پالیسیوں کو مزید سخت کر دیا ہے، جس کا مقصد امریکی معیشت کو تحفظ فراہم کرنا اور چین کے بڑھتے ہوئے عالمی اثر و رسوخ کو روکنا ہے۔


 صدر ٹرمپ نے حال ہی میں ایک انٹرویو کے دوران تائیوان پر چینی حملے کے خدشات پر بات کرتے ہوئے انتہائی محتاط مگر معنی خیز انداز اپنایا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا امریکہ تائیوان کے دفاع کے لیے فوجی مداخلت کرے گا، تو انہوں نے واضح جواب دینے کے بجائے کہا کہ "شی جن پنگ جانتے ہیں کہ اس کا انجام کیا ہوگا"۔ ٹرمپ کا یہ جملہ دراصل بیجنگ کے لیے ایک خاموش مگر طاقتور وارننگ (Warning) ہے کہ واشنگٹن کسی بھی جارحیت کی صورت میں خاموش نہیں بیٹھے گا۔ 


ماہرین کا خیال ہے کہ ٹرمپ کی یہ "تزویراتی ابہام" (Strategic Ambiguity) کی پالیسی چین کو کسی بھی بڑے فوجی اقدام سے باز رکھنے کے لیے ایک سوچی سمجھی چال ہے۔ اس کے ساتھ ہی، ٹرمپ نے اقتصادی محاذ پر بھی چین کو گھیرنے کی تیاری مکمل کر لی ہے، جہاں وہ سینکڑوں فیصد ٹیرف (Tariffs) لگانے کی دھمکی دے چکے ہیں۔


 چین نے ٹرمپ کے ان بیانات اور دھمکیوں پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ چینی وزارت خارجہ (Ministry of Foreign Affairs) کے ترجمان نے اپنے ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ چین کسی بھی قسم کی تجارتی جنگ سے نہیں ڈرتا اور اپنی خودمختاری اور معاشی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گا۔

 بیجنگ نے ٹرمپ کی جانب سے لگائے جانے والے ٹیرف کو "اقتصادی دہشت گردی" قرار دیتے ہوئے جوابی کارروائی کے طور پر نایاب معدنیات (Rare Earth Minerals) کی برآمدات پر پابندیاں عائد کرنے کا اشارہ دیا ہے۔ یہ معدنیات امریکی ٹیکنالوجی اور دفاعی صنعت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں، اور ان کی سپلائی میں رکاوٹ امریکی کمپنیوں کے لیے ایک بڑا بحران پیدا کر سکتی ہے۔


 تجارتی محاذ پر کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب صدر ٹرمپ نے چین سے آنے والی درآمدات پر 100 فیصد سے زائد ٹیرف (Tariffs) لگانے کا اعلان کیا۔ ٹرمپ کا موقف ہے کہ چین برسوں سے امریکی ٹیکنالوجی کی چوری (Technology Theft) اور غیر منصفانہ تجارتی طریقوں کے ذریعے امریکی معیشت کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ اس کے جواب میں چین نے بھی امریکی زرعی مصنوعات بالخصوص سویابین (Soybeans) کی درآمد روکنے کی دھمکی دی ہے، جو امریکی کسانوں کے لیے ایک بڑا دھچکا ہو سکتا ہے۔


 معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان یہ تصادم جاری رہا تو اس کے اثرات صرف ان دو ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کی معیشت ایک بڑے بحران (Global Recession) کا شکار ہو سکتی ہے۔ صدر ٹرمپ کی حکمت عملی کا ایک اہم پہلو "طاقت کے ذریعے امن" (Peace through Strength) کا نظریہ ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ چین صرف طاقت کی زبان سمجھتا ہے، اس لیے وہ سفارتی مذاکرات کے ساتھ ساتھ فوجی اور معاشی دباؤ کو بھی بروئے کار لا رہے ہیں۔ دوسری جانب، صدر شی جن پنگ (Xi Jinping) بھی اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں اور انہوں نے چینی عوام کو ایک "طویل جدوجہد" کے لیے تیار رہنے کا مشورہ دیا ہے۔


 حالیہ مہینوں میں جنوبی چین کے سمندر (South China Sea) میں چینی بحریہ کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں اور امریکہ کے ساتھ اتحادی ممالک جیسے جاپان (Japan) اور آسٹریلیا (Australia) کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعاون نے خطے میں جنگ کے بادل مزید گہرے کر دیے ہیں۔ مستقبل قریب میں ٹرمپ اور شی جن پنگ کے درمیان ایک ممکنہ ملاقات کی خبریں بھی گردش کر رہی ہیں، لیکن تاحال دونوں جانب سے کسی لچک کا مظاہرہ نہیں کیا گیا۔

 ٹرمپ کی جانب سے "شی کو سب معلوم ہے" والا بیان دراصل اس ملاقات سے قبل ایک نفسیاتی برتری حاصل کرنے کی کوشش ہے۔ چین کے لیے اب سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ کس طرح ٹرمپ کی غیر متوقع پالیسیوں کا مقابلہ کرتا ہے جبکہ اپنی معاشی ترقی کی رفتار کو بھی برقرار رکھتا ہے۔ عالمی برادری اس وقت سانس روکے ان دو بڑوں کے درمیان جاری اس "خونی کھیل" کو دیکھ رہی ہے، کیونکہ ان کا ہر فیصلہ آنے والی دہائیوں کے عالمی منظر نامے کو تبدیل کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔